سعودی وزارت افرادی قوت کی ٹیموں نے رواں برس کے آغاز سے 16 اگست تک مختلف شہروں میں 9 لاکھ سے زائد تفتیشی دورے کیے۔
ایس پی اے کے مطابق تفتیشی دوروں کا مقصد تجارتی اداروں کے لیے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزیوں کا تدارک کرنا اور عمل نہ کرنے والوں سے پر جرمانے عائد کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
وزارت کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ’ تفتیشی ٹیموں نے قانونِ محنت کی 98 ہزار 462 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔‘
اداروں کی انتظامیہ کو انتباہی نوٹسز جاری کیے گئے جس میں اصلاح حال کا وقت دیا گیا ہے، اس دوران خلاف ورزیوں کو درست نہ کرانے پر ادارے کو سیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’مقامی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ توجہ سعودائزیشن کے قانون پردی جاتی ہے جس کا مقصد مقامی شہریوں کو زیادہ سےزیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور مارکیٹوں کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔‘
تفتیشی ٹیموں نے سعودائزیشن کے حوالے سے 5 لاکھ 86 ہزار 104 تفتیشی دورے کیے جن میں 15 ہزار 877 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جن میں سعودیوں کے لیے مخصوص پیشوں پرغیرملکیوں کو ملازمت فراہم کی جارہی تھی۔
وزارت کا کہنا تھا’ مملکت میں سعودائزیش کو کامیاب بنانے کے لیے ہرسطح پر کام جاری ہے، جس کا مقصد مقامی افراد کو زیادہ سے زیادہ روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔‘