سعودی عرب: شرعان اور وادی نخلہ ریزروز ’ڈارک سکائی‘ مقامات میں شامل
جمعرات 25 دسمبر 2025 0:01
العلا کے رائل کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ڈارک سکائی انٹرنیشنل نے شرعان اور وادیِ نخلہ ریزروز کو باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔ اب ان دونوں جگہوں کو انٹرنیشنل ڈارک سکائی کے مقامات میں شمار کیا جائے گا۔
ایس پی اے کے مطابق اس منظوری کے بعد یہ دونوں مقامات دنیا بھر کی ان 250 سائٹس میں شامل ہو گئے ہیں جنھیں روشنی کی آلودگی سے پاک قرار دیا جاتا ہے۔
ڈارک سکائی انٹرنیشنل کی جانب سے منظوری سے کچھ عرصہ پہلے، العلا کا ایک اور نمایاں کارنامہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب العلا منارہ اور الغرامیل نیچر ریزرو، مملکت اور خلیج کے ریجن میں پہلی ایسی سائٹس بن گئی تھیں جنھیں ڈاک سکائی پارک کا مرتبہ دیا گیا تھا۔
تاہم اب شرعان اور وادیِ نخلہ کے ریزروز کی باضابطہ منظوری، نائٹ سکائی کے تحفظ اور فلکیاتی سیاحتی مقام کی حیثیت میں، العلا کی پوزیشن کو ایک نمایاں بین الاقوامی منزل کے طور پر مزید مضبوط کرتی ہے۔

شرعان اور وادیِ نخلہ کے ریزروز کا مشترکہ رقبہ 6146 سکوائر کلومیٹر ہے جو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے جو العلا کے بے عیب اور صاف ستھرے نائٹ سکائی کے تحفظ اور ایک بہت بڑے رقبۂ زمین پر روشنی کی آلودگی میں کمی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ڈارک سکائی کو محفوظ کرنا العلا کے رائل کمیشن کے ان مقاصد سے ہم آہنگ ہے جن کے تحت علاقے کے زرخیز ورثے اور قدرتی میراث کو تحفظ دینا، اس کی قدر کرنا اور سراہنا، جنگلی حیات کو محفوظ رکھنے میں تعاون پیش کرنا، ایک پائیدار ماحول فراہم کرنا اور ستارہ بینی میں اضافے کی کوششیں شامل ہیں۔
العلا کے انتہائی شفاف آسمانوں میں کئی ستاروں کو دور بین کے بغیر کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان مناظر کو دیکھنے کے لیے جدید ترین فلکیاتی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔

ڈارک سکائی انٹرنیشنل، روشنی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے شہری اور دیہی علاقوں میں کام کرتی ہے۔
اس کا ایک کردار نائٹ سکائی کو محفوظ کرنے کی اہمیت کے لیے آگاہی میں اضافہ کرنا بھی ہے۔
اس تنظیم کی طرف سے العلا کے دو مقامات کی، روشنی کی آلودگی سے محفوظ ہونے کی باقاعدہ منظوری، رائل کمیشن کے اس عزم کا اظہار ہے جو وہ فلکیاتی سیاحت، خلائی سائنس اور سائنسی دریافتوں اور تحقیق کے لیے کر رہا ہے۔

کمیشن نے ماضی میں اعلان کیا تھا کہ العلا کی منارہ رصدگاہ کا آغاز، سائنسی تحقیق، جدت اور پائیدار معاشی مواقع کے لیے ایک مخصوص منزل پر منتج ہوگا۔
توقع ہے یہ رصد گاہ مملکت میں سائنسی تحقیق کا ایک شاندار سنگِ میل ثابت ہوگی جہاں دنیا بھر سے اسے دیکھنے کے لیے آنے والوں کو ستارہ بینی کا بہترین اور ناقابلِ فراموش تجربہ حاصل ہوگا۔
