شہزادہ ترکی نے سعودی صحرا کی’ ڈارک سکائی سائٹس‘ کا دورہ کیا
اہل علاقہ سے ملاقات اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر مملکت و امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزورڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین شہزادہ ترکی بن محمد بن فہد نے ریزور کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔
انہوں نے اہل علاقہ سے ملاقات اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کی۔
حائل ریجن کے نائب گورنر شہزادہ فیصل بن فہد بن مقرن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
ایس پی اے کے مطابق وزیر مملکت شہزادہ ترکی بن محمد بن فہد نے صحرائے نفود کی ڈارک سکائی سائٹس کا دورہ کیا جسے ’ڈراک سکائی انٹر نیشنل کمیٹی کی فہرست میں درج کیا گیا ہے۔
اس موقع پر انہیں روشنی کی آلودگی کو کم کرنے اور ڈارک سکائی کے انتظام کے لیے بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ معیارات پرعمل درآمد کے لیے اتھارٹی کی جانب سے کی جانے والی سائنسی و تنظیمی کوششوں کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزورڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین نے اس بات کی تصدیق کی کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں مملکت کی اعلی قیادت کی بھرپور حمایت اور توجہ کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’عظیم صحرائے نفود کی ڈارک سائٹس کو بین الاقوامی ماحولیات اقدامات کے تحت رجسٹر کیے جانا مملکت کی پوزیشن کو بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قومی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔‘
انٹرنیشنل ریسرچ کے مطابق دنیا کی تقریبا 80 فیصد آبادی روشنی سے آلودہ آسمان کے نیچے رہتی ہے۔ تاریک علاقوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت میں اضافہ ہورہا ہے ۔

عظیم صحرائے نفود امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو میں واقع ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ سب سے بڑا علاقہ ہے جس کا رقبہ 13416 کلومیٹر مربع ہے جو دنیا بھر کے 250 سے زیادہ علاقوں میں شامل ہے جو روشنی کی آلودگی سے محفوظ ہیں۔
واضح رہے انٹرنیشنل ڈارک سکائی ایسوسی ایشن کا قیام امریکہ میں سال 1988 میں ہوا تھا جو دنیا بھر میں سیاہ آسمان والی سائٹس کا مطالعہ کرکے فہرست میں درج کرتے ہیں۔
اس وقت چھ بڑے براعظموں کے 22 ممالک میں ایک لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر صحرائی علاقہ رجسٹرڈ ہے جو روشنی کی آلودگی سے محفوظ ہے۔
