شمالی افغانستان میں سونے کی کان کنی پر تنازع، ہلاکتوں کی اطلاعات
شمالی افغانستان میں سونے کی کان کنی پر تنازع، ہلاکتوں کی اطلاعات
منگل 6 جنوری 2026 16:52
اس تصادم کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں (فوٹو: ویڈیو گریب)
شمالی افغانستان کے صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی کے معاملے پر مقامی آبادی اور ایک نجی کمپنی کے ملازمین کے درمیان ہونے والا تصادم شدید نوعیت اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان حکام اور مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع چاه آب میں اس وقت پیش آیا جب ایک کنٹریکٹ یافتہ کمپنی کے ملازمین اور علاقے کے مکینوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں بدل گئی۔
افغانستان کی وزارت معدنیات اور پیٹرولیم کے ترجمان ہمایوں افغان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے صورتحال کا جائزہ لینے اور ہلاکتوں کی اصل تعداد سمیت دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ تاہم فی الحال سرکاری طور پر ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی حتمی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔
تخار کے حکام اور طبی عملے کے افراد نے ہلاکتوں سے متعلق اے ایف پی کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اس تصادم کی بنیادی وجہ دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے کان کنوں کا رویہ اور مقامی وسائل کا استعمال بنی۔
ایک مقامی رہائشی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ باہر سے آئے ہوئے کان کنوں نے مبینہ طور پر نہ صرف مقامی لوگوں کو ہراساں کیا بلکہ ان کی سرگرمیوں سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا وہ نظام بھی متاثر ہوا جس پر پوری مقامی آبادی کا انحصار تھا۔
افغانستان کے پہاڑی سلسلے معدنیات کے لحاظ سے انتہائی مالامال تصور کیے جاتے ہیں (فوٹو: ویڈیو گریب)
اس صورتحال نے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور مظاہرین نے پتھروں اور لاٹھیوں سے کان کنوں کے خلاف مزاحمت شروع کر دی جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور کمپنی کے ملازمین کو علاقہ چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔
افغانستان کے پہاڑی سلسلے معدنیات کے لحاظ سے انتہائی مالامال تصور کیے جاتے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں تانبے، لیتھیم، سونے، سنگ مرمر اور دیگر قیمتی پتھروں کے قریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے ذخائر موجود ہیں۔
طالبان حکومت غیرملکی امداد میں کمی کے بعد ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ان زیر زمین وسائل کو بروئے کار لانے پر خاص توجہ دے رہی ہے اور مقامی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو کان کنی کے شعبے میں ترغیب دی جا رہی ہے۔