بنگال میں ممتا کا ’بینر‘ کیسے اُترا؟ اجمل جامی کا کالم
یعنی صرف 13 لاکھ ووٹوں کا فرق مگر بی جے پی کی نشستیں207 اور ترنمول کانگریس کی محض 80۔ ہے نا عجیب حساب؟ یہ کہانی انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کی ہے جہاں بظاہر مودی راج نے تاریخی فتح حاصل کی مگر اس جیت کا پلاٹ کسی سیاسی تھرلر یا بھارتی فلم کے سکرپٹ سے کم نہیں۔
سوال یہ ہے کہ مغربی بنگال میں مودی راج اتنا ضروری کیوں تھا؟ بنگلہ دیش اور پاکستان کے لیے اس میں کیا پیغام پوشیدہ ہے؟ مسلمان اور دیگر اقلیتیں اب کس سیاسی اور قانونی فضا میں سانس لیں گی؟ ہندوتوا کا اگلا مشن کیا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن پر آج انڈیا سمیت دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔
وہ مغربی بنگال جو اپنی سیکولر شناخت، کولکتہ کی ثقافت اور مرشد آباد و رانی نگر جیسے مسلم اکثریتی علاقوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، جہاں کبھی ’لال سلام‘ اور ’جے بانگلہ‘ کے نعرے گونجتے تھے، وہاں اب سڑکوں پر ’جے شری رام‘ کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔
نریندر مودی جو ہمیشہ چوڑی دار پاجامے اور ویسکوٹ میں دکھائی دیتے تھے، تاریخی کامیابی کے بعد بی جے پی ہیڈکوارٹر پہنچے تو بنگالی لُنگی اور کھلی قمیض میں نظر آئے۔ یہ محض لباس نہیں، ایک سیاسی پیغام تھا۔
بی جے پی نے تقریباً ایک کروڑ 39 لاکھ ووٹ لے کر 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کیں، جبکہ 15 برس سے اقتدار میں موجود ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس ایک کروڑ 26 لاکھ ووٹ لینے کے باوجود صرف 80 نشستیں جیت سکی۔
سنہ 1970 میں سیاست میں قدم رکھنے والی ممتا بینرجی شاعرہ بھی ہیں، مصور بھی، قانون دان بھی اور مسلم تاریخ سے واقف ایک سیاسی رہنما بھی۔ انہوں نے عام آدمی کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی، کانگریس سے سیاست شروع کی، پھر ترنمول کانگریس بنائی اور چونتیس برس پر محیط کمیونسٹ راج کا خاتمہ کیا۔
2011 میں تاریخی کامیابی حاصل کی، 2021 میں 213 نشستیں جیتیں اور مسلسل 15 برس اقتدار میں رہیں۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ ممتا کا سیاسی بینر مغربی بنگال سے اترنے لگا؟ کیا عوام واقعی تنگ آ چکے تھے یا کہانی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے؟
جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے، وہاں انتخابی مارجن کو سامنے رکھ کر باریک سیاسی چالیں چلیں گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ امِت شاہ، اجیت ڈوول، ریاستی مشینری اور بیوروکریسی نے مخصوص حلقوں میں حکمتِ عملی کے تحت کام کیا۔
انڈیا میں عام طور پر ریاستی انتخابات کے دوران بیوروکریسی کے بڑے تبادلے نہیں ہوتے مگر مغربی بنگال میں یہ روایت بھی ٹوٹ گئی۔ تین بڑے اقلیتی اضلاع، جہاں مسلم ووٹ اکثریت میں تھے، وہاں بی جے پی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔
پچھلے انتخابات میں مرشد آباد، رانی نگر اور شمالی دیناج پور جیسے علاقوں سے بی جے پی صرف آٹھ نشستیں جیت سکی تھی، مگر اس بار یہ تعداد 19 تک جا پہنچی۔ یاد رہے کہ مغربی بنگال میں آج بھی مسلمانوں کی آبادی 28 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔
ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل کا ایک بڑا حوالہ بھوانی پور کا حلقہ بھی ہے، جہاں ممتا بینرجی اپنے ہی سابق ساتھی سوویندو ادھیکاری سے ہار گئیں۔ سوویندو کبھی ترنمول کانگریس کا اہم چہرہ تھے، پھر بی جے پی میں شامل ہوئے اور اب بنگال میں وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ ممتا اس حلقے سے تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے شکست کھا گئیں۔
ممتا بینرجی نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سو سے زائد نشستوں پر دھاندلی ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ہارے نہیں، ہمیں لوٹا گیا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، نتائج پر قبضہ ہے۔‘
ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ریاست بھر میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے اندراج میں ردوبدل کیا گیا جبکہ ستائیس سے 28 لاکھ ووٹوں کا معاملہ اب بھی الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا ہے۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے 13 لاکھ ووٹوں کے فرق سے دو سو سے زائد نشستوں کی جیت واقعی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ممتا کے خلاف مہم میں ان پر مسلم نواز سیاست، غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے اور صنعتی ترقی نہ لانے جیسے الزامات لگائے گئے۔ امِت شاہ اس پوری مہم کے مرکزی معمار تھے، ریاستی مشینری ہم آواز تھی اور ہندو ووٹ کے اتحاد کو یقینی بنایا گیا۔ مودی اور ریاستی میڈیا کے ذریعے ہندوتوا بیانیے کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
شمالی بنگال کے قریب واقع سلی گوڑی کوریڈور، جسے ’چکن نیک‘ کہا جاتا ہے، انڈیا کے لیے انتہائی اہم تذویراتی راستہ ہے۔ یہی وہ زمینی پٹی ہے جو آسام، میگھالیہ، میزورام اور شمال مشرقی ریاستوں کو باقی انڈیا سے جوڑتی ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش چین کے تعاون سے اس علاقے کے قریب ڈرائی پورٹ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
ایسے میں اجیت ڈوول اور انڈین ڈیپ سٹیٹ کے لیے مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت محض سیاسی ضرورت نہیں، ایک تذویراتی تقاضا بھی بن چکی تھی۔
اس انتخاب میں ممتا کے سماجی نعروں کا مقابلہ نقد امداد، دگنی سبسڈی اور ’جے شری رام‘ کے سیاسی نعروں سے تھا۔ ایسے میں سوال یہی ہے کہ ممتا کا بینر آخر کب تک لہراتا رہتا؟