سعودی طالبعلم کا قتل کیس: برطانوی شہری کو آئندہ ماہ سزا سنائی جائے گی
22 سالہ چیس کورِیگن کو قتل کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔( فائل فوٹو)
گزشتہ سال کیمبرج میں ایک سعودی طالب علم محمد القاسم کے قتل کیس میں ایک برطانوی تعمیراتی ورکر کو 3 جون کو سزا سنائی جائے گی۔
22 سالہ چیس کورِیگن کو گزشتہ برس مارچ میں 20 سالہ سعودی محمد القاسم کے قتل کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
محمد القاسم کیمرج میں ای ایف انٹرنیشنل لینگویج کیمپس کا طالبعلم تھے جو ایک نجی سکول ہے۔
ہولبروک روڈ کے رہائشی چیس کورِیگن نے مقدمے کے دوران فرد جرم سے انکار کیا تاہم چاقو رکھنے کا اعتراف کیا۔
جیوری کو بتایا’ اس نے محمد القاسم کو زخمی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ڈرانے کے ارادے سے چاقو لہرایا تھا۔‘
جیوری کو یہ بتایا تھا’ وہ قریبی پب میں شراب پی رہا تھا جبکہ دو مرتبہ کوکین بھی استعمال کی تھی۔‘
اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ وہ نشے میں نہیں تھا۔ دعویٰ کیا کہ اس پر ماضی میں حملہ ہوا تھا، اس لیے دفاع کے لیے کچن کا چاقو ساتھ رکھتا تھا۔
مقدمے کے دوران چیس کورِیگن نے یہ بھی کہا کہ ’اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا محمد القاسم زخمی ہوا ہے، ایسا لگا کہ وہ مجھے نقصان پہنچانے والا ہے۔ اس واقعے کی درست تفصیلات یاد نہیں۔‘
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’وقوعہ کے بعد سلور کچن چاقو جس کا بلیڈ 13 سینٹی میٹر تھا، قریبی سڑک کے کنارے پودوں کے درمیان چھپا ہوا ملا۔‘
50 سالہ پیٹر کورِیگن پہلے ہی مجرم کی مدد کی مدد کا اعتراف کر چکے ہیں، وہ 2 جون کو عدالت میں پیش ہوں گے۔
یاد رہے کیمبرج کے جنوب میں واقع مل پارک میں 20 سالہ سعودی طالبعلم محمد القاسم کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
برطانوی پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔
برطانیہ کی کیمرج کراون کورٹ نے کیس کے دوران مرکزی ملزم پرعوامی مقام پر دانستہ قتل اور چاقو رکھنے کی فرد جرم عائد کی تھی۔
