Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنوبی کوریا کی سابق خاتونِ اول کی سزا میں اضافہ کرنے والے جج کی لاش برآمد

53 سالہ کم کیون ہی کو سٹاک ہیرا پھیری اور رشوت ستانی کا مجرم قرار دیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
جنوبی کوریا میں گذشتہ ماہ سابق خاتونِ اول کی سزا کو دوگنا سے زیادہ کرنے والے ایک جج بدھ کی صبح مردہ حالت میں پائے گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جج شن جونگ او کو رات تقریباً ایک بجے (مقامی وقت) سیول ہائی کورٹ کی عمارت میں بے ہوش پایا گیا۔ انہیں فوری طور پر پسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے کہا کہ موت میں کسی قسم کے قتل یا سازش کے شواہد نہیں ملے۔
مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ شن نے خودکشی کا نوٹ چھوڑا تھا، تاہم پولیس نے اس کی تردید کی۔
گذشتہ ماہ شن نے 53 سالہ کم کیون ہی کے اپیل مقدمے کی سماعت کی تھی، جس میں انہیں سٹاک ہیرا پھیری اور رشوت ستانی کا مجرم قرار دیا گیا۔ جج نے ان کی سزا 20 ماہ سے بڑھا کر چار سال کر دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب مقامی عدالت نے سٹاک ہیرا پھیری کے الزام سے انہیں بری کر دیا تھا، لیکن اپیل میں یہ بریت ختم کر دی گئی۔
فیصلے کے وقت شن نے کہا تھا کہ کم کیون ہی نے ’اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مسلسل بہانے بناتی رہیں۔‘
پولیس کے مطابق جج کے اہلِ خانہ اس واقعے سے شدید صدمے میں ہیں اور انہوں نے نجی زندگی کا احترام کرنے کی درخواست کی ہے۔

 

شیئر: