Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تمل ناڈو الیکشن میں دبنگ انٹری، سپرسٹار وجے نے روایتی سیاست کی کایا کیسے پلٹ دی؟

امید کی جا رہی ہے کہ وجے جلد ہی اتحادی حکومت قائم کر کے ریاست کے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
انڈیا کے حالیہ ریاستی انتخابات کے سب سے بڑے سرپرائزز میں سے ایک میں ملک کے معروف ترین اداکاروں میں سے ایک جوزف وجے چندر شیکھر نے تمل ناڈو میں کامیابی حاصل کر کے مروجہ سیاسی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق 51 برس کے اداکار عوام میں وجے کے نام سے معروف ہیں جن کا کیریئر تین دہائیوں سے زائد عرصے اور قریباً 70 فلموں پر مشتمل ہے۔ وہ کئی برسوں سے اپنے مداحوں کی تنظیموں کے ذریعے بالواسطہ طور پر ریاست کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔
تاہم سیاست میں ان کی باقاعدہ شمولیت 2024 میں ہوئی، جب انہوں نے ’تملگا ویٹری کژگم‘ (ٹی وی کے) کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی، جس کا مقصد 2026 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینا تھا۔
پیر کو ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت نے 234 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کر کے کامیابی سمیٹی اور تمل ناڈو کی پرانی اور مضبوط سیاسی جماعت ’دراوڑ منیترا کژگم‘ کو شکست دی۔
اُن کی جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت سے اگرچہ 10 نشستیں کم حاصل کر سکی ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ وجے جلد ہی اتحادی حکومت قائم کر کے ریاست کے وزیراعلٰی بن جائیں گے۔
کئی دہائیوں سے انتخابات کی رپورٹنگ کا تجربہ رکھنے والی چنئی کی سینیئر صحافی کویتھا مرلیدھرن نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وجے نے صرف دو سال پہلے پارٹی بنائی اور فوراً اقتدار میں آگئے۔ ہم میں سے اکثر اس کا اندازہ نہیں لگا سکے، کیونکہ ہمیں لگا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔‘

ان کی جماعت نے 234 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کر کے کامیابی حاصل کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سپرسٹار کی اس کامیابی کا موازنہ ماضی کے بڑے فلمی ستاروں سے کیا جا رہا ہے، جن میں 1977 سے 1987 تک وزیراعلٰی رہنے والے ایم جی رام چندرن اور 1991 سے 2016 کے درمیان 14 سال سے زیادہ عرصے تک وزیراعلیٰ رہنے والی جے جیا للیتا شامل ہیں۔
تمل فلم انڈسٹری (کولی وڈ) سے تعلق رکھنے والی ایک اور اہم شخصیت ایم کروناندھی بھی وزیراعلٰی رہ چکے ہیں، جو ایک ڈرامہ نگار اور سکرین رائٹر تھے اور 1969 سے 2011 کے درمیان پانچ ادوار میں قریباً دو دہائیوں تک اس منصب پر فائز رہے۔
مرلی دھرن کے مطابق: میرا خیال ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے تھے، خاص طور پر نوجوان۔ تمل ناڈو میں شخصیات پر مبنی سیاست بہت عام ہے۔ لیکن مجھے جیا للیتا اور کروناندھی کے انتقال کے بعد لگا تھا کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔‘
سنہ 2009 میں وجے نے اپنے فین کلبز کو منظم کر کے ’وجے مکّل ایّکم‘ (وجے عوامی تحریک) کی شکل دی، جو نچلی سطح پر کام کرنے والا ایک فلاحی نیٹ ورک تھا، جو محلوں میں تعلیم کی فراہمی میں مدد اور ضرورت کے وقت امداد فراہم کرتا تھا۔
پولسٹر پردیپ گپتا کے مطابق وجے کی جماعت کو خاص طور پر خواتین اور 18 سے 39 سال کی عمر کے ووٹرز کی حمایت حاصل ہوئی، جو تمل ناڈو کے قریباً 42 فیصد ووٹرز پر مشتمل ہیں۔

تامل فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ایک اور اہم شخصیت ایم کروناندھی بھی وزیراعلٰی رہ چکے ہیں (فائل فوٹو: سکرول)

وجے کی کامیابی نے زیادہ تر مبصرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور یہ ’دراوڑ منیترا کژگم‘ (ڈی ایم کے) کی سیاست سے الگ ہونے کی علامت ہے، جو جنوبی انڈیا کی علاقائی شناخت پر مبنی رہی ہے۔
دراوڑی ایک نسلی و لسانی گروہ ہے جو جنوبی انڈیا میں غالب ہے اور تمل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم جیسی زبانیں بولتا ہے، جبکہ شمالی انڈیا میں زیادہ تر زبانیں ہند-آریائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
ڈی ایم کے خود کو دراوڑی شناخت کی محافظ اور نئی دہلی کے اثرورسوخ کے خلاف ایک آواز کے طور پر پیش کرتی رہی ہے اور یہ وہ مؤقف ہے جو ریاست کی زیادہ تر علاقائی جماعتوں میں مشترک ہے۔ وجے کی جماعت بھی انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالف سمت میں کھڑی ہے۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے ماہر بشریات اور پروفیسر راجن کورائی کرشنن کے مطابق: ڈی ایم کے کی جگہ جب کسی اور کو اقتدار میں آنا ہو تو متبادل اکثر فلمی دنیا سے ہی آتا ہے۔ یہ تبدیلی کی خواہش اور حکمرانی پر عدم اطمینان ظاہر کرنے کا ایک جمہوری عمل ہے۔

وجے کی جماعت کو خاص طور پر خواتین اور 18 سے 39 سال کی عمر کے ووٹرز کی حمایت حاصل ہوئی (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ ’فلمی ہیرو لوگوں کو ایک خیالی طاقت کا احساس دیتا ہے۔ وہ ہر بُرے آدمی کو شکست دیتا ہے، جیسے سُپرمین۔ یہ تصوراتی بہادری لوگوں کو اطمینان دیتی ہے، کیونکہ وہ ایک طاقتور علامت دیکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ ہیروز وقتاً فوقتاً ڈی ایم کے کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔‘
تاہم کرشنن کے مطابق یہ تبدیلی مستقل نوعیت کی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ صرف اس خلا کو پُر کر رہے ہیں جو ایم جی آر اور جیا للیتا کے بعد پیدا ہوا تھا۔‘
ان کے مطابق: وجے کی جماعت علاقائی سیاست ہی کا حصہ رہے گی، نہ بی جے پی کو اس سے فائدہ ہوگا اور نہ کانگریس کو کوئی خاص جگہ ملے گی، لہٰذا تمل ناڈو کی سیاست بدستور علاقائی نوعیت کی ہی رہے گی۔

شیئر: