انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے لیے مسلم ووٹروں کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہندو ووٹرز نے بڑی حد تک وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت کو ووٹ دیا ہے۔ یہ رجحان حالیہ دنوں میں چار ریاستوں کے انتخابات کے نتائج سے نمایاں ہوا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کا یہ رجحان اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ بظاہر سیکولر کہلانے والے ملک میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم روز بروز بڑھ رہی ہے، اور انڈیا کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی خلیج بھی گہری ہوتی جا رہی ہے۔
نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے لیے کھل کر ہندو نواز سیاسی مؤقف اپنایا تھا، اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بڑی حد تک ہندوتوا نظریے کی پیروی کرتی ہے۔ ووٹوں کی یہ تقسیم اس کی ملک گیر بالادستی کو مزید مضبوط کرتی ہے کیونکہ انڈیا کی ایک ارب 42 کروڑ آبادی میں ہندو قریباً 80 فیصد ہیں جبکہ مسلمانوں کی تعداد قریباً 14 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ابھار نے مسلم ووٹروں کو نام نہاد سیکولر جماعتوں بالخصوص کانگریس کی طرف متوجہ کیا ہے۔ یہ ایک طرح کی اُلٹی پولرائزیشن ہے۔
مسلم رہنما اور تجزیہ کاروں کے مطابق مسلمانوں کے ووٹرز اب چھوٹی جماعتوں کی بجائے کانگریس یا بڑی علاقائی جماعتوں کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ چھوٹی جماعتیں ان کی حمایت کے باوجود حالیہ برسوں میں حکومتوں کا حصہ بننے میں ناکام رہی ہیں۔

گذشتہ ماہ چار ریاستوں اور ایک وفاقی خطے میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی کمزور رہی، جن کے نتائج رواں ہفتے جاری کیے گئے۔ کانگریس کی قیادت میں اتحاد نے صرف ایک ریاست میں حکومت بنائی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد نے تین ریاستوں میں کامیابی حاصل کی اور ایک نئی علاقائی جماعت نے ایک ریاست میں کامیابی حاصل کی۔
شمالی مشرقی ریاست آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت برسرِِاقتدار ہے جہاں کانگریس کے لیے مسلم ووٹروں کا جھکاؤ زیادہ نمایاں طور پر دکھائی دیا۔ اس کے وہاں 19 میں سے 18 نو منتخب ارکان اسمبلی مسلم ہیں، جو پہلے قریباً 16 تھے۔ پارٹی نے 126 رکنی اسمبلی کے لیے 20 مسلم اور قریباً 80 غیرمسلم امیدوار کھڑے کیے تھے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 82 نشستیں جیتیں۔
آسام کی مسلم حمایت رکھنے والی جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو شدید نقصان ہوا اور اس کی نشستیں 16 سے کم ہو کر صرف دو رہ گئیں۔
پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلی بار 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کیں، کانگریس کی طرف سے منتخب ہونے والے دونوں ارکان مسلمان تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے آسام اور نہ ہی مغربی بنگال میں کوئی مسلم امیدوار کھڑا کیا۔ دونوں ریاستوں میں پارٹی رہنماؤں نے، جن میں بنگال کے ممکنہ وزیراعلٰی سویندو ادھیکاری بھی شامل ہیں، ان فتوحات کا کریڈٹ ہندو ووٹروں کی حمایت کو دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ہندوتوا کی جیت تھی۔‘
ردِعمل میں مخالف ووٹنگ
سیاسی کالم نگار رادھیکا رامسشان کے مطابق، مقامی سیاسی حالات کے مطابق مستقبل میں اگر مسلم ووٹر زیادہ تعداد میں کانگریس کے گرد اکٹھے ہوتے ہیں تو غالب ہندو ووٹر بھی زیادہ مضبوطی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے گرد متحد ہو سکتے ہیں۔
آسام میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل کے مطابق کانگریس نے مسلم ووٹروں کے اس خوف اور عدم تحفظ کو استعمال کیا ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں پیدا ہوا، جہاں انہیں حاشیے پر دھکیلا گیا اور ان کی شہریت پر سوال اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ صرف وہی جماعت ان خدشات کو دُور کر سکتی ہے جو مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کر سکتی ہے لیکن یہ بات درست نہیں، اور ووٹر صرف خوف کی وجہ سے اس تاثر پر یقین کر لیتے ہیں۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے’نئی مسلم لیگ‘ ہونے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد کانگریس نے کہا کہ ملک بھر میں اس کے 664 ریاستی ارکانِ اسمبلی میں سے قریباً 12 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ قریباً 78 فیصد ہندو ہیں، جو انڈیا کی مذہبی آبادی کے تناسب کے مطابق ہے۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ ’میں اکیسویں صدی میں ایسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔‘ انہوں نے زور دیا کہ ان کی جماعت، نے 1947 کی آزادی کے بعد 54 سال تک انڈیا پر حکومت کی، اور یہ ہر طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ہمیشہ کمزور اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، چاہے ان کا مذہب یا ذات کچھ بھی ہو۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ماضی میں مسلم ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہی ہے، تاہم اس نے 2024 کے عام انتخابات میں کوئی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔
وزیر اعظم مودی نے تاہم بارہا اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہبی سیاست کرتے ہیں۔

انہوں نے دو سال پہلے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے ہوئے کہا تھا کہ ’جس دن میں ہندو مسلم کی بات کرنا شروع کر دوں گا، اسی دن میری عوامی زندگی ختم ہونے کے قریب ہو گی۔ میں ہندو یا مسلم کی بات نہیں کروں گا، یہی میرا عزم ہے۔‘
لیکن کالم نگار رامسشان کے مطابق خاص طور پر انتخابات کے قریب مذہبی بیان بازی ماضی کے مقابلے میں مودی کے دور میں زیادہ واضح ہوئی ہے۔
ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے نظریاتی حلیف انڈیا کو ایک ‘ہندو ریاست’ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، اور یہ بیانیہ اب عوامی سوچ میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ آنے والے برسوں میں ہمیں انڈیا کے تصور میں ایک بڑی تبدیلی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔












