Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کی مغل دور کی تاریخی حویلیاں بحالی کی امید اور تباہی کے خطرے سے دوچار

اتل کھنہ کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک حویلی کھو دیتے ہیں، تو آپ صرف ایک ڈھانچہ نہیں کھو رہے۔ اس کے ہر عنصر میں ایک فن پارہ چھپا ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایک زمانے میں مغل دور کے اشرافیہ کی عظیم الشان رہائش گاہیں، نئی دہلی کی حویلیاں ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گو کہ ان میں سے چند ایک کو بڑی محبت سے بحال کیا گیا ہے مگر کئی دیگر خاموشی سے  تباہی کی طرف جا رہی ہیں۔
پرانے دہلی کے چاروں طرف، 17ویں صدی کے دیواروں کے اندر گرا  ہوا شہر جو مغلوں کی راجدھانی شاہجہان آباد کے نام سے قائم ہوا،  دراڑیں، بند دروازے اور جھکتی بالکونیاں اس ورثے کی داستان سناتے ہیں جو لاپرواہی، وراثت کے جھگڑوں اور شہری دباؤ کے سامنے شدید خطرے میں ہے۔

صرف چند بحال شدہ جگہیں ہی ماضی کی جھلک پیش کرتی ہیں،  ہوا دار صحن، کندہ شدہ سینڈ سٹون کے ستون اور گھر جو ایک گہرے سماجی طرز زندگی کے گرد تعمیر کیے گئے تھے۔
ایک بحال شدہ حویلی میں، جو اب ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، رنگین شیشے سے گزرتی دھوپ کندہ شدہ سینڈ سٹون کے محرابوں پر پڑتی ہے، اور ہوا میں تازہ پالش شدہ لکڑی اور گلاب کے پانی کی خوشبو شامل ہے۔

موسیقار فریسکو سے مزین صحن میں اپنے آلات کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں کبھی اشرافیہ مہمانوں کی پذیرائی کرتے ہوں گے، اور یہ پرانے دہلی کے شاندار فنِ تعمیر کی ایک نایاب جھلک پیش کرتا ہے۔
لیکن باہر، پرانے دہلی کے چاندنی چوک کے تنگ راستوں میں صورتحال واضح تضاد پیش کرتی ہے۔

بہت سی حویلیاں خالی یا گرنے کے قریب ہیں، اور ان کے کندہ شدہ فصیلوں پر رنگ اُتر رہا ہے۔
یہ تضاد دو ممکنہ مستقبل کی عکاسی کرتا ہے، ایک محتاط بحالی اور دوسرا تدریجی زوال۔

’کون خرچ کرے گا؟‘

کاتھیکا کلچرل سینٹر کے بانی اتل کھنہ نے کہا کہ ان کی پہل کا مقصد ایک بحال شدہ عمارت میں ثقافتی ماحول پیدا کرنا تھا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پرانے دہلی کی حویلیوں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

بہت سی حویلیاں کئی وارثوں میں تقسیم ہیں، اور کوئی شخص مہنگے مرمتی کام میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں۔
کھنہ نے کہا کہ ’جب کئی مالکان ہوں تو یہ بڑا مسئلہ ہے۔ اگر حویلی زوال پذیر ہے تو کون پیسہ خرچ کرے گا؟‘
انہوں نے انتظامی رکاوٹوں کو بھی بحالی میں رکاوٹ قرار دیا۔ ’وراثت کے ساتھ کام کرنے والے کسی کے لیے ایک واحد ونڈو سسٹم ہونا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ سرکاری رکاوٹیں کم کرنا سبسڈی دینے سے زیادہ مؤثر ہوگا۔
ایک اور مشہور بحالی 18ویں صدی کی حویلی دھرم پورہ ہے، جو اب ایک ہیریٹیج ہوٹل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
ویدیون گوئل نے کہا کہ پررانے دہلی میں ثقافتی ورثے کی بحالی ابھی بھی محدود ہے اور اس کے لیے مسلسل سپورٹ اور آگاہی کی ضرورت ہے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق، خاندانی جھگڑے اور جائیدادوں کو دکانوں یا اپارٹمنٹس میں تبدیل کرنے کے دباؤ نے زوال کو تیز کر دیا ہے۔
قریبی روشن پورہ میں، صرف چند پرانے گھر باقی ہیں، جن میں صدی پرانی مٹھور کی حویلی ایک نایاب مثال ہے جو اب بھی رہائشی ہے۔

اشوک مٹھور نے کہا ’ہم اس گھر سے محبت کرتے ہیں۔‘ وہ اس گھر کے چوتھی نسل کے رہائشی ہیں اور مشکلات کے باوجود اپنے آبائی گھر میں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لکڑی کی چھتیں زوال پذیر ہیں، فرش پتلے ہو چکے ہیں اور دروازوں کی مسلسل مرمت درکار ہے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ اس گھر کو کبھی چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، حالانکہ وہ صرف اس سماجی دنیا کا تصور کر سکتے ہیں جو کبھی حویلی زندگی کو متعین کرتی تھی۔

56 سالہ مٹھور نے کہا کہ ’یہاں کوئی کمیونٹی باقی نہیں ہے۔ ہم ایک کوکون میں جی رہے ہیں۔‘
کنزرویشنسٹ  کے ٹی راوندن نے کہا کہ پرانے دہلی اقتصادی طور پر زندہ دل ہے، لیکن اس کی حویلیاں غیر واضح ٹائٹلز اور متعدد دعویداروں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اکثر عمارتیں جو باہر سے درست دکھائی دیتی ہیں، اندر سے زیادہ نقصان زدہ ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ اندرونی گلیوں میں صورتحال اور بھی خراب ہے، جو عوام کی نظر سے دور ہیں۔
راوندن نے کہا کہ بحالی ممکن ہے، لیکن یہ صرف محلے کی سطح پر دوبارہ تجدید کے ذریعے ہو سکتی ہے، نہ کہ الگ تھلگ ماڈل منصوبوں سے۔

مورخ سہیل ہاشمی نے کہا کہ ہر حویلی کبھی ’محلے، دستکاری اور روایات کے ایک بڑے سماجی نظام‘ کا حصہ تھی، جس میں فنِ تعمیر اور کمیونٹی گہرائی سے جڑے ہوئے تھے۔
اتل کھنہ نے کہا کہ نقصان صرف عمارت تک محدود نہیں۔ ’جب آپ ایک حویلی کھو دیتے ہیں، تو آپ صرف ایک ڈھانچہ نہیں کھو رہے۔ اس کے ہر عنصر میں ایک فن پارہ چھپا ہوا ہے۔‘

شیئر: