ہاتھی دانت کی سمگلنگ: تھائی لینڈ میں 8 کروڑ روپے کی ریکارڈ کھیپ پکڑی گئی، 9 افراد گرفتار
برآمد شدہ اشیاء میں ہاتھی دانت کے ٹکڑے، تسبیح کے دانے، زیورات اور چاقوؤں کے دستے شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
تھائی لینڈ کی پولیس نے ایک دہائی کے دوران سمگل شدہ ہاتھی دانت کی سب سے بڑی کھیپ پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تھائی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ گروہ فیس بک کے ذریعے افریقی ہاتھیوں کے دانت فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تھائی لینڈ کے اینٹی وائلڈ لائف ٹریفکنگ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جمعرات کو تھائی لینڈ کے سات مختلف صوبوں میں کی گئی۔
پولیس نے نو تھائی شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ فیس بک پر ایک ’پرائیویٹ گروپ‘ چلا رہے تھے جہاں افریقی ہاتھیوں کے دانتوں کی تشہیر کی جاتی تھی۔
پولیس کے ماحولیاتی جرائم کے ڈویژن سے وابستہ پٹومپونگ تھونگ چیمرون نے اے ایف پی کو بتایا ’یہ گزشتہ 10 برسوں میں ہمارے قبضے میں آنے والی ہاتھی دانت کی سب سے بڑی کھیپ ہے۔‘
3 لاکھ ڈالر مالیت کی کھیپ
پولیس کے مطابق قبضے میں لیے گئے ہاتھی دانت کا وزن قریباً 250 کلوگرام ہے جس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت تین لاکھ امریکی ڈالر (قریباً ساڑھے آٹھ کروڑ پاکستانی روپے) کے قریب ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ہاتھی دانت افریقہ سے بحری جہاز کے ذریعے سمگل کر کے تھائی لینڈ لائے گئے تھے۔
برآمد شدہ اشیاء میں ہاتھی دانت کے ٹکڑے، تسبیح کے دانے، زیورات اور چاقوؤں کے دستے شامل ہیں۔
ان اشیاء کے خریداروں کا تعلق مبینہ طور پر تھائی لینڈ اور ویتنام سے تھا۔
10 سال قید کی سزا
گرفتار افراد پر غیر قانونی قبضے اور محفوظ جنگلی حیات کے اعضاء کی تجارت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تھائی قانون کے تحت اس جرم کی سزا 10 سال قید، 10 لاکھ بھات جرمانہ یا یہ دونوں سزائیں بیک وقت ہو سکتی ہیں۔
تھائی لینڈ طویل عرصے سے جنگلی حیات کی سمگلنگ کا ایک بڑا مرکز رہا ہے جہاں نایاب جانوروں اور ان کے اعضاء کو ایشیا کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ ’سائٹس‘ (CITES) نامی بین الاقوامی ادارے نے سنہ 1990 سے ہاتھی دانت کی عالمی تجارت پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔
افریقی ہاتھیوں کے ساتھ ساتھ ایشیائی ہاتھی (جو تھائی لینڈ کا قومی جانور ہے) بھی اس وقت عالمی سطح پر معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں۔
