Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گڑبڑ جھالا: لکھنؤ کا وہ بازار جہاں ’گڑبڑ‘ ہی اس کی پہچان ہے

آپ کو گڑبڑ جھالا بازار میں ضرورت سے زیادہ لگژری اشیاء نہیں ملیں گی (فائل فوٹو: یوسف تہامی)
عید کے موقعے پر بازاروں کی رونق دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ انڈیا کے تمام شہروں میں ایسے بہت سے بازار نظر آتے ہیں جہاں قیامت کی بھیڑ ہوتی ہے لوگ آخری وقت میں کپڑوں کے میل کی چوڑیاں، زیورات، چپلیں، زردوزی کے سامان کے لیے دوڑ لگاتے ہیں۔
دلی میں اگر چاندی چوک اور جامع مسجد کے علاقے کو یہ شہرت حاصل ہے تو لکھنؤ میں امینہ آباد کو یہ مرتبہ حاصل ہے۔ امینہ آباد میں ایک مارکیٹ ایسی ہے جس کا نام ہی آپ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسے ’گڑبڑ جھالا‘ کہتے ہیں۔
اگر اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو ’سَم تھِنگ فِشی‘ ہوتا ہے یعنی کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ لیکن یہاں کی رونق دیکھنے کے قابل ہے۔
لکھنؤ نوابوں کی شان و شوکت کا گھر رہا ہے جو اپنے رہن سہن اور کھانے پینے کی لذتوں کے ساتھ ساتھ اپنے بہت سے پہلوؤں کے لیے مشہور ہے۔ اس کی گلیوں میں چکنکاری کا خوبصورت کام دیکھا جا سکتا ہے جبکہ سب سے مہنگی کڑھائی آری زردوزی بھی لکھنؤ میں پائی جاتی ہے۔
آپ نے غالباً یہ کہاوت ’کچھ تو گڑبڑ ہے بھائی‘ کئی بار سنی ہو گی۔ اس بازار کا نام اسی سے نکلا ہے اور یہاں جو سامان ملتا ہے وہ اس کے نام کے مطابق ہے۔ آئیے آج آپ کو اس مارکیٹ کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق بتاتے ہیں۔

یہ بازار ہمیشہ خواتین سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے (فائل فوٹو: یوسف تہامی)

گڑبڑ جھالا نام کیسے پڑا؟
تقسیم ہند کے وقت بہت سے لوگ انڈیا بھاگ کر پہنچے۔ یہ لوگ شرنارتھی یا مہاجر کہلائے۔ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے وہ فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر اپنے سامان کی نمائش کرنے لگے۔ وہ یہ سامان بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر جگہوں سے لا کر انتہائی سستے داموں فروخت کرتے تھے۔
آج بھی یہاں فاضل اور برآمدی سامان فروخت ہوتا ہے۔
اس بازار میں دستیاب کچھ اشیاء بہت اچھی تھیں لیکن ان کی قیمتیں بہت کم تھیں۔ دیگر اشیاء بہت ناقص تھیں۔ اب سستی اور اچھی چیزوں کے لالچ میں بھیڑ نہ امڈے تو کیا ہو۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ جب وہ اس بازار میں سامان تلاش کریں گے، وہاں ضرور کچھ گڑبڑ ہو گی۔ اس طرح اس بازار کا نام ’گڑبڑ جھالا‘ پڑ گیا۔
اس پر لگے سائن بوڑد پر یہ ’گڑبڑ جھالا‘ کے ساتھ یہ دعویٰ نظر آتا ہے کہ ’یہ لکھنؤ کا سب سے پرانا مشہور (سستا) بازار ہے جس میں آپ کا خیرمقدم ہے۔‘
یہ بازار ہمیشہ خواتین سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے۔ آپ کو یہاں سستے اور اچھے مصنوعی زیورات ملیں گے۔ اگر آپ دلہن کی خریداری کے لیے چیزیں تلاش کر رہے ہیں، یا کسی شادی میں نمود و نمائش کرنا ہے تو آپ کو یہاں بہت کچھ مل جائے گا۔ آپ لہنگا، شلوار قمیص اور ساڑھیاں بھی خرید سکتے ہیں۔ یہی نہیں، آپ کو یہاں برانڈڈ میک اپ کے سامان بھی مناسب داموں پر مل جاتے ہیں۔

عید کے موقعے پر بازار میں زبردست بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے (فائل فوٹو: یوسف تہامی)

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہاں دکاندار اکثر زیادہ قیمتیں بتاتے ہیں، لہٰذا آپ کی اچھی سودے بازی کی مہارت کام آئے گی۔ اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ان اشیاء کا اچھی طرح سے معائنہ کریں جو آپ یہاں خرید رہے ہیں۔
یہاں آپ کو مختلف قسم کے جوتے اور چپل بھی ملیں گے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو یہاں ضرورت سے زیادہ لگژری اشیاء نہیں ملیں گی۔ آپ روزمرہ کی اشیاء مناسب قیمت پر خرید سکتے ہیں۔ ہاں، یہاں کی تمام اشیاء نئی ہوں گی اور اسی وجہ سے یہ غریب پرور بازار بھرا ہوتا ہے۔
آپ یہاں سے اپنے سوٹ سے ملتا جلتا ہینڈ بیگ بھی خرید سکتے ہیں۔ آپ کو یہاں سستی قیمتوں پر برانڈڈ ہینڈ بیگ بھی ملیں گے۔ معمولی نقائص ہوسکتے ہیں جو قابل توجہ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا، خریدنے سے پہلے اس چیز کا بغور معائنہ ضرور کریں۔
رات کے وقت بھی مصنوعی زیورات کی چمک دمک سے دن کا سماں رہتا ہے۔ گڑبڑ جھالا نام اپنے آپ میں بنگالی تاریخ رکھتا ہے۔ عید کے موقعے پر یہاں زبردست بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے۔

شیئر: