اقوام متحدہ غزہ میں سعودی عرب کی امدادی سرگرمیوں کی معترف
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے وفد نے کاموں کا جائزہ لیا (فوٹو: ایس پی اے)
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور( اوچا) کے ایک وفد نے غزہ کی پٹی میں سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز کے انسانی منصوبوں کو سراہا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق وفد نے غزہ کی پٹی میں شاہ سلمان مرکز کے انسانی امور کے کام اور امداد کی تقسیم کے طریقہ کار کا مشاہدہ کیا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے سعودی امدادی ایجنسی کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد کے سکیل، تنوع اس کے ساتھ آبادی کی مشکلات کم کرنے اور انتہائی کمزور طبقات کی مدد کےلیے اس کے کردار کی تعریف کی۔
وفد نے اپنے دورے کا آغاز غزہ میں شاہ سلمان مرکز کے سینٹرل کچن سے کیا، جہاں بے گھر افراد کے کیمپوں میں مقیم خاندانوں کو یومیہ تقریباً 25 ہزار کھانےفراہم کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد فوڈ سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور متاثرہ خاندانوں پر زندگی کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

وفد نے سینٹرل کچن میں گرم کھانوں کی تیاری، پیکنگ اور تقسیم کے عمل کے علاوہ غزہ میں شاہ سلمان مرکز کی ایگزیکٹیو پارٹنر سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹج کے ساتھ کام کرنے والی فیلڈ ٹیموں کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
وفد کے دورے میں فوڈ باسکٹس ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کا دورہ شامل تھا، جہاں امدادی کارکن انتہائی کمزور طبقات میں امداد کی تقسیم کی نگرانی کر رہے ہیں۔

یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب شاہ سلمان مرکز کا ایک نیا انسانی امدادی قافلہ غزہ میں داخل ہوا، جو سعودی فنڈ ریزنگ مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد فوڈ سکیورٹی کو بہتر بنانا اور جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی قلت کو کم کرنا ہے۔
سعودی عرب نے گذشتہ ایک سال کے دوران کے شاہ سلمان مرکز کے ذریعے غزہ میں انسانی ہمدردی آپریشنز کو وسعت دی ہے، جن میں خوارک، ایمرجنسی ریلیف اور پانی کے انفراسٹرکچر کے منصوبے شامل ہیں۔

شاہ سلمان مرکز نے اکتوبر 2025 میں ڈی سیلینیشن منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا تھا، جس کا مقصد خان یونس اور وسطی غزہ میں تقریباً تین لاکھ افراد کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔
