Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جموں یونیورسٹی کے کورس سے محمد علی جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد سے متعلق مضامین نکالنے کی سفارش

انڈٰیا کے زیرانتظام کشمیر کی جامعہ یونیورسٹی آف جموں کی ڈیپارٹمنٹل افیئر کمیٹی نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے کورس سے محمد علی جناح، علامہ اقبال، علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان سے متلعق مضامین نکالنے کی سفارش کی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام بھارتیہ ودیارتھی پریشاد کی جانب سے اس احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے جو نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 پر نظرثانی کے تحت ’منارٹیز اینڈ دی نیشن‘ کے عنوان سے مضامین شامل کیے گئے جن میں محمد علی جناح سمیت دوسری شخصیات سے متعلق مواد شامل تھا۔
 دو برسوں کے کورس کے لیے کئی گئی کمیٹی کی سفارشات بورڈ آف سٹڈیز کو بھیج دی گئی ہیں تاکہ ان پر 24 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں مزید غور کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے علاوہ دوسرے پروفیسرز کی جانب سے بھی کورس کا دفاع کیا گیا۔
بلجیت سنگھ مان کا کہنا ہے کہ یہ طلبا کو جدید انڈین سیاسی فکر کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا جس میں ونائک دمودر ساورکر، ایم ایس گولوالکر، مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر، جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے علاوہ محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال اور سر سید احمد کے نام بھی شامل تھے۔
تاہم اے بی وی پی جموں اینڈ کشمیر جس کی قیادت سیکریٹر سیناک شریواتس کر رہے تھے، نے محمد علی جناح، محمد اقبال اور سر سید احمد کے ناموں کو نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دلیل دی ان کے بارے میں دو قومی نظریے اور تقسیم سے حوالے سے اساتذہ نے ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا رکھنے والے اساتذہ نے ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور اسے قومی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
 شریوات نے متنبہ کیا کہ اگر نصاب پر نظرثانی نہ کی گئی تو سخت احتجاج کیا جائے گا جبکہ ان کی جانب سے کچھ ایسے ناموں کو بھی شامل کیے جانے کہا گیا ہے جنہوں نے ان کے مطابق ’اقلیتوں کی فلاح کے لیے مثبت خدمات انجام دیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹل افیئر کمیٹی کی کمیٹی متفقہ جس میں اے بی وی پی کے خدشات کو اجاگر کیا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کے لیے منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

شیئر: