پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے انڈین وزیر دفاع کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے جمعرات کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی سٹریٹجک اور سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا کرے۔
’حالیہ بیانات طاقت کے اظہار کے بجائے واضح سٹریٹجک بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پہلگام میں مبینہ جعلی کارروائی (فالس فلیگ آپریشن) کا ایک برس پورا ہونے والا ہے، ایک ایسا واقعہ جو بین الاقوامی جانچ پڑتال پر پورا نہ اتر سکا اور نئی دہلی کے من گھڑت بحرانوں پر انحصار کو بے نقاب کر گیا۔‘
مزید پڑھیں
-
پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کسی دباؤ میں نہیں کی: انڈین وزیر دفاعNode ID: 892749
-
طالبان انڈیا کی ’پراکسی‘ بن گئے، اب کھلی جنگ ہوگی: خواجہ آصفNode ID: 901162
خیال رہے کہ انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو ہی انڈیا میں ایک ایونٹ سے خطاب کے دوران پاکستان کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اگر سرضد پر کسی ’مس ایڈونچر‘ کی کوشش کی تو انڈیا ایسا جواب دے گا جو ’فیصلہ کن ہو گا اور اس کی کوئی نظیر نہیں ہو گی۔‘
Repeated rhetoric reflects not strength, but visible strategic anxiety as the anniversary of the staged False Flag Operation in Pahlgam approaches - an episode that failed to withstand international scrutiny and exposed New Delhi’s reliance on manufactured crises.
Such…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) April 2, 2026
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 2025 کی جنگ کے دوران انڈین فورسز نے آپریشن سندور کے ذریعے ’پاکستان کو 22 منٹ میں گھٹنوں کے بل گرا دیا تھا۔‘
دوسری جانب خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اس نوعیت کی دھمکی آمیز بیان بازی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک طے شدہ طرز عمل کا حصہ ہے، جس کے تحت اندرونی کمزوریوں کو بیرونی رخ دیا جاتا ہے اور بے بنیاد الزامات کی آڑ میں سیاسی مفادات کے لیے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔












