Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کا امن تجویز پر غور، امریکہ پر ’حد سے زیادہ مطالبات‘ کا الزام

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستان ثالثی کا ایک انتہائی فعال کردار ادا کر رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی میڈیا نے سنیچر کو بتایا کہ تہران نے امریکہ پر ’حد سے زیادہ مطالباتُ کا الزام عائد کیا ہے جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ واشنگٹن نئے حملوں پر غور کر رہا ہے اور تہران کے رہنما تازہ ترین امن تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ثالثی کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف فیلٖ مارشل عاصم منیر جمعے کو تہران پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حکومتی امور سے متعلق حالات‘ کے باعث واشنگٹن میں رہنے کے لیے اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت نہ کرنے کا اپنا منصوبہ اچانک تبدیل کر دیا۔ جس سے ان قیاس آرائیوں کو شہ ملی کہ صورتحال ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے اتار چڑھاؤ سے بھرپور مذاکرات کو نئے حملوں اور جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے درمیان ’سرحد‘ پر معلق قرار دیا ہے۔
 یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں تزویراتی (سٹریٹجک) آبنائے ہرمز کے گرد دونوں طرف سے ناکہ بندیاں ہوئیں جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔
آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ہفتوں دورانیے کے مذاکرات اب بھی کوئی مستقل حل نکالنے یا آبنائے ہرمز تک مکمل رسائی بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے عالمی تیل کی سپلائی کی بہت بڑی مقدار رک گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ساتھ ایک فون کال میں کہا کہ تہران سفارتی عمل میں مصروف ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ کی جانب سے ’سفارت کاری کے ساتھ بار بار غداری اور ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ متضاد موقف اور بار بار حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے کو تہران پہنچے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تہران کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ عباس عراقچی نے کشیدگی کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران سنیچر  کو اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے فون پر بات چیت کی۔
امریکی میڈیا اداروں ’ایکسائیوس‘ اور ’سی بی ایس نیوز‘نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس ایران پر حملوں پر غور کر رہا ہے، اگرچہ دونوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے بارہا ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کو ظاہر کیا ہے اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو کانفرنس کے موقعے پر کہا کہ پرامن حل کی طرف ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن ’معاملات ابھی وہاں تک نہیں پہنچے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم بہت مشکل لوگوں کے گروہ سے نمٹ رہے ہیں۔ اور اگر یہ نہیں بدلتا تو صدر واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دوسرے اختیارات بھی موجود ہیں۔‘

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متحارب فریقین کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر جمعے کو تہران پہنچے جہاں انہوں نے رات گئے عباس عراقچی سے ملاقات کی تاکہ ’مزید کشیدگی کو روکنے کے مقصد سے کی جانے والی تازہ ترین سفارتی کوششوں اور اقدامات‘ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ایران کی ایک اور نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ اس دورے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’ہم کسی اہم موڑ یا فیصلہ کن صورتحال پر پہنچ گئے ہیں‘ کیونکہ ’گہرے اور وسیع‘ اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ قطر کے ایک وفد نے بھی جمعے کو ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی تھی۔
انہوں نے کہا ’حالیہ دنوں میں بہت سے ممالک (علاقائی اور غیر علاقائی دونوں) جنگ کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں... تاہم پاکستان اب بھی باضابطہ ثالث ہے۔‘
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار (جنہوں نے متحارب فریقین کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے) چار روزہ دورے پر ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین روانہ ہو گئے، جہاں مشرق وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کی کوششوں پر بات چیت متوقع ہے۔

شیئر: