ایرانی میڈیا نے سنیچر کو بتایا کہ تہران نے امریکہ پر ’حد سے زیادہ مطالباتُ کا الزام عائد کیا ہے جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ واشنگٹن نئے حملوں پر غور کر رہا ہے اور تہران کے رہنما تازہ ترین امن تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ثالثی کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف فیلٖ مارشل عاصم منیر جمعے کو تہران پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حکومتی امور سے متعلق حالات‘ کے باعث واشنگٹن میں رہنے کے لیے اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت نہ کرنے کا اپنا منصوبہ اچانک تبدیل کر دیا۔ جس سے ان قیاس آرائیوں کو شہ ملی کہ صورتحال ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
-
ایران اور امریکہ کے درمیان ’مجوزہ معاہدے‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟Node ID: 904575
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے اتار چڑھاؤ سے بھرپور مذاکرات کو نئے حملوں اور جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے درمیان ’سرحد‘ پر معلق قرار دیا ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں تزویراتی (سٹریٹجک) آبنائے ہرمز کے گرد دونوں طرف سے ناکہ بندیاں ہوئیں جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔
آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ہفتوں دورانیے کے مذاکرات اب بھی کوئی مستقل حل نکالنے یا آبنائے ہرمز تک مکمل رسائی بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے عالمی تیل کی سپلائی کی بہت بڑی مقدار رک گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ساتھ ایک فون کال میں کہا کہ تہران سفارتی عمل میں مصروف ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ کی جانب سے ’سفارت کاری کے ساتھ بار بار غداری اور ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ متضاد موقف اور بار بار حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے جا رہے ہیں۔

تہران کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ عباس عراقچی نے کشیدگی کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران سنیچر کو اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے فون پر بات چیت کی۔
امریکی میڈیا اداروں ’ایکسائیوس‘ اور ’سی بی ایس نیوز‘نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس ایران پر حملوں پر غور کر رہا ہے، اگرچہ دونوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے بارہا ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کو ظاہر کیا ہے اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو کانفرنس کے موقعے پر کہا کہ پرامن حل کی طرف ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن ’معاملات ابھی وہاں تک نہیں پہنچے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم بہت مشکل لوگوں کے گروہ سے نمٹ رہے ہیں۔ اور اگر یہ نہیں بدلتا تو صدر واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دوسرے اختیارات بھی موجود ہیں۔‘













