پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات: سرکاری میڈیا
ایران کے سرکاری میڈیا نے سنیچر کو رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعے کو تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں تیزی لا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دیر گئے تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں فریقین نے ان تازہ ترین سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جن کا مقصد کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور ایران جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے سفارت کاری کو تیز کرتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف جمعے کو ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھانے تہران پہنچے تھے جبکہ ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ نے بھی وہاں ملاقات کی ہے۔
فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستان ثالثی کا ایک انتہائی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
خطے میں وسیع تر کشیدگی کو روکنے کے لیے اسلام آباد تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو بتایا کہ قطر کا ایک وفد بھی اس وقت عباس عراقچی سے مذاکرات کر رہا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات میں پاکستان ہی بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی طرف کچھ پیش رفت دیکھی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔
سویڈن کے شہر ہیلسنگ برگ میں نیٹو وزرا کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ میں نہ تو اس کی اہمیت کو مبالغہ آرائی سے بیان کروں گا اور نہ ہی اسے کم سمجھوں گا۔ ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔ ہم ابھی (معاہدے تک) نہیں پہنچے۔ مجھے امید ہے کہ ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔‘
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مذاکرات کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بات چیت جاری ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن جب تک تمام متنازع امور حل نہیں ہو جاتے، کوئی معاہدہ طے نہیں پائے گا۔
مارکو روبیو نے جمعرات کو کیے گئے اپنے تبصروں کو دوبارہ دہرایا کہ آبنائے (ہرمز) کے لیے ٹولنگ سسٹم (محصول لگانے) کے ایرانی منصوبے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں۔
