غیرملکی ایجنسیوں کو حساس ڈیٹا فروخت کرنے والا گینگ کیسے گرفتار ہوا؟
جمعہ 22 مئی 2026 17:37
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سرکاری افسران اور عام شہریوں کا حساس ڈیٹا بیرونِ ملک ایجنسیوں کو فروخت کرنے والے گینگ کے سرغنہ سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ملزمان میں میاں بیوی بھی شامل ہیں، جبکہ نیٹ ورک کے پانچویں مفرور ساتھی کی تلاش جاری ہے۔‘
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید خُرم علی نے بتایا کہ ’اس گینگ کے چار افراد کو خان پور (رحیم یار خان) سے گرفتار کیا گیا ہے۔‘
اُن کے مطابق ’یہ افراد مختلف سرکاری اور ٹیلی کمیونیکیشن دفاتر میں موجود اپنے سہولت کاروں کی مدد سے حساس ڈیٹا حاصل کرتے تھے۔‘
سید خُرم علی کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں کہ اِن افراد کو حساس ڈیٹا فراہم کرنے والے افراد کون ہیں اور جلد ہی اُن کی بھی شناخت بھی کر لی جائے گی۔‘
ڈی جی این سی سی آئی اے کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ گروہ حاصل کیا گیا ڈیٹا شناخت بدل کر بنائے گئے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے باقی افراد کو فروخت کر کے رقم وصول کرتا تھا۔‘
پریس کانفرنس میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ چوری شدہ حساس ڈیٹا میں سی ڈی آرز، ٹریول ہسٹری، نادرا ریکارڈ، فیملی ٹری، لوکیشن ڈیٹا اور سم اونرشپ وغیرہ شامل ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق بعد میں یہ ڈیٹا جاسوسی، ٹارگٹ کلنگ، چوری، ڈکیتی، بلیک میلنگ اور مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں استعمال ہوتا تھا۔
گینگ کے خلاف کارروائی کا آغاز کب ہوا؟
ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’2025 میں فوج کے حساس ادارے کے تعاون سے این سی سی آئی اے نے شہریوں کے حساس ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا۔‘
اسی آپریشن کے تسلسل میں این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی کی انکوائری کی روشنی میں کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے تحت خان پور (رحیم یار خان) سے نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
ملزمان میں ارشد طارق، ارحم باری، انعم صابر، محمد رضوان اور سمن صابر شامل ہیں۔ملزمان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں میاں بیوی بھی شامل ہیں۔
دورانِ تفتیش مرکزی ملزم ارشد طارق کے موبائل فونز قبضے میں لے کر ان کا فورینزک کیا گیا اور ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ سے اُن کے جرائم کے ناقابلِ تردید ثبوت مل گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق یہ عناصر نہ صرف پاکستان کے عام شہریوں کا حساس اور خفیہ ذاتی ڈیٹا خرید و فروخت کرتے تھے، بلکہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ پیسوں کے عوض فوج اور سول اداروں کے افراد کے ڈیٹا کی شیئرنگ بھی کرتے تھے۔
ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمے کا اندراج کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملوث عناصر کی بھی نشان دہی کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل 2025 سے لے کر اب تک ایسی وارداتوں میں ملوث 22 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے چھ افراد غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ڈیٹا شیئرنگ کرتے تھے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ان گرفتار افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے اور ان سے برآمد ہونے والے حساس ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد مختلف سرکاری اداروں کے 27 ملازمین کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے، جن کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی گئی۔
حکام این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر مجرموں کو ان کے طریقے اور نیٹ ورک سے قطعِ نظر قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ذاتی ڈیٹا کا لیک ہونا اکثر خبروں کی زینت بنتا رہتا ہے، جس سے نہ صرف عام شہری متاثر ہوتے ہیں بلکہ کئی سرکاری اداروں کے افسران کا حساس ڈیٹا بھی چوری کر لیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جہاں ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے، وہیں پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن کا ایک ٹھوس اور جامع نظام وضع کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
