Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سونا پہنچ سے دور، پاکستان میں ’سلور وِد ڈائمنڈ‘ اور کم وزن جیولری کا نیا رجحان

پاکستان میں ایک قیراط ہیرے کی قیمت تقریبا ساڑھے تین سے آٹھ لاکھ روپے تک ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زیورات کی خریداری کے رجحانات کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔
 ایک وقت تھا جب ہیرا صرف صاحبِ ثروت طبقے یا شادی بیاہ کے بھاری زیورات تک محدود سمجھا جاتا تھا لیکن اب صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے۔
بازار میں سونے کی قیمت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سونے اور ہیروں سے آراستہ ہلکے زیورات کی قیمتوں میں فرق کم ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خواتین اب روایتی خالص سونے کی بجائے ہلکے وزن کے ہیروں یا چاندی میں جڑے ہیرے والے زیورات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی قدر، ڈالر کی قیمت، اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتِ حال کو قرار دیا جاتا ہے۔
سرمایہ کار عالمی سطح پر جب معاشی بحران یا جنگی خدشات محسوس کرتے ہیں تو وہ سونے میں سرمایہ کاری بڑھا دیتے ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ممالک میں زیورات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے جیولرز کا کہنا ہے کہ ’عام صارف دکان پر آ کر اب سب سے پہلے وزن پوچھتا ہے۔ پہلے خواتین ڈیزائن اور خوبصورتی کو ترجیح دیتی تھیں، لیکن اب سوال یہ ہوتا ہے کہ  کم وزن میں کیا مل سکتا ہے؟ یہی رجحان ہیرے کے چھوٹے زیورات کی مانگ بڑھا رہا ہے۔‘
مارکیٹ میں دستیاب سونے کی ایک عام نوز پِن اب تقریباً 6 سے 15 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سادہ ڈیزائن کی چاندی میں بنی ہیرے والی نوز پِن 25 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔
کچھ برانڈز پر چھوٹے ڈائمنڈ کی نوز پِن 21 ہزار سے 24 ہزار روپے میں دستیاب ہیں جبکہ نسبتا بہتر معیار اور ڈیزائن کے ساتھ ان کی قیمت 60 ہزار روپے سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔

 سونے کی قیمت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سونے اور ہیروں سے آراستہ ہلکے زیورات کی قیمتوں میں فرق کم ہونے لگا ہے (فوٹو: لائیو سائنس)

جیولز کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایک قیراط ہیرے کی قیمت تقریبا ساڑھے تین لاکھ سے آٹھ لاکھ روپے تک ہے۔ اسی طرح 0.25 قیراط کی قیمت تقریبا ایک سے دو لاکھ 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ چھوٹی سائز کی ناک کی نوز پِن میں عموما بہت کم وزن کا ہیرا استعمال ہوتا ہے۔ جیولرز کے مطابق روزمرہ استعمال کی ایک سادہ ڈائمنڈ نوز پِن میں عام طور پر 0.02 سے 0.15 قیراط تک کا ہیرا لگایا جاتا ہے۔
جیولرز کے مطابق پہلے خریدار کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ہیرا ایک بہت مہنگا انتخاب ہے، لیکن اب سونے کے نرخ بڑھنے کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے۔ کسی خاتون کو اگر ایک گرام یا اس سے کم وزن کی سونے کی نوز پِن خریدنی ہو تو اس میں میکنگ چارجز اور ٹیکس شامل ہونے کے بعد قیمت کافی بڑھ جاتی ہے۔
دوسری جانب ہلکے وزن کا چھوٹا ہیرا صارف کو لگژری احساس بھی دیتا ہے اور ڈیزائن بھی منفرد محسوس ہوتا ہے۔
کراچی کے صدر اور طارق روڈ کی جیولری مارکیٹوں سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیوں میں ’منیمل جیولری‘ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وہ بھاری سیٹ خریدنے کی بجائے روزمرہ استعمال کے لیے چھوٹے مگر نمایاں زیورات پسند کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوزپِن، چھوٹے ٹاپس اور باریک انگوٹھیوں میں ہیرے کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کے زیورات میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ کراچی صدر صرافہ مارکیٹ کے جیولر عمران فاروقی کے مطابق اب کئی خواتین چاندی کی انگوٹھیوں، لاکٹ، بریسلیٹ اور نوزپِن میں چھوٹے ہیرے یا مصنوعی ڈائمنڈ لگوا رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ قیمت ہے۔ چاندی نسبتا سستی دھات ہے، اس لیے اگر اس میں چھوٹا ہیرا لگا دیا جائے تو مجموعی زیور کی قیمت سونے کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے، لیکن دیکھنے میں یہ مہنگا اور نفیس محسوس ہوتا ہے۔
مارکیٹ میں ’سلور وِد ڈائمنڈ‘  کا ایک نیا طبقہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقے کی خواتین کے لیے یہ ایک ایسا متبادل بنتا جا رہا ہے جس میں وہ کم قیمت میں جدید فیشن کا حصہ بن سکتی ہیں۔
جیولرز کے مطابق پہلے چاندی کے زیورات زیادہ تر روایتی یا دیسی انداز میں تیار کیے جاتے تھے، لیکن اب ان میں مغربی طرز کے باریک اور نفیس ڈیزائن متعارف کروائے جا رہے ہیں۔
زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ’اس تبدیلی نے مارکیٹ کی حکمتِ عملی بھی بدل دی ہے۔ پہلے دکانوں میں زیادہ تر توجہ بھاری سونے کے سیٹوں پر ہوتی تھی، لیکن اب شوکیس میں ہلکے وزن کی جیولری، ڈائمنڈ سٹڈز اور سلور ڈائمنڈ کلیکشن نمایاں جگہ لے رہی ہیں۔ کئی دکان دار اب یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ  کم بجٹ میں ڈائمنڈ لُک ممکن ہے۔‘
ماہرین کے مطابق اس رجحان کی وجہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی بھی ہے۔ نئی نسل اب زیورات کو صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ فیشن کا حصہ سمجھتی ہے۔ اسی لیے وہ ایسے زیورات کو ترجیح دیتی ہے جو ہلکے، آرام دہ اور روزمرہ استعمال کے قابل ہوں۔

سونے کی ایک عام نوز پِن اب تقریباً 6 سے 15 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہی ہے (فوٹو: قیراط لائن)

دوسری جانب کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ خالص ہیرے اور مصنوعی ڈائمنڈ میں فرق عام خریدار کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں موسانائٹ اور دیگر پتھروں کا استعمال بھی بڑھا ہے، جو دیکھنے میں ہیرے جیسے لگتے ہیں لیکن قیمت میں نسبتا کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ اب ’ڈائمنڈ لُک‘ زیورات خرید رہے ہیں، چاہے وہ مکمل قدرتی ہیرے نہ بھی ہوں۔‘
جیولرز کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافہ اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی جیولری مارکیٹ مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔ بھاری روایتی جیولری سیٹوں کی جگہ ہلکے وزن، چاندی اور ہیرے کے بنے زیورات زیادہ عام ہو سکتے ہیں۔
بازار میں موجود خواتین خریدار بھی اس تبدیلی کی تصدیق کرتی ہیں۔ کراچی کی رہائشی بشریٰ علی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اب روزانہ استعمال کے لیے بھاری سونا پہننے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ ایک تو قیمت زیادہ ہے اور دوسرا سکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں چاندی یا چھوٹے ہیرے والے زیورات نسبتا محفوظ اور آرام دہ محسوس ہوتے ہیں۔‘

چاندی کے زیورات میں اب مغربی طرز کے باریک اور نفیس ڈیزائن تیار کیے جا رہے ہیں (فوٹو: وائبز سٹور)

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سونا ہمیشہ سے بچت اور سرمایہ کاری کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، وہاں زیورات کے رجحانات میں یہ تبدیلی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اگر سونے کی قیمت مزید بڑھتی رہی تو متوسط طبقے کے لیے خالص سونا خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا جس کا اثر چاندی اور ہیرے کے تیار زیورات پر بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جیولری مارکیٹ ایک نئی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں قیمتی دھات کی مقدار سے زیادہ اہمیت ڈیزائن، نفاست اور کم بجٹ میں ’پریمیم لک‘  کو حاصل ہوتی جا رہی ہے۔

 

شیئر: