Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ: 2026-2030 کی حکمت عملی کی منظوری

نیوم میں کوئی پروجیکٹ منسوخ نہیں ہوا، بعض منصوبوں کو موخر کیا ہے۔(فوٹو: الاخباریہ)
سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ(پی آئی ایف) کے گورنر یاسر الرمیان نے کہا ہے کہ’ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں پی آئی ایف بورڈ نے 2026-2030 کی حکمت عملی کی منظوری دی ہے۔‘
اس کا مقصد مقامی معیشت میں مسابقتی نظام قائم کرنا، سٹریٹجک اثاثوں کی قدر میں اضافہ، پائیدار منافع کو یقینی بنانا،مملکت میں اقتصادی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانا اور شہریوں کے معیار زندگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
الاخباریہ کے مطابق یہ فنڈ کی طویل مدتی حکمت عملی کا تسلسل ہے،یہ حکمت عملی مسابقتی ڈومیسٹک ایکو سسٹم کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرے گی۔
الرمیان نے بدھ کو  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیوم میں کوئی پروجیکٹ منسوخ نہیں ہوا، البتہ بعض منصوبوں کو موخر ضرور کیا گیا ہے۔‘
’نیوم کے منصوبے مرحلہ وار اور منظم انداز میں تجارتی بنیادوں پر مکمل کیے جارہے ہیں۔ اس وقت نیوم کے منصوبوں کی ری اسٹرکچرنگ کی جا رہی ہے تاکہ معاشی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔‘
یاسرالرمیان نے 2026 تا 2030 کی حکمت عملی پیش کرتے ہوئے بتایا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے ایکسپو ریاض 2030 کی کامیابی کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جارہے ہی
ان کا کہنا تھا’ سپورٹس کلبز کے لیے سرمایہ کاری کے اہداف حاصل کرلیے گئے۔  پی آئی ایف، ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی کے لیے تین سٹیڈیم تیار کرے گا۔‘

 

 ’معادن‘ کی مارکیٹ ویلیو کو بڑھا کر 2025 میں 247 ارب ریال تک پہچانے میں کردار ادا کیا جبکہ انجینئرنگ کے ڈیزائن کے شعبے میں 12 ہزار روزگار کے مواقع فراہم کیے۔‘
ان کا کہنا تھا ’فنڈ نے نان آئل جی ڈی پی کی ترقی میں 910 ارب ریال کے ساتھ ایک تہائی حصہ ڈالا ہے۔‘
 سیاحتی منصوبے، ریاض کے شاہ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے 96 ملین مسافروں کے ہدف کے حصول میں معاون ہوں گے جبکہ فنڈ مملکت میں ایک لاکھ کمروں پر مشتمل ہوٹلز کی تعمیر اور سیاحتی تجربات کی ترقی میں شریک ہو گا۔
انہوں نے بتایا’ سال 2021 سے 2025 کی تیسری سہ ماہی تک 57 ارب ریال کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔‘

’ 2026 2030 کی حکمت عملی ماضی کی کامیابیوں پر مبنی  اور وژن 2030 کے تیسرے مرحلے سے ہم آہنگ ہے۔‘
یاسر الرمیان کا کہنا تھا ’سال 2015 میں پی آئی ایف کی حکمت عملی کی تبدیلی لائی گئی، جس کے تحت بورڈ کی تنظیم نو، اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل سے ربط اور عالمی سرمایہ کاری میں توسیع شامل تھی۔‘
’اس دوران وژن 2030 کے تحت نیوم، ریڈ سی، القدیہ اور روشن جیسے بڑے منصوبے شروع کیے گئے جبکہ ’فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو‘ ایک انٹرنیشنل پلیٹ فارم کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔‘

 

شیئر: