Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یو اے ای سے آنے والا پاکستان کا تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گیا: رپورٹ

اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سمندری ٹریفک پر نظر رکھنے والے اداروں ایل ایس ای جی اور کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سے خام تیل لانے والا پاکستانی جھنڈا بردار جہاز آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے باہر نکل گیا ہے۔
 برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرا جو ابوظبی سے آ رہا تھا اور اس میں تقریباً چار لاکھ 40 ہزار بیرل تیل موجود ہے اور وہ کراچی کی بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے جو 19 اپریل کو پہنچے گا۔
شالامار نام کا یہ ٹینکر پاکستان کے ان دو جہازوں میں سے ایک تھا جو اتوار کو تیل کی مصنوعات لانے کے لیے آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تھے، بدھ کو پاکستان کے وزیر پیٹرولیم نے کہا تھا کہ جہاز نے متحدہ عرب امارات کے ٹرمینل اے ڈی این او سی سے تیل لوڈ کیا۔
پاکستان کی شپنگ کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔
امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے آبنائے ہرمز پر آمد و رفت سست روی کا شکار ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ایک ایڈوائزری میں کہا گیا ہے ناکہ بندی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ممنوعہ سمجھے جانے والے کارگوز کو بھی اس میں شامل کرنا ہے اور کسی بھی ایسے جہاز جس پر ایرانی سرزمین کی طرف جانے کا شبہ ہو، وہ ’دوران جنگ کے اس حق کی زد میں آئے گا جس میں معائنہ کیا اور تلاشی لی جا سکتی ہے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ ناکہ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے 72 گھنٹے کے دوران 14 جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر واپس مڑ گئے ہیں۔
خیال رہے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 10 اور 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کے کسی نتیجے تک نہ پہنچنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کے حوالے بہت اہمیت کی حامل ہے جہاں سے تجارت کا 20 فیصد حصہ ہو کر گزرتا ہے۔
18 اپریل کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اس کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع میں قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

 

شیئر: