Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کنگ عبدالعزیز لائبریری میں ’جدہ اسلامک پورٹ‘ کی نایاب تصاویر کی نمائش

نمائش میں رکھے گئے شاہکاروں میں سنہ 1936 کی تصاویر ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے ’جدہ اسلامک پورٹ‘ کی سنہ 1936 کی نایاب تصویروں کی نمائش کا انعقاد کیا ہے، جن میں سنہ 1947 سے سنہ 1972 تک کی تصاویرشامل ہیں۔
ان تصویروں سے سعودی عرب کے مغربی حصوں سے متصل بحیرۂ احمر میں اِس پورٹ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ کس طرح یہ جگہ مملکت میں زائرین کی آمد کے اہم مقام سے رفتہ رفتہ ترقی کرتی ہوئی ایک بڑی عالمی بندرگاہ میں تبدیل ہوئی ہے۔
نمائش میں رکھے گئے شاہکاروں میں سنہ 1936 کی تصاویر ہیں جن میں سے ایک میں بھاری ٹریفک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ایک تصویر میں، حج کے لیے زائرین کو لانے والا بحری جہاز لنگر انداز ہو رہا ہے۔ اسی طرح دیگر تصاویر میں جدہ کی اس اہم پورٹ پر خواتین زائرین کی آمد کا منظر بھی عکس بند ہے۔
دیگر تصاویر میں پورٹ کے قریب واقع ایک گودام دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک منظر میں ایک جہاز کے قریب کارکن کام میں مصروف ہیں، کسی جگہ زائرین کا ایک گروپ کشتی پر سوار ہے جبکہ ایک اور تصویر میں دوسرے زائرین، بحری جہاز سے بندرگاہ پر اترنے کے منتظر ہیں۔

سنہ 1930 سے 1940 کے درمیانی عرصے کی تصویروں سے واضح ہوتا ہے کہ اپنے قیام کے بعد اس بندرہ گاہ نے طویل عرصے تک اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنہ 26 ہجری میں حضرت عثمان بن عفان کے دور میں الشیبہ کے بجائے مکہ کی اہم بندرگاہ بننے سے اب تک، یہ پورٹ دنیا بھر سے زائرین کے سعودی عرب میں داخلے کے لیے اہم ترین جگہ رہی ہے۔
تصویروں کو دیکھنے سے بندرگاہ کے علاوہ مختلف قومیتیوں کے افراد کا بھی علم ہوتا ہے۔ ان میں ایک تصویر، حرمین شریفین کے فوٹوگرافر محمد حلمی کی ہے جو مسافروں کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک اور تصویر میں مصر کے اعزازی وفد کو دیکھا جا سکتا ہے جو سنہ 1936 میں حج کے لیے سعودی عرب آیا تھا۔

ایک جگہ متختلف لباس زیبِ تن کیے ہوئے افراد کا ایک گروپ نگاہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو لنگر انداز جہاز کے سامنے کھڑا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اِس بندرگاہ پر اُترنے والے زائرین مختلف مقامات سے آیا کرتے تھے۔
سنہ 1972 کی تصاویر میں ’جدہ اسلامک پورٹ‘ کے ازسرِ نو افتتاح کا منظر بھی ہے جہاں مرحوم شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود بھی نظر آتے ہیں۔

ایک تصویر میں وہ یادگاری تختے کی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں وہ تقریر کر رہے ہیں جبکہ اِس تقریب میں کئی شہزادے اور مہمان بیٹھے ہیں۔ اس موقع پر اُن جہازوں کی تصاویر بھی لی گئی ہیں جن کی سجاوٹ کی گئی تھی۔
’جدہ اسلامک پورٹ‘ جہاز رانی کے ایک بڑے عالمی راستے پر واقع ہے جو ایشا، افریقہ اور یورپ کے درمیان رابطے کا کام بھی کرتی ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کی اہم ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سمندری تجارت اور سامان اور کنٹینر ایک سے دوسرے جہاز پر لادے جاتے ہیں۔

 

شیئر: