Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض: تنزانیہ کی باہم جڑی ہوئی بہنیں 16 گھنٹے کے کامیاب آپریشن کے بعد علیحدہ

سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی طبی ٹیموں نے جمعرات کو ایک نئی طبی کامیابی حاصل کی ہے۔ 18 ماہ کی تنزانیہ کی جڑی ہوئی بچیوں نینسی اور نائس کو پیچیدہ آپریشن میں علیحدہ کر دیا۔
یہ سرجری ریاض میں واقع کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کی گئی جو تقریباً 16 گھنٹے 30 منٹ جاری رہی۔
آپریشن کا آخری مرحلہ مکمل ہونے پر کامیاب سرجری کے اعلان پر دل کو چھو لینے والے جذبانی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جڑی ہوئی بچیوں کی والدہ شدت جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ ’35 کنسلٹنس، ماہر ڈاکٹروں اور معاون عملے پر مشتمل ٹیم  نے علیحدگی کا عمل دس مراحل میں مکمل کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دونوں بچیاں سینے کے نچلے حصے، پیٹ اور کولہے کے حصے میں جڑی ہوئی تھیں۔‘

نینسی اور نائس تنزانیہ کی تیسری جڑواں بچیاں ہیں جنہیں سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام  کے تحت علیحدہ کیا گیا۔
یہ پروگرام 1990 میں شروع ہوا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 71 جڑواں بچوں کے آپریشن کیے جا چکے ہیں۔
اب تک ٹیم نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے آنے والے مجموعی طور پر 157 کیسز کا جائزہ لیا ہے۔
فلپائنی جڑواں بچیاں کلیا اور موریس این کو گزشتہ ماہ ایک کامیاب سرجری کے ذریعے علیحدہ کر دیا گیا جو 18 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔

 

شیئر: