ریاض: تنزاندیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں کی کامبیاب سرجری، والدہ شدت جذبات سے آبدیدہ
کنگ عبداللہ چلڈرن ہسپتال میں سرجری تقریبا 12 گھنٹے جاری رہی۔ ( فوٹو: الاخباریہ)
سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی طبی ٹیموں نے جمعرات کو 18 ماہ کی تنزانیہ کی جڑی ہوئی بچیوں نینسی اور نائس کو پیچیدہ آپریشن میں کامیابی سے علیحدہ کر دیا۔
یہ سرجری ریاض میں واقع کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کی گئی جو تقریبا 12 گھنٹے جاری رہی۔
آپریشن کا آخری مرحلہ مکمل ہونے پر کامیاب سرجری کے اعلان پر دل کو چھو لینے واللے جذبانی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جڑی ہوئی بچیوں کی والدہ شدت جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا،
قبل ازیں سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا تھا کہ’ دونوں بچیاں سینے کے نچلے حصے، پیٹ اور کولہے کے حصے میں جڑی ہوئی ہیں۔ جب وہ جنوری کے آخر میں سعودی عرب پہنچیں تو ان کا مکمل طبی جائزہ لیا گیا۔‘
35 کنسلٹنٹس، ماہر ڈاکٹروں اور معاون عملے پر مشتمل ٹیم نے علیحدگی کا عمل نو مراحل میں مکمل کیا۔
نینسی اور نائس تنزانیہ کی تیسری جڑواں بچیاں ہیں جنہیں سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت علیحدہ کیا گیا۔
یہ پروگرام 1990 میں شروع ہوا تھا، اور اب تک مجموعی طور پر 71 جڑواں بچوں کے آپریشن کیے جا چکے ہیں۔
اب تک ٹیم نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے آنے والے مجموعی طور پر 157 کیسز کا جائزہ لیا ہے۔
فلپائنی جڑواں بچیاں کلیا اور موریس این کو گزشتہ ماہ ایک کامیاب سرجری کے ذریعے علیحدہ کر دیا گیا جو 18 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔
