Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایڈمرل عبداللہ الشھری بحری دفاعی اتحاد کے کمانڈر مقرر، اتحاد میں توسیع کی توقع

سعودی عرب سمیت 14 ملکوں نے بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارت دفاع نے ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشھری کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق جمعرات کو وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’یہ اقدام 30 جولائی کو بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے اعلان کے بعد بنیادی انتظامات مکمل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔‘
وزارت نے اس تقرری کو اتحاد کی انسٹی ٹیوشنل ڈیولپمنٹ اور اس کی آپریشنل تیاری بڑھانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
بیان کے مطابق عبداللہ بن سالم الشھری، اتحاد کی مشترکہ بحری دفاعی کارروائیوں کی قیادت اور رکن ممالک و دیگر بحری اتحاد کے ساتھ  آپریشنل منصوبہ بندی اور کو آرڈینیشن کی نگرانی کریں گے۔
علاوہ ازیں کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد کے کمانڈر ریئر ایڈمرل عبداللہ سالم الشھری نے واضح کیا کہ ’اتحاد خالصتا دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا ہدف کوئی ملک، تنظیم یا اتحاد کو نشانہ بنانا نہیں۔‘
اتحاد کے قیام سے متعلق اجلاس میں 43 ممالک کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری اس امر پر متفق ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ کثیر القومی دفاعی تعاون اور مسلسل رابطہ ہی جہاز رانی کی آزادی، سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی بنیادی ضمانت ہیں۔

ریئر ایڈمرل عبداللہ سالم الشھری نے بتایا ’اجلاس کے اختتام پر متعدد ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ اتحاد میں شمولیت کے خواہش مند ممالک کے لیے دروازے کھلے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اتحاد کے صدر دفتر اور قیادت کی میزبانی سعودی عرب کو ملنا علاقائی اور عالمی سلامتی کے فروغ میں مملکت کے قائدانہ کردار کا واضح عکاس ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’اتحاد، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد، عالمی قوانین اور ریاستوں کی خود مختاری کے احترام کے مطابق کام کرے گا، جبکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہوگی۔‘
یاد رہے سعودی عرب سمیت 14 ملکوں نے بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطی کی اہم آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔
 اتحاد کے بانی ارکان میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، جبوتی، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجر اور صومالیہ شامل ہیں۔

 

شیئر: