بین الاقوامی برادری بحری سلامتی کو درپیش خطرات کی سنگینی سے آگاہ ہے: ترکی المالکی
سعودی عرب نے بحری خطرات کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ’کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد کے قیام کا اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری میری ٹائم سکیورٹی اور فریڈم آف نیویگیشن کو درپیش خطرات کی سنگینی سے آگاہ ہے۔‘
ایس پی کے کے مطابق ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہر ملک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب عسکری و سیاسی اقدامات کرے۔‘
ترجمان نے کہا ’بحیرہ احمر سے متصل ممالک کے مابین بحری گزرگاہوں کے تحفظ اور مشترکہ مفادات کے دفاع کے لیے مسلسل رابطہ و تعاون جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کے تجربات کی بنیاد پر سعودی عرب نے بحری خطرات کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان میں ڈرون حملوں، تیز رفتار کشتیوں اور بحری بارودی سرنگوں کا موثر مقابلہ شامل ہے۔‘
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ’بحری سلامتی صرف ساحلی ممالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ان تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے جو محفوظ بحری گزرگاہوں سے مستفیض ہوتے ہیں۔‘
’ بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں اور تیل بردار جہازوں کا تحفظ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بحری سلامتی کو نشانہ بنانے والی دہشت گردانہ کارروائیاں یا دیگر خطرات پوری عالمی برادری کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔‘
علاوہ ازیں کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد کے کمانڈر ریئر ایڈمرل عبداللہ سالم الشھری نے واضح کیا کہ ’اتحاد خالصتا دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا ہدف کوئی ملک، تنظیم یا اتحاد کو نشانہ بنانا نہیں۔‘
اتحاد کے قیام سے متعلق اجلاس میں 43 ممالک کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری اس امر پر متفق ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ کثیر القومی دفاعی تعاون اور مسلسل رابطہ ہی جہاز رانی کی آزادی، سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی بنیادی ضمانت ہیں۔
ریئر ایڈمرل عبداللہ سالم الشھری نے بتایا ’اجلاس کے اختتام پر متعدد ممالک نے مشترکہ اعلامے میں اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ اتحاد میں شمولیت کے خواہش مند ممالک کے لیے دروازے کھلے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اتحاد کے صدر دفتر اور قیادت کی میزبانی سعودی عرب کو ملنا علاقائی اور عالمی سلامتی کے فروغ میں مملکت کے قائدانہ کردار کا واضح عکاس ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’اتحاد، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد، عالمی قوانین اور ریاستوں کی خود مختاری کے احترام کے مطابق کام کرے گا، جبکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہوگی۔‘
