انڈیا میں اشرافیہ کے طاقتور گڑھ دلی جمخانہ کلب کے خلاف کارروائی، خالی کرنے کا حکم
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کی عوامی سیاست کے باعث جمخانہ کلب جیسے اداروں کی اہمیت میں بتدریج کمی آئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین حکومت نے ہفتے کے روز ملک کے سب سے بااثر اور خصوصی نجی کلبوں میں شمار ہونے والے جمخانہ کلب کو دو ہفتوں کے اندر اپنی عمارت خالی کرنے کا حکم دے دیا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی روایتی اشرافیہ کے خلاف طویل مہم کا ایک اور قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور نے کلب کو ہدایت دی کہ وہ 5 جون تک نئی دہلی کے مرکز میں واقع اپنی وسیع اراضی حکومت کے حوالے کرے۔ حکومت کے مطابق یہ جگہ دفاعی اور سکیورٹی انفراسٹرکچر سمیت اہم عوامی مقاصد کے لیے فوری طور پر درکار ہے۔
1913 میں برطانوی دورِ حکومت میں ’امپیریل دہلی جمخانہ کلب‘ کے نام سے قائم ہونے والا یہ ادارہ طویل عرصے سے دولت مند اور بااثر شخصیات کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
ابتدا میں اس کلب کی رکنیت صرف برطانوی نوآبادیاتی اشرافیہ تک محدود تھی اور مقامی افراد کے داخلے پر امتیازی پابندیاں عائد تھیں۔ تاہم 1947 میں انڈیا کی آزادی کے بعد یہ سیاستدانوں، اعلیٰ بیوروکریٹس، ججوں اور کاروباری شخصیات کے لیے نیٹ ورکنگ کا ایک طاقتور مرکز بن گیا۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق وزارت نے کلب کے سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں کہا کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے متصل یہ زمین ’دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط اور محفوظ بنانے اور دیگر اہم عوامی سلامتی کے مقاصد‘ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
یہ اقدام ایک وسیع تر سیاسی تبدیلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خود کو انڈیا کی روایتی اشرافیہ، خصوصاً نہرو-گاندھی خاندان کی قیادت والی کانگریس پارٹی سے وابستہ طبقے، کے مخالف کے طور پر پیش کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کی عوامی سیاست کے باعث جمخانہ کلب جیسے اداروں کی اہمیت میں بتدریج کمی آئی ہے۔
ہندو قوم پرست وزیر اعظم مودی طویل عرصے سے برطانوی دور کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے مختلف نوآبادیاتی یادگاروں اور اداروں کو اپنی بڑی ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
تقریباً سو سال پرانی عمارتوں پر مشتمل جمخانہ کلب کی ممبرشب آج بھی انڈین دارالحکومت میں سب سے زیادہ مطلوب ہے، جہاں رکن بننے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے اور اسے طاقت و اثر و رسوخ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں کلب اندرونی تنازعات اور مالی بدانتظامی کے الزامات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہا ہے۔
مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ شخصیات بارہا کلب کی قیادت پر گروہ بندی اور ناقص انتظامات کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
