Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی کوہ پیما نے ماؤنٹ ایورسٹ ریکارڈ 20 ویں مرتبہ سر کر لی

برطانوی کوہ پیما کینٹن کول نے پہلی بار 2004 میں مائونٹ ایورسٹ سر کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما کینٹن کول نے جمعہ کے روز ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی 20 ویں بار سر کر کے اپنا ہی ریکارڈ مزید بہتر کر لیا، اور یوں وہ غیر نیپالی کوہ پیماؤں میں دنیا کی بلند ترین چوٹی سب سے زیادہ بار سر کرنے والے پہلے کوہ پیما بن گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ موسمِ بہار میں کوہ پیمائی شروع ہونے کے بعد 600 سے زائد کوہ پیما مائونٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں، جنہوں نے مختصر سازگار موسم اور نسبتاً پرسکون ہواؤں سے فائدہ اٹھایا۔
سرکاری حکام نے کہا ہے کہ ’اطلاعات ہیں کہ وہ آج صبح سویرے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔‘
52  سالہ کوہ پیما کینٹن کول نے پہلی بار 2004 میں مائونٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا اور وہ اس کے بعد تقریباً ہر سال کسی نہ کسی مہم میں شامل رہے ہیں، جہاں وہ اپنے کلائنٹس کو 8849 میٹر بلند چوٹی تک لے جاتے ہیں۔
انہوں نے 2021 میں اپنی 15ویں کامیابی کے ساتھ ہی غیر نیپالی کوہ پیما ڈیوڈ ہان کا ریکارڈ برابر کر دیا تھا، اور انہوں نے اگلے ہی سال یہ اعزاز اکیلے اپنے نام کر لیا۔
1996  میں راک کلائمبنگ کے دوران ایک حادثے میں ان کی دونوں ایڑھیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں جس کے بعد انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ شاید دوبارہ بغیر سہارے کے چل نہیں سکیں گے۔
انہوں نے 2022 میں اپنی 16ویں چڑھائی کے بعد اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نیپالی کوہ پیماؤں کی کامیابیوں کے مقابلے میں ان کا ایورسٹ ریکارڈ ’اس قدر شاندار نہیں‘ ہے۔
اب تک کم از کم سات نیپالی کوہ پیما 20 سے زیادہ بار مائونٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نیپالی کوہ پیماؤں کی کامیابیوں کے مقابلے میں ان کا ایورسٹ ریکارڈ ’اس قدر شاندار نہیں‘ ہے (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ’مجھے حیرت ہے کہ اس میں ان کی اس قدر دلچسپی کیوں ہے، جبکہ شرپا کوہ پیماؤں کے پاس مجھ سے زیادہ مواقع موجود ہیں۔‘
نیپال کے کوہ پیما کامی ریٹا شرپا کو ’ایورسٹ مین‘کا خطاب دیا گیا ہے، جنہوں نے اتوار کے روز 32ویں بار ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔
اسی دن 52 سالہ لھاکپا شرپا نے بھی خواتین میں اپنا ریکارڈ بہتر کرتے ہوئے 11ویں بار چوٹی سر کی۔
نیپال نے اس سیزن میں کوہ پیماؤں کے لیے 492 اجازت نامے جاری کیے ہیں، جبکہ ایورسٹ کے دامن میں خیموں پر مشتمل ایک عارضی شہر بھی آباد کیا گیا ہے جہاں غیر ملکی کوہ پیما اور معاون عملہ موجود ہے۔
کوہ پیمائوں کی بڑی تعداد نے پہاڑ پر گنجائش سے زیادہ بھیڑ کے خدشات کو ایک بار پھر جنم دیا ہے، خاص طور پر اگر خراب موسم چڑھائی کے مختصر وقفے کو مزید کم کر دے۔
بدھ کے روز اندازاً 275 افراد ایک ہی دن میں چوٹی تک پہنچے، جو جنوبی رُخ پر ایک نیا ریکارڈ ہے۔
اس سیزن میں ایورسٹ مہمات سے وابستہ تین نیپالی کوہ پیما ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
نیپال دنیا کی دس بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ کا گھر ہے اور یہ ہر موسمِ بہار میں سینکڑوں مہم جوؤں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
کوہ پیمائی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اسے ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے، جو 1953 میں ایڈمنڈ ہلیری اور تینزنگ نورگے شرپا کی پہلی کامیاب چڑھائی کے بعد سے مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

شیئر: