انڈین دارالحکومت دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں، ریبیز کے خدشات اور عوامی تحفظ کے سوال پر انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک اہم اور سخت فیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ انسانی جان کی حرمت اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو ترجیح دی جائے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے سابقہ احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا جن میں آوارہ کتوں کو دوبارہ انہی علاقوں میں چھوڑنے کی اجازت مانگی گئی تھی جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔
اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سے کتوں کے حق میں 600 سے زائد وکیلوں نے رجوع کیا تھا، جن میں دہلی کے سرکردہ وکلا بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیں
-
القریات میں گھر کے باہر دو بچوں پر آوارہ کتے کا حملہNode ID: 677246
-
انڈیا: گاؤں کی پنچایت کی سربراہ پر 30 آوارہ کتے مارنے کا مقدمہNode ID: 724111
-
مصر میں ایک آوارہ کتے نے دنیا بھر میں ہاہاکار مچادیNode ID: 880934
یہ معاملہ اُس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب دہلی میں ایک چھ سالہ بچی کی کتے کے کاٹنے اور مبینہ ریبیز کے باعث موت کی خبر سامنے آئی۔
عدالت نے بعدازاں از خود نوٹس لیتے ہوئے دہلی، نوئیڈا، غازی آباد، گروگرام اور فرید آباد سمیت این سی آر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر درخواستوں کی سماعت شروع کی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ سنانے والی تین رکنی بنچ میں جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا شامل تھے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملک میں آوارہ کتوں کے حملے ’تشویش ناک حد‘ تک پہنچ چکے ہیں اور ریاست اس معاملے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت باوقار زندگی کا حق صرف زندہ رہنے تک محدود نہیں بلکہ خوف کے بغیر عوامی مقامات پر چلنے پھرنے کا حق بھی اس میں شامل ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ’ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، کھیل کے میدانوں، بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں جیسے حساس عوامی مقامات سے پکڑے گئے کتوں کو نس بندی اور ویکسی نیشن کے بعد دوبارہ وہیں چھوڑنا ضروری نہیں ہے۔‘
عدالت نے جانوروں کی بہبود کے ادارے اے ڈبلیو بی آئی یعنی اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کے جاری کردہ ایس او پی کو بھی برقرار رکھا۔
اس مقدمے میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں، این جی اوز اور ڈاگ فیڈرز نے عدالت سے سابقہ حکم واپس لینے یا اس میں ترمیم کی اپیل کی تھی۔
بعض سماجی شخصیات بھی اس بحث میں شامل رہیں، جن میں معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور کا نام بھی سامنے آیا، جنہوں نے اپنے قانونی نمائندوں کے ذریعے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہ روا رکھا جائے۔ تاہم عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ زمینی حقیقتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقدمے میں مختلف فریقوں کی نمائندگی سینئر وکلا اور قانونی ماہرین نے کی، تاہم تمام وکلا کے نام تفصیل کے ساتھ سرکاری طور پر جاری نہیں کیے گئے۔
عدالت میں ایک طرف شہریوں کے تحفظ اور صحت عامہ کا مؤقف پیش کیا گیا، جبکہ دوسری طرف جانوروں کے حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دلائل دیے گئے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ آئندہ برسوں میں شہری انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنوں اور جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے۔
عدالت نے ریاستی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ 2023 کے اینیمل برتھ کنٹرول رول پر پوری طرح عمل درآمد کریں، مناسب شیلٹر ہومز قائم کریں اور آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مستقل نظام تشکیل دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ برسوں سے انفراسٹرکچر کی کمی اور ناقص عمل درآمد کے باعث یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد صارفین نے عدالت کے فیصلے کو عوامی تحفظ اور خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے تحفظ کے حوالے سے ضروری قرار دیا۔ دوسری طرف جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے کے بعد آوارہ کتوں پر تشدد کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
تانیہ نامی ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ملک کے کچھ بہترین قانونی ذہن سپریم کورٹ میں کمیونٹی کے کتوں کی حمایت میں کھڑے تھے۔ 600 سے زیادہ وکلا ہمدردی، بقائے باہمی، ویکسینیشن، نس بندی اور کمیونٹی کتوں کے قانونی انتظام کی وکالت کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہوئے جن میں ہندوستان کے سب سے معزز سینئر وکلا بھی شامل ہیں۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’اپنے آپ سے پوچھیں کہ ملک کے کچھ تیز ترین قانونی ذہنوں نے ہمدردی، سائنس اور بقائے باہمی کے ساتھ کھڑے ہونے کا انتخاب کیوں کیا۔‘
Some of the country’s finest legal minds stood in support of community dogs in the Supreme Court.
Over 600 lawyers, including some of India’s most respected senior advocates, appeared for the side advocating compassion, coexistence, vaccination, sterilisation and lawful… pic.twitter.com/DH7BpFfhWE
— Tanya (@SnooopSnoopy) May 20, 2026
ایک دوسرے صارف سنجیو چڈھا نے لکھا کہ ’کپل سبل سے لے کر سنگھوی تک 600 سے زیادہ وکیلوں اور کتوں اور آوارہ کتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپس صدمے میں ہیں۔ ہمیں بھی کتے پسند ہیں لیکن ان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں ریاستیں آوارہ کتوں کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں وہاں ان کتوں سے محبت کرنے والے گروہوں اور 600 وکلا کو چاہیے کہ وہ 1200 کتوں کو گود لے لیں۔‘
Shocked 600 top lawyer Kapil to Singhvi and others are fighting for the rights of #DogLovers sorry #StrayDog . We also love #Dogs but their population need to be controlled. Where the states are unable to work on #StrayDogs let these dog lovers and 600 lawyers to adopt 1200. https://t.co/TSUmGn7CdP pic.twitter.com/Sk9Dub6O39
— Sanjeev Chadha (@sanjeevchadha8) May 20, 2026
قانونی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صرف آوارہ کتوں کے بارے میں نہیں بلکہ شہری زندگی، عوامی صحت اور جانوروں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک بڑی آئینی بحث کی نمائندگی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے عملی اثرات دہلی سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔












