Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی: گرین کارڈ کے خواہشمندوں کو اب واپس اپنے ملک کیوں جانا پڑے گا؟

امریکہ میں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں کے لیے ایک انتہائی اہم اور حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی جو امریکہ میں مستقل رہائش یا ’گرین کارڈ' حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں، انہیں اب امریکی سرزمین چھوڑ کر اپنے آبائی ملک جانا ہوگا اور وہیں سے اس عمل کے لیے درخواست دینا ہو گی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نصف صدی سے رائج سفارتی اور قانونی طریقہ کار میں اس اچانک تبدیلی نے امریکہ میں موجود تارکینِ وطن، امیگریشن کے وکلاء اور امدادی تنظیموں میں شدید تشویش اور الجھن پیدا کر دی ہے۔
پچھلی نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ قانون نافذ تھا کہ امریکہ میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکی ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی گرین کارڈ کے حصول کا پورا عمل مکمل کر سکتے تھے۔
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں میں امریکی شہریوں کے شریکِ حیات (بیوی یا شوہر)، ورک اور سٹوڈنٹ ویزا ہولڈرز اور سیاسی پناہ گزین شامل رہے ہیں۔
امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن (یو ایس سی آئی ایس) کے نئے اعلامیے کے مطابق اب عارضی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کو مستقل رہائش کا اہل بننے کے لیے اپنے ہوم کنٹری واپس جانا پڑے گا۔
اس قانون سے استثنیٰ صرف ’غیر معمولی حالات‘ میں ہی ممکن ہو گا اور اس بات کا فیصلہ خود یو ایس سی آئی ایس  کے افسران کریں گے کہ آیا کوئی درخواست گزار ان حالات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔
امریکی محکمے نے اپنے ایک بیان میں اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’غیر ملکی جیسے طلبہ، عارضی ملازمین یا سیاحتی ویزے پر آنے والے افردا ایک مخصوص مقصد کے تحت اور مختصر وقت کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ ہمارا نظام اسی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ اپنا دورہ ختم ہونے پر واپس جائیں۔ ان کا یہ عارضی سفر گرین کارڈ کے عمل کا پہلا زینہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان تارکینِ وطن کے لیے قانونی امیگریشن کو مزید مشکل بنانے کی کڑی ہے جو پہلے سے امریکہ میں موجود ہیں یا یہاں آنے کی امید رکھتے ہیں۔
'پالیسی کا مقصد واضح ہے'
امریکہ میں ہر سال قریباً چھ لاکھ افراد ملک کے اندر سے ہی گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کے دوران یو ایس سی آئی ایس کے سینیئر مشیر رہنے والے ڈوگ رینڈ کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی کا مقصد بالکل واضح ہے۔
ڈوگ رینڈ کے مطابق ’اس انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ مستقل رہائش حاصل کرنے والے لوگوں کی تعداد کم سے کم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ گرین کارڈ ہی آگے چل کر امریکی شہریت کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ وہ اس راستے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے بند کرنا چاہتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ یو ایس سی آئی ایس نے ابھی تک یہ وضاحت نہیں کی کہ اس تبدیلی کا اطلاق کس تاریخ سے ہو گا، کیا درخواست گزاروں کو پورے عمل کے دوران اپنے ملک میں ہی رکنا پڑے گا اور کیا یہ قانون ان لوگوں پر بھی اثر انداز ہو گا جن کی گرین کارڈ کی درخواستیں پہلے ہی جمع ہو چکی ہیں اور زیرِ التوا ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھیجی گئی ایک ای میل میں ادارے نے صرف اتنا اشارہ دیا ہے کہ جو لوگ امریکہ کو ’معاشی فائدہ‘ پہنچا رہے ہیں یا جن کا رکنا ’قومی مفاد‘ میں ہے، انہیں شاید امریکہ میں رہنے کی اجازت مل جائے جبکہ باقی سب کو باہر جانا پڑے گا۔
’خاندانوں کی مستقل علیحدگی کا خدشہ‘
یہ نئی تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب انتظامیہ پہلے ہی درجنوں ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیاں یا ویزہ پراسیسنگ میں تاخیر جیسے اقدامات کر چکی ہے۔
ماہرین اور وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ ان مخصوص ممالک کے شہریوں کو گرین کارڈ کے لیے واپس بھیجنے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ شاید کبھی واپس نہ آ سکیں۔
انسانی حقوق اور مہاجرین کی آباد کاری کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ورلڈ ریلیف‘ نے خط لکھ کر اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ’اگر خاندانوں کو یہ بتایا جائے کہ ان کا غیر ملکی فیملی ممبر ویزہ پراسیسنگ کے لیے اپنے ملک واپس جائے جبکہ وہاں امریکی ویزے کی پراسیسنگ ہی بند ہو تو یہ ایک نا ختم ہونے والی الجھن بن جائے گی۔ یہ پالیسیاں عملی طور پر خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کر دیں گی۔‘
حکومت نے اس اقدام کو ’قانون کی اصل روح کی طرف واپسی‘ اور قانونی سقم کو بند کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد اپنے ملکوں کے حالات خراب ہونے یا وہاں امریکی سفارت خانہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس نہیں جا سکتے۔ مثال کے طور پر اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے افغانستان میں امریکی سفارت خانہ مستقل بند ہے۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کی سینیئر ڈائریکٹر شیو دلال کا کہنا ہے کہ حکومت دہائیوں پرانے طریقہ کار کو یکسر بدلنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا اثر امریکی شہریوں سے شادی کرنے والوں، ڈاکٹرز، انجینیئرز اور مذہبی ویزہ ہولڈرز سب پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض امریکی سفارت خانوں میں اس وقت ویزہ انٹرویو کے لیے ایک سال سے زائد کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کیلیفورنیا امیگریشن پروجیکٹ کی سینیئر وکیل جیسی ڈی ہیون کا کہنا ہے کہ اس وقت کم آمدنی والے تارکینِ وطن شدید خوف کا شکار ہیں اور اس مبہم پالیسی کی وجہ سے لوگ قانونی طور پر گرین کارڈ کے لیے اپلائی کرنے سے بھی کترانے لگیں گے۔

شیئر: