امریکہ دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو ’منہ توڑ‘ جواب دیا جائے گا: ایرانی مذاکرات کار
امریکہ دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو ’منہ توڑ‘ جواب دیا جائے گا: ایرانی مذاکرات کار
ہفتہ 23 مئی 2026 14:56
باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتے کے روز تہران میں پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران اپنی قوم اور ملک کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لی ہیں، اور اگر امریکہ نے ’بیوقوفی کرتے ہوئے دوبارہ جنگ شروع کی‘ تو اس کے نتائج ’زیادہ تباہ کن اور تلخ‘ ہوں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے امریکہ پر ’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ کی قیادت تازہ امن تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔
پاکستان کے طاقتور آرمی چیف جمعہ کے روز تہران پہنچے تاکہ ثالثی کی کوششوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کا منصوبہ منسوخ کر دیا اور ’حکومتی معاملات سے متعلق حالات‘ کے باعث واشنگٹن میں رکنے کا فیصلہ کیا، جس سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئیں کہ صورتحال ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے اتار چڑھاؤ سے بھرپور مذاکرات کو نئے حملوں اور جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے درمیان ’سرحد‘ پر معلق قرار دیا ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں تزویراتی (سٹریٹجک) اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کے گرد دونوں طرف سے ناکہ بندیاں ہوئیں جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔
آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ہفتوں دورانیے کے مذاکرات اب بھی کوئی مستقل حل نکالنے یا آبنائے ہرمز تک مکمل رسائی بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے عالمی تیل کی سپلائی کی بہت بڑی مقدار رک گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ ایک فون کال میں کہا کہ تہران سفارتی عمل میں مصروف ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ کی جانب سے ’سفارت کاری کے ساتھ بار بار غداری اور ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ متضاد موقف اور بار بار حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے جا رہے ہیں۔
تہران کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ عباس عراقچی نے کشیدگی کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران سنیچر کو اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے فون پر بات چیت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متحارب فریقین کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی میڈیا اداروں ’ایکسیوس‘ اور ’سی بی ایس نیوز‘نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس ایران پر حملوں پر غور کر رہا ہے، اگرچہ دونوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے بارہا کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے خلاف نئی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو کانفرنس کے موقع پر کہا کہ پرامن حل کی طرف ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن ’معاملات ابھی وہاں تک نہیں پہنچے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم بہت مشکل لوگوں کے گروہ سے نمٹ رہے ہیں۔ اور اگر یہ نہیں بدلتا تو صدر واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دوسرے اختیارات بھی موجود ہیں۔‘
پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر جمعے کو تہران پہنچنے کے بع رات گئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی تاکہ ’مزید کشیدگی کو روکنے کے مقصد سے کی جانے والی تازہ ترین سفارتی کوششوں اور اقدامات‘ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔