انڈیا میں رکشوں پر صدر ٹرمپ کی تصاویر اور امریکہ کے لیے خیرمقدمی نعرے، ماجرا کیا ہے؟
انڈیا میں رکشوں پر صدر ٹرمپ کی تصاویر اور امریکہ کے لیے خیرمقدمی نعرے، ماجرا کیا ہے؟
بدھ 20 مئی 2026 16:06
دہلی میں 100 کے قریب ایسے رکشے دوڑتے پھرتے ہیں جن پر امریکہ کے لیے خیرمقدمی نعرے درج ہیں (فائل فوٹو: اے پی)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی ہنگامہ خیز ٹریفک میں جہاں آٹو رکشوں کے پچھلے حصے سائن بورڈز بنے دکھائی دیتے ہیں وہیں ان میں ایک نئی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے اور وہ کسی اور نہیں امریکی صدر کی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے ’ہیپی برتھ ڈے امریکہ‘ اس کے پس منظر میں امریکی جھنڈا بھی دکھائی دے رہا ہے۔
حالیہ چند ہفتوں کے دووران انڈین داراحکومت میں 100 کے قریب ایسے آٹو رکشے نظر آنا شروع ہوئے ہیں جن پر امریکہ کے لیے خیرمقدمی تصویریں اور عبارات درج ہیں جن میں سٹیچو آف لبرٹی بھی شامل ہے، جبکہ دوسرے رکشوں پر انگریزی بولنے کے کورسز، جڑی بوٹیوں سے علاج اور رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہار ملتے ہیں۔
چونکہ امریکی مواد رکھنے والے تھوڑے مختلف لگتے ہیں اس لیے لوگ ان کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔
اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی آخر وجہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مہم کا آغاز پچھلے ماہ انڈیا میں امریکی سفیر نے شروع کیا تھا اور کا تعلق امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی سے ہے، اس حوالے سے مختلف شہروں میں تقریبات بھی منعقد کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔
مہم پچھلے ماہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر نے شروع کروائی تھی (فائل فوٹو: انڈین میڈیا)
گذشتہ ماہ سوشل میڈیا پر اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کی جانب سے پوسٹ کی گئی تھی کہ ’آزادی آگے بڑھ رہی ہے، حقیقتاً۔‘
اس میں لوگوں کو ترغیب دی گئی تھی کہ وہ رکشوں پر جھنڈے لگائیں اور ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’اگر ان کو پکڑ سکتے ہو تو پکڑو، وہ جلد ہی پورے شہر میں پھیل جائیں گے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف کی پالیسی کے باعث انڈیا پر ٹیکسز کی شرح بڑھائی گئی اور تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، تاہم امریکہ اب پھر سے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رواں ہفتے کے اواخر میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورہ انڈیا بھی متوقع ہے۔
تاہم مذکورہ ترغیب کے جواب میں زیادہ تر رکشہ ڈرائیورز نے اس مہم کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
کچھ رکشوں پر مجسمہ آزادی کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں (فائل فوٹو: نیویارک ٹائمز)
ایک ڈرائیور گنیش کمار جنہوں نے ٹرمپ کی تصویریں لگا رکھی ہے، کا کہنا ہے کہ انہوں نے شروع میں اس مہم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا جب منتظمین نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
’میں نے انہیں کہا کہ یہ مجھے نہیں چاہیے، تاہم تب دلچسپی پیدا ہوئی جب ایک قیمتی ترغیب دی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں جھنڈا لگانے دو گے تو آپ کو چائے کا ایک پیکٹ دیا جائے گا۔‘
ایک اور ڈرائیور پردیپ کمار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوسٹر اس لیے لگایا کیونکہ ان کے رکشے کی چھت خراب تھی اور اس کو ڈھانپنے کی ضرورت تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں پتا ہے کہ اشتہار میں کیا کہا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ صدر ٹرمپ ہیں مگر اس کے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔