Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مارکو روبیو کا دورہ انڈیا: چین کے ساتھ گرمجوشی کے بعد انڈیا سے تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش

دورے سے قبل روبیو نے انڈیا کو ’بہترین اتحادی اور شراکت دار‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو مزید توانائی (تیل) کی فراہمی کے مواقع تلاش کرے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی، اور ایک ایسے تعلق کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا جو حالیہ عرصے میں تناؤ کا شکار رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے چین کے رہنما کے ساتھ گرمجوش ملاقات کی تھی۔
بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد، جہاں وہ دونوں ایشیائی طاقتوں کا دورہ کرنے والے اپنے پہلے دورے پر تھے، روبیو نئی دہلی پہنچے اور نریندر مودی سے ایک گھنٹے سے زائد ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے انڈین وزیر اعظم کو جلد وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ نے کہا کہ مارکو روبیو نے ’امریکہ اور انڈیا کی سٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا، جو مشترکہ جمہوری اقدار، وسیع اقتصادی و تجارتی مواقع اور ٹرمپ و مودی کے مضبوط ذاتی تعلقات پر مبنی ہے۔ تاہم انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال کے تناؤ کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی کے کئی بنیادی تصورات کو بدل دیا ہے، جن میں انڈیا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی ترجیح بھی شامل ہے، جس کا ان کی گزشتہ سال کی قومی سلامتی حکمت عملی میں کم ذکر کیا گیا تھا۔
چین کے دورے کے دوران صد ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے ملنے والے پرتپاک استقبال کو سراہا، اگرچہ اس دوران کوئی بڑی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
صدر ٹرمپ نے امریکہ اور چین کو ’جی ٹو‘ قرار دینے کی بات بھی کی۔

راہباؤں کے ساتھ آغاز

مارکو روبیو، جو ایک مذہبی کیتھولک ہیں، نے اپنے چار روزہ اور چار شہروں کے دورے کا آغاز کولکتہ میں مدر ٹریسا کی فلاحی تنظیم کے ہیڈکوارٹرز سے کیا اور ان کی قبر پر حاضری بھی دی۔

مارکو روبیو نے اپنے سوٹ پر پیلا ہار پہنا ہوا تھا اور اپنی اہلیہ جینٹ کے ساتھ راہباؤں کے سامنے مسکراتے ہوئے موجود تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے اپنے سوٹ پر پیلا ہار پہنا ہوا تھا اور اپنی اہلیہ جینٹ کے ساتھ راہباؤں کے سامنے مسکراتے ہوئے موجود تھے، جو سفید اور نیلے رنگ کی ساڑھیوں میں ملبوس تھیں۔
مشنریز آف چیریٹی کی سسٹر ماری جوان کے مطابق روبیو نے بے گھر افراد، لاعلاج مریضوں اور جذام کے شکار افراد کی مدد کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعا کر کے خوش ہوئے اور ہم بھی ان کی آمد پر خوش تھے۔
اگرچہ ٹرمپ عام طور پر انسانی حقوق کا ذکر کم کرتے ہیں، لیکن ان کے بعض حلقے انڈیا میں ہندو قوم پرست حکومت کے دوران عیسائیوں کے ساتھ سلوک پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے روبیو کا پہلا دورہ علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا میں اقلیتی عیسائیوں پر حملوں اور گرجا گھروں کی توڑ پھوڑ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت ان الزامات کو سیاسی اور مبالغہ آمیز قرار دیتی ہے۔
روبیو اپنے دورے کے دوران ’کواڈ‘ ممالک، آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ—کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جو چین کے اثر و رسوخ کے مقابل ایک اہم اتحاد سمجھا جاتا ہے۔
چین اس اتحاد کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے خلاف “گھیراؤ” کی کوشش قرار دیتا رہا ہے۔

ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کی جانب بھی نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دورے سے قبل روبیو نے انڈیا کو ’بہترین اتحادی اور شراکت دار‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو مزید توانائی (تیل) کی فراہمی کے مواقع تلاش کرے گا۔
انڈیا کی تیزی سے بڑھتی معیشت توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتی ہے، اور ایران پر امریکہ، اسرائیل حملے کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
انڈیا کے ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ تعلقات موجود ہیں، اور مودی نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔
لیکن اس تنازع کے دوران پاکستان ایک بار پھر خطے میں امریکہ کا اہم شراکت دار بنتا دکھائی دے رہا ہے، جو خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
امریکہ، جو سرد جنگ کے دوران پاکستان کا اتحادی تھا، بعد میں انڈیا کے قریب ہو گیا تھا، لیکن اب ٹرمپ کی پالیسیوں میں تبدیلی کے باعث توازن دوبارہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کی جانب بھی نرم رویہ اختیار کیا ہے۔
نریندر مودی نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو نہ دے کر انہیں ناراض کر دیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔

شیئر: