روس کے صدر ولادیمیر پوتن بدھ کو چین کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں جبکہ اس سے چند قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین پہنچے تھے۔
اگرچہ دونوں دوروں کی شان و شوکت، رسمی تقاریب اور سفارتی بیانات کافی حد تک ملتے جلتے تھے تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ان نکات کا جائزہ لیا ہے جو مختلف تھے۔
استقبال میں فرق؟
دونوں رہنماؤں کو بیجنگ پہنچنے پر ریڈ کارپٹ استقبال ملا، جس سے کچھ فاصلے پر چینی بچے جھنڈے لہراتے ہوئے اونچی آواز میں ’خوش آمدید‘ کہہ رہے تھے۔
مزید پڑھیں
ننیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے بطور اسسٹنٹ پروفیس وابستہ ڈائلن لوہ کا کہنا ہے کہ اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2017 میں ہونے والے دورے کے مقابلے کچھ ’بلندی‘ دیکھنے کو ملی کیونکہ اس وقت ان کے استقبال کے لیے سٹیٹ کونسلر یانگ جائیچی کو بھیجا گیا تھا جبکہ اس بار ان کا استقبال نائب صدر ہان زینگ نے کیا ہے۔
اسی طرح روسی صدر کے استقبال کو دیکھا جائے تو ان کے لیے وزیر خارجہ وانگ ای کو ایئرپورٹ بھیجا گیا جو بظاہر ایک کم درجے کے عہدیدار ہیں لیکن وہ چینی وزیر خارجہ کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کے قریباً 20 ارکان پر مشتمل باڈی کے رکن ہیں۔

ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ سینٹر برائے چائنہ سے وابستہ لیزی لی دونوں رہنماؤں کے دوروں کے موازنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آپ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ وانگ اہم سیاسی باڈی کا حصہ ہیں جو خصوصی طور پر وزارت خارجہ کے معاملے میں زیادہ اتھارٹی رکھتے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہوائی اڈے پر استقبال کا معاملہ جزوی اہمیت کا حامل ہے جو ہمیشہ اس بات کا اشارہ نہیں ہوتا کہ بیجنگ کس تعلق کس کس درجے پر رکھتا ہے۔‘
ابتدائی بیانات کا انداز
چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں مہمانوں کو ’عظیم رہنما‘ اور ’دوست‘ قرار دیا جبکہ پوتن نے ان کو ’ڈٰیئر فرینڈ‘ کہہ کر مخاطب کیا اور ایسا تاثر بھی دیا کہ ’ایک روز کی جدائی بھی تین خزاؤں جیسی معلوم ہوتی ہے۔‘
شی جن پنگ نے صدر پوتن کے لیے نسبتاً زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ کیا اور چین و روس کے تعلقات کو ’غیرمتزلزل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات ’بین الاقوامی طور پر عدل و انصاف‘ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین اور روز کے تلعقات مزید کامیابیوں اور تیز تر ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

اس سے مقابلے میں چینی صدر نے ٹرمپ کے ساتھ نسبتاً محتاط انداز اپنایا اور کہا کہ دونوں مالک کو ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار سمجھنا چاہیے جبکہ ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ تائیوان کا معاملہ دونوں ممالک کو تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
لیزی لی کے مطابق یہ لہجے کا فرق اہمیت رکھتا ہے مگر یہ چین کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کے مطابق ہی تھا، روس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کھلے ہیں۔
اسی طرح صدر ٹرمپ کے ساتھ جس انداز میں بات کی گئی اس میں احتیاط دکھائی دی کیونکہ امریکہ و چین کے تعلقات دونوں کے تعلقات معاشی، جغرافیائی اور سیاسی طور پر پیچیدہ اور حساس ہیں۔
دورہ کرنے والے رہنماؤں نے کیا حاصل کیا؟
صدر پوتن اور چینی صدر نے بدھ کو تجارت، میڈیا اور توانائی کے وسائل سمیت کئی دیگر معاہدوں پر دستخط کیے۔













