Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں راتوں رات مقبول ہونے والی کاکروچ پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن، ویب سائیٹ بند، ’کاکروچ کبھی نہیں مرتے‘

انڈیا میں راتو رات سوشل میڈیا پر طوفانی مقبولیت حاصل کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی، جو مقابلے کے امتحانات اور بے روزگاری پر غصے سے پیدا ہوئی تھی، نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس کی ویب سائٹ اور کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں۔
انڈین اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق کاکروچ پارٹی اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ’آمرانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی ویب سائٹ cockroachjantaparty.org بند کر دی گئی ہے، اور یہ اقدام ان کے بقول اس تحریک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’حکومت نے ہماری مشہور ویب سائٹ بند کر دی ہے۔ 10 لاکھ کاکروچز نے ہماری ویب سائٹ پر رجسٹریشن کیا تھا، جبکہ 6 لاکھ کاکروچز نے دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر دستخط کیے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت کاکروچز سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ یہ آمرانہ رویہ انڈیا کے نوجوانوں کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ ہمارا واحد جرم یہ ہے کہ ہم اپنے بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہے تھے۔‘
یہ پوسٹ تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور کاکروچ پارٹی کی غیر معمولی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا، جو انٹرنیٹ مزاح، سیاسی طنز اور طلبہ کی مایوسی کا امتزاج بن کر سامنے آئی ہے۔
اکاؤنٹس ہیک اور ہٹائے جانے کے دعوے
ابھیجیت ڈپکے نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اس تحریک سے منسلک کئی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا تو ہیک کر لیے گئے، بند کر دیے گئے یا ان تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس وقت ہمیں اپنے کسی بھی پلیٹ فارم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کے بعد آنے والی کسی بھی پوسٹ کو آفیشل بیان نہ سمجھا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’انسٹاگرام پیج ہیک ہو گیا، میرا ذاتی انسٹاگرام بھی ہیک ہو گیا، ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر دیا گیا، اور بیک اپ اکاؤنٹ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔‘
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ تحریک رکی نہیں ہے ’آپ اکاؤنٹس ہیک یا بند کر سکتے ہیں، مگر اس تحریک کو نہیں روک سکتے۔ ہم آمرانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا ’ہر حملہ کاکروچز کو مزید مضبوط بناتا ہے۔‘
اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ جلد دوبارہ آن لائن واپسی کریں گے۔ ’ہم ایک نیا پلیٹ فارم بنا رہے ہیں۔ کاکروچ کبھی مرتے نہیں۔‘
کاکروچ جنتا پارٹی کو اس وقت بڑی مقبولیت ملی جب انڈیا میں آن لائن پیپر لیک تنازع پر ملک گیر احتجاج ہوا۔ اس دوران لاکھوں طلبہ نے امتحانی نظام، بے روزگاری اور سرکاری بھرتیوں کے دباؤ کے خلاف غصہ ظاہر کیا۔
یہ پلیٹ فارم طلبہ کی آواز کے طور پر سامنے آیا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو امتحانی نظام اور روزگار کے مسائل سے ناراض تھے۔
بانی کے مطابق تقریباً 10 لاکھ افراد نے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کیا تھا، جبکہ 6 لاکھ لوگوں نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے تھے جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس تحریک کے نام نے بھی توجہ حاصل کی، خاص طور پر اس وقت جب ان کے چیف جسٹس نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والوں کو “کاکروچ” اور “پیرا سائیٹس” سے تشبیہ دی تھی۔ بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ریمارکس صرف جعلی ڈگری والوں کے لیے تھے، نوجوانوں کے لیے نہیں۔
آن لائن حمایت میں اضافہ
ویب سائٹ بند ہونے اور اکاؤنٹس پر مبینہ کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر اس تحریک کے حق میں نئی بحث شروع ہو گئی۔ صارفین نے اس کے حق میں سکرین شاٹس، میمز اور پوسٹس شیئر کیں۔
ڈپکے نے آخر میں کہا کہ ’ہم اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ جلد مزید تفصیلات شیئر کریں گے۔ کاکروچ کبھی نہیں مرتے۔‘

شیئر: