Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چار کروڑ ڈالر کا سونا اور جعلی ڈگریاں، سی آئی اے کے سابق اہلکار کا اعترافِ جرم

ڈیوڈ رش پر رواں برس مئی میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے اور چوری کے الزامات عائد کیے گئے تھے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
امریکہ میں ایک سابق سی آئی اے اہلکار، جس کے گھر سے چار کروڑ ڈالر مالیت کے سونے کے بسکٹ برآمد ہوئے تھے، نے سرکاری تنخواہ میں فراڈ کے مقدمے میں ایک ابتدائی معاہدے کے تحت اپنے جرم کا اعتراف کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعے کو ایک وفاقی جج نے ملزم ڈیوڈ جے رش کے خلاف باضابطہ فردِ جرم عائد کرنے کی مہلت 8 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔
اس تاخیر کا مقصد سرکاری وکیلوں اور صفائی کے وکیل کو اعترافِ جرم کے معاہدےکو حتمی شکل دینے کا وقت دینا ہے تاکہ مقدمہ عوامی سماعت تک نہ پہنچے۔
فریقین کے مطابق اس کیس میں حساس اور صیغہ راز میں رکھی گئی معلومات پر طویل قانونی بحث ہو سکتی تھی۔
ورجینیا کی ایسٹرن ڈسٹرکٹ کے امریکی اٹارنی اور ڈیوڈ رش کے وکیل کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی مشترکہ درخواست میں اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات شامل نہیں کی گئی ہیں۔
جعلی اسناد اور فوجی چھٹیوں کے دعوے
ڈیوڈ رش پر رواں برس مئی میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے اور چوری کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ایف بی آئی کے حلف نامے کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2015 میں امریکی نیوی سے ریٹائرمنٹ کے باوجود اپنی ٹائم شیٹ پر 744 گھنٹوں کی فوجی چھٹیوں کا جھوٹا کلیم کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جنوبی کیرولائنا کی کلمسن یونیورسٹی اور نیویارک کے رینسلر پولیٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کی جعلی ڈگریوں کا دعویٰ کر کے اپنی تنخواہ میں غیر قانونی اضافہ کروایا۔
گھر سے 300 سونے کے بسکٹ برآمد
ایف بی آئی کی عدالت میں جمع کرائی گئی تفتیشی رپورٹ میں ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ڈیوڈ رش کے گھر کی تلاشی کے دوران تفتیش کاروں نے 300 سے زائد سونے کے بسکٹ (جن کی مالیت 4 کروڑ ڈالر سے زائد ہے)، 20 لاکھ ڈالر نقد اور 35 قیمتی لگژری گھڑیاں برآمد کی تھیں۔
ایف بی آئی کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ سونا ڈیوڈ رش نے امریکی حکومت سے ’کام سے متعلق اخراجات‘ کے نام پر حاصل کیا تھا جبکہ عدالت میں وزارتِ انصاف کے وکیل نے واضح کیا کہ ڈیوڈ رش کو یہ سونا اپنے گھر رکھنے کی کوئی اجازت نہیں تھی۔
دوسری جانب ڈیوڈ رش کی وکیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل پر عائد چوری کے الزامات کا سونے کے بسکٹوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس معاملے کو بلاوجہ سنسنی خیز بنایا جا رہا ہے۔

شیئر: