Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر ٹرمپ انتظامیہ کا نیا ’جبری مشقت‘ ٹیرف نافذ

نیا ٹیرف یہ بالکل اسی وقت نافذ ہونے جا رہا ہے جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ٹرمپ انتظامیہ جمعے کو پاکستان اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیاء پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کرے گی۔ یہ اقدام جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزامات کے تحت کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بالکل اسی وقت ہونے جا رہا ہے جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو رہا ہے۔
یہ وائٹ ہاؤس کی تازہ ترین کوشش ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وژن کو بحال کیا جائے، جس میں تقریباً عالمی سطح پر ٹیرف شامل تھا۔ فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ان کی ’ریسیپروکل‘ ڈیوٹیز (10فیصد سے 50فیصد) کو کالعدم قرار دیا تھا، جو گذشتہ سال قومی ہنگامی قانون کے تحت امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھیں۔
جمعرات کو فیڈرل رجسٹر نوٹس میں اعلان کردہ نئے ٹیرف 99.4 فیصد امریکی درآمدات پر لاگو ہوں گے، لیکن کئی مصنوعات کو استثنا دیا گیا ہے، جیسے تیل و گیس، کھاد اور کچھ غذائی اشیاء۔
1974  کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کے تحت لگائے گئے یہ نئے ٹیرف انتظامیہ کو سپریم کورٹ کی رکاوٹ کے باوجود تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم ٹیرف برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ ٹیرف قانونی طور پر بھی زیادہ محفوظ سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ سیکشن 301 پہلے بھی عدالتوں میں برقرار رہا ہے۔
ٹرمپ نے فروری کے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد 150 دن کے لیے عارضی 10 فیصد ٹیرف لگایا تھا، جو جمعے کو صبح 12:01 بجے (امریکی وقت) ختم ہو رہا ہے۔ نئے ٹیرف اسی وقت نافذ ہوں گے، جبکہ ٹرانزٹ میں موجود سامان کو 28 جولائی تک استثنا دیا گیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے کہا کہ ’امریکہ تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت پر درآمدی پابندی نافذ کر رہا ہے اور سختی سے اس پر عمل کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی ایسا کریں۔ آج کا اقدام ایک انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مسخ شدہ تجارتی عمل کو درست کرنے کی شروعات ہے تاکہ دنیا بھر کے مزدوروں کی فلاح بہتر ہو۔‘
گریر نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ جن ممالک نے واشنگٹن کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے کیے ہیں جن میں امریکی ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے ٹیرف اس حد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔

یورپی یونین اور چند دیگر ممالک کو ایسی شرح دی گئی ہے جو موجودہ ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ ٹیرف کے ساتھ ملا کر 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے (فوٹو: روئٹرز)

حتمی فیصلے کے تحت، امریکہ ارجنٹینا، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گواتیمالا، ہونڈوراس، انڈیا، انڈونیشیا، اردن، ملیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیاء پر 10 فیصد ڈیوٹی لگائے گا۔
یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کو ایسی شرح دی گئی ہے جو موجودہ ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ ٹیرف کے ساتھ ملا کر 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔
باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ ان میں چین بھی شامل ہے، جس پر امریکہ نے ایغور اقلیت کو جبری مشقت کیمپوں میں رکھنے کا الزام لگایا ہے، جسے بیجنگ رد کرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے چینی حکام کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران چین پر لگائے گئے ٹیرف کو دوبارہ 20 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں، جیسا کہ نومبر 2025 میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں طے ہوا تھا، لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ جمعے کے اقدام سے پہلے صنعتی اشیاء پر پہلی مدت کے دوران لگائے گئے 25 فیصد کو چھوڑ کر چین پر ٹیرف کی شرح 10 فیصد تک گر گئی تھی۔

 

شیئر: