Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ واش، رضااللہ اور پاکستان کے لیے لاسٹ وارننگ، عامر خاکوانی کا بلاگ

پاکستان نے کوشش کرکے بعض مواقع پیدا کیے مگر پھر اپنی بیسک نوعیت کی غلطیوں سے ضائع کر دیے (فوٹو: اے ایف پی)
برمنگھم کے ایجبسٹن گراونڈ میں تیسرے ٹیسٹ کی آخری صبح چند منٹوں کے لیے لگا جیسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کوئی کرشمہ تخلیق کرنے لگی ہے۔
انگلینڈ کو ایک سو 30 رنز درکار تھے، مگر محمد عباس نے پہلے اوور میں ہی دونوں اوپنرز آوٹ کر لیے۔ پہلے ایک اچھی گیند پر بین ڈکٹ کاٹ بی ہائنڈ اور پھر دوسرے اوپنر گے کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ سکور دو رنز پر دو آوٹ۔ ایک لو سکور ہدف کا دفاع کرتے ہوئے اس سے اچھا آغاز اور کیا ہوسکتا تھا؟
پھر دوسرے فاسٹ باؤلر محمد علی کی گیند انگلش کپتان اور سپرسٹار بلے باز جو روٹ کے بیٹ کا ان سائیڈ ایج لے کر سٹمپ سے جا ٹکرائی۔ پاکستانی کھلاڑی خوشی سے اُچھل پڑے، مگر فورا ہی امپائر نے نوبال کا سگنل دےدیا۔ اُف ایک اور نو بال۔ یہ محمد علی کی سیریز میں سترویں نو بال تھی۔
تھوڑی دیر بعد میں روٹ کا ایک کیچ دونوں سلپ فیلڈرز کے درمیان سے نکل گیا، ہمارے شہزادے کھڑے تکتے رہے، ہلے تک نہیں۔ محمد عباس بے چارا خاموش طبع باؤلر ہے، شعیب اختر ہوتا تو گالیاں دیتا، عباس مسکین شکل بنا کر تلملاتا رہا۔ پھر اسی روٹ کے 62 اور جورڈن کاکس کے 59 رنز ناٹ آؤٹ نے انگلینڈ کو 8 وکٹوں سے جتوا دیا۔
یہ پوری سیریز کا خلاصہ ہے۔ پاکستان نے کوشش کرکے بعض مواقع پیدا کیے مگر پھر اپنی بیسک نوعیت کی غلطیوں سے ضائع کر دیے۔کبھی نو بال، کبھی ڈراپ کیچ، ناقص بیٹنگ تکنیک، بے سمت ٹیم مینجمنٹ اور سب سے بڑھ کر غلط سلیکشن۔ نتیجہ تین صفر کی خوفناک شکست۔
انگلینڈ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے تاریخ کا پہلا وائٹ واش بھگتا۔ جبکہ پاکستان آخری 21 میں سے 16 ٹیسٹ ہار چکا ہے۔ زوال تسلسل بن گیا اور اب ہم اس کا مزید کوئی عذر یا تاویل پیش نہیں کر سکتے۔ اب ہمیں سچ بولنا ہوگا، اپنی تباہ کن غلطیاں ماننا ہوں گی اور ایسا کرنے والوں کو اب جانا ہوگا۔
کیا یہ انگلینڈ جانے والی تاریخ کی بدترین ٹیم ہے؟
انگلینڈ میڈیا میں یہ بات کئی بار کہی گئی، اعداد وشمار اسے بدترین سیریز تو نہیں بتاتے مگر انگلینڈ کے بدترین دوروں میں یہ شامل ہے۔

صائم ایوب نے ہارڈ ہینڈز سے کھیل کر سلپ میں کیچ دیا اور یوں دونوں اننگز میں صفر بنا کر اپنا خوفناک اور شرمناک پیئر مکمل کیا (فوٹو: پرو پاکستانی)

سال 1954 میں فضل محمود نے اوول میں انگلینڈ کو ہرایا تو اس ٹیم کے پاس نہ اکیڈمی تھی، نہ ویڈیو اینالسٹ۔ آج یہ سب اور کروڑوں روپے کا نظام موجود ہے، نتیجہ پھر بھی سامنے ہے۔ سیریز کی آخری اننگز نے تصویر بہتر بنائی، ورنہ پہلی پانچ اننگز میں ایک بار بھی ہم دو سو رنز نہ بنا پائے۔ ایسی بیٹنگ پرفارمنس کے بعد میچ ہارنے ہی ہیں۔
ٹیسٹ بیٹنگ کی تکنیک کہاں گئی؟
سیریز کے دوران انگلش کمنٹیٹرز اور سابق کرکٹرز بار بار یہ سوال اُٹھاتے رہےکہ پاکستانی بلے باز ایک ہی انداز میں کیوں آؤٹ ہو رہے ہیں؟ سوال جائز تھا۔
ٹیسٹ بیٹنگ کی بنیاد ہی یہ ہے کہ بلے باز کو اپنی آف سٹمپ کا آئیڈیا ہو، اس کا سر سٹل یعنی متوازن ہو، فٹ موومنٹ اچھی ہو، وہ کٹ کرتے ہوئے سافٹ ہینڈز سےکھیلے جبکہ اسے معلوم ہو کہ کس گیند کو چھوڑنا، کس کو کھیلنا ہے۔
یہ چیزیں ہمارے تجربہ کار کھلاڑیوں میں بھی نظر نہیں آئیں۔ ہمارے بلے باز کھڑے کھڑے کھیلتے رہے۔جیسے کسی نے ان کے پائوں باندھ رکھے ہوں۔فٹ ورک صفر اور پاؤں اور جسم گیند کی لائن میں نہیں آتے، مگر ہاتھ زور سے باہر جاتے ہیں، پھر سلپ میں ایج نکلے گا ہی۔
تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز کا پہلا اوور اس خامی کی تصویر تھا۔ صائم ایوب نے ہارڈ ہینڈز سے کھیل کر سلپ میں کیچ دیا اور یوں دونوں اننگز میں صفر بنا کر اپنا خوفناک اور شرمناک پیئر مکمل کیا۔

شان مسعود نے کمال جرأت اور پازیٹو اپروچ سے کھیلا۔ انہوں نے جارحانہ سٹروکس کے ساتھ 95 رنز بنائے (فوٹو: اے ایف پی)

عبداللہ شفیق بھی اسی اوور میں گئے۔ اچھا ٹیسٹ اوپنر گیند دیر سے، جسم کے قریب کھیلتا اور غیرضروری گیند چھوڑتا ہے۔ ہمارے بلے بازوں کا بیٹ سیدھی لائن میں آنے کی بجائے باہر سے آتا اور اگلا پاؤں رُک جاتا ہے، یوں بیٹ پیڈ گیپ بنتا ہے۔ اسی کمزوری پر اولی رابنسن نے کئی کھلاڑی ان سوئنگر پر بولڈ کیے۔
گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دلیرانہ اننگز
تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی دوسری اننگز کو کھلے دل سے سراہنا چاہیے۔ صفر پر دو آوٹ ہو جانے کے بعد شان مسعود شدید دباؤ میں آئے۔ شان پر یہ بھی پریشر تھا کہ ناکام ہو جانے پر یہ ان کا آخری ٹیسٹ اور آخری انٹرنیشنل اننگ ہوسکتی تھی۔ شان مسعود نے مگر کمال جرأت اور پازیٹو اپروچ سے کھیلا۔ انہوں نے جارحانہ سٹروکس کے ساتھ 95 رنز بنائے۔ ڈین لارنس کے حیرت انگیز کیچ نے انہیں سنچری سے محروم کیا۔
اذان اویس نے 59 اور کپتان بابراعظم نے بھی دلیرانہ 76 رنز بنائے۔ بابر نے جرأت مندانہ اننگ کھیلی اور انگلش باؤلرز کو عمدہ جارحانہ سٹروکس کھیلے۔
بابر نے آرچر کو بھی خوبصورت چوکے لگائے۔ اَپر کٹ پر چھکا بھی مارا۔ البتہ شارٹ بال کے خلاف کمزوری پھر سامنے آئی۔ بابر اچھا پل شاٹ کھیل لیتا ہے مگر ان کو اپنی شارٹ پچ گیندوں کو کھیلنے کی تکنیک مزید بہتر کرنا ہوگی۔
اسی پچ پر ساڑھے چار سو رنز نے ثابت کیا کہ پہلی اننگز کے شرمناک 133 رنز کا الزام حالات پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ جب فٹ ورک بہتر ہوا اور بلے بازوں نے سہمے رہنے اور خوفزدہ ہونے کی بجائے دلیری سے بیٹنگ کی تو اسی انگلش بائولنگ کے ہوش اڑ گئے۔ افسوس تب بہت دیر ہوچکی تھی۔
سلیکشن کی چارج شیٹ
ناقابلِ فہم سلیکشن بھی ناکامی کی جڑ ہے۔ آؤٹ آف فارم سلمان علی آغا کو پہلے ٹیسٹ کی کپتانی دے کر اگلے میچ میں نکال دیا گیا۔ جو کھلاڑی قیادت کا اہل تھا، پلیئنگ الیون کے قابل کیوں نہ رہا؟ اس سوال کو اُلٹا کر لیں تو یہ بنتا ہے کہ جو ٹیم میں سلیکشن کےقابل نہیں تھا، اسے کپتان کیوں بنایا گیا؟ پہلے ٹیسٹ میں ویسے سعود شکیل کو کپتان بنانا چاہیے تھا۔

بابر نے جرأت مندانہ اننگ کھیلی اور انگلش باؤلرز کو عمدہ جارحانہ سٹروکس کھیلے (فوٹو: کرکٹ وِنر)

محمد رضوان کی خراب فارم ویسٹ انڈیز ہی میں خبردار کر چکی تھی۔ انگلینڈ میں کسی اِن فارم ریڈ بال وکٹ کیپر کو موقع ملنا چاہیے تھا۔ دوستی، تعلق یا پرانی کارکردگی پر سلیکشن کا تاثر شفاف فیصلوں ہی سے ختم ہوگا۔
یہ بھی محسوس ہوا کہ نوجوان غازی غوری کو شاید ضرورت سے جلد ٹیسٹ کھلا دیا گیا۔ ان کی 26 فرسٹ کلاس میچوں میں اوسط 41 کے قریب ہے، یہ بری نہیں مگر انگلینڈ الگ امتحان تھا۔ روحیل نذیر اس کی نسبت زیادہ تجربہ کار کھلاڑی ہے اور انہیں کئی برسوں سے تیار بھی کیا جا رہا تھا۔ اسے لے جانا چاہیے تھا یا پھر نوجوان سعد بیگ کو لے جایا جاتا جو گزشتہ قائداعظم ٹرافی میں ٹاپ سکورر رہے۔
امام الحق کے بارے میں ماضی کے فیک انجری ایشو کو سیٹل کرنا چاہیے تھا۔ وہ الزام اگر درست تھا تو ایسے کمزور دل اور گھبرا جانے والے کھلاڑی کی پاکستانی قومی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی۔ اس بار بھی انجری پر سوال اُٹھے ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ حالیہ سکین نے لو گریڈ کاف سٹرین بتایا، اس لیے اسے تحقیق کے بغیر فرضی نہیں کہہ سکتے مگر آزادانہ و شفاف انکوائری ہونی چاہیے۔
رضااللہ: تمغہ نہیں، سلیکٹرز کے خلاف چارج شیٹ
دورے کا روشن اور شرمناک پہلو ایک ہی نوجوان رضااللہ سے وابستہ ہے۔ مردان سے تعلق رکھنے والے اس 21 سالہ فاسٹ باؤلر نے ڈیبیو پر چار وکٹیں لیں۔ 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گیندیں کرائیں اور ان انگلش کھلاڑیوں کے منہ بند کردیے جو عباس، محمد علی، خرم شہزاد کی میڈیم پیس باؤلنگ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ رضااللہ نے بتا دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور یہ تیز باؤلروں کا ملک ہے، تاہم بری سلیکشن اور میرٹ پر کھلاڑیوں کو بروقت مواقع نہ ملنا ایک الگ ایشو ہے۔
رضااللہ نے باؤلنگ کے بعد بیٹنگ میں تو خیر کرشمہ ہی دکھا دیا۔ پوری سیریز میں پاکستانی بیٹنگ ڈری سہمی لگی، انگلش باؤلرز شیر بنے ہوئے تھے، رضااللہ نے یوں بیٹ چلایا کہ ان شیروں کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ نویں نمبر پر آ کر 63 گیندوں پر 81 رنز بنا ڈالے۔ نو شاندار چھکے شامل تھے۔ نوجوان جذباتی ہے، ورنہ اگر تھوڑی سی مزید کوشش کرتا اور قدرے تحمل دکھاتا تو ڈیبیو سنچری بن جانی تھی۔ شرمناک یہ کہ وہ اصل سکواڈ میں نہیں تھا اور ایمرجنسی میں بلا کر ویزا وغیرہ لگوایا گیا۔
رضااللہ کی کامیابی سلیکٹرز کے لیے تمغہ نہیں، چارج شیٹ ہے۔ وہ اگر ڈیبیو کے قابل تھا تو ابتدا میں یا ویسٹ انڈیز کے لیے کیوں نہ چنا؟ اگر تیار نہیں تھا تو دو شکستوں کے بعد مشکل ماحول میں پھینکنا کیسی منصوبہ بندی تھی؟ اب اس ہیرے پر محنت کر کے اسے تراشا جائے۔ رضااللہ کو وقار یونس جیسے باؤلر سے دو تین ہفتوں کا کوچنگ کورس کرایا جائے اور اس کی فٹنس، ورک لوڈ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کا واضح پلان بنا کر کھلایا جائے۔

آؤٹ آف فارم سلمان علی آغا کو پہلے ٹیسٹ کی کپتانی دے کر اگلے میچ میں نکال دیا گیا (فوٹو: پرو پاکستانی)

ایسے فاسٹ باؤلر شاذونادر ملتے ہیں اور پاکستان کئی قیمتی پیسرز ناقص ورک لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے جلد کھو چکا ہے۔ محمد زاہد کو کون بھول سکتا ہے؟ رضااللہ کے ساتھ یہ غلطی دہرانے کی گنجائش نہیں۔
زیادہ نو بالز اور آخری قیمت
انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی بارہ نو بالز اور 43 ایکسٹرا رنز نے ڈسپلن کا حال کھول دیا۔ 43 رنز پاکستان کے ٹاپ سکورر سعود شکیل کے رنز کے برابر تھے۔ محمد علی نے اکیلے سیریز میں 17 نو بالز کرائیں۔آخری صبح روٹ کا بولڈ ہو کر بچنا اسی غفلت کی قیمت تھی۔ اگر تب روٹ بولڈ ہوجاتا تو ممکن ہے انگلش ٹیم دباؤ میں آ جاتی اور کچھ بھی ہوسکتا تھا۔

محمد رضوان کی خراب فارم ویسٹ انڈیز ہی میں خبردار کر چکی تھی۔ انگلینڈ میں کسی اِن فارم ریڈ بال وکٹ کیپر کو موقع ملنا چاہیے تھا (فوٹو: ڈان)

بار بار کریز  سے آگے نکل جانا صرف بدقسمتی نہیں، رن اَپ مارکنگ، تھکن اور کوچنگ کی ناکامی ہے۔ درست نگرانی اور نیٹ پریکٹس سے اسے خاصی حد تک قابو کیا جا سکتا تھا، مگر کرانے والا کوئی ہونا چاہیے۔
کوچ بدلنے سے تکنیک نہیں بدلتی
سرفراز احمد کا بطور ٹیسٹ کرکٹر ریکارڈ برا نہیں مگر اچھا کھلاڑی اور اعلیٰ ریڈ بال کوچ ہونا الگ صلاحیتیں ہیں۔ کیا سرفراز کے پاس طویل فرسٹ کلاس کوچنگ، انگلش کنڈیشنز کی منصوبہ بندی اور تکنیکی خامیاں درست کرانے کا ثابت شدہ ریکارڈ تھا؟ اگر نہیں تو یہ ذمہ داری خود ان کے ساتھ بھی زیادتی تھی۔
یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جاری سیریز میں دو ٹیسٹوں کے بعد کوچ اور سات کھلاڑی بدلنا اصلاح نہیں، یہ پینک ہے، بورڈ کی گھبراہٹ اور شکست خوردگی کی علامت ہے۔ ایسے فیصلے ڈریسنگ روم میں خوف پھیلاتے ہیں اور خوف زدہ بلے باز مزید دباؤ میں آجاتا ہے۔
پاکستان کو مستقل، بااختیار ٹیسٹ کوچ کے ساتھ سپیشلسٹ بیٹنگ کوچ چاہیے۔ محمد یوسف کو ڈیڑھ سال پہلے سے ذمہ داری دے کر آف سٹمپ آگاہی، بیٹ پیڈ گیپ جیسے مسائل کا حل، باؤنسر اور نئی گیند کے پہلے 20 اوورز اچھے سے گزارنے کے اہداف مقرر کیے جا سکتے تھے۔ کوچ کو اختیار، تسلسل اور کھلاڑیوں کے ساتھ وقت بھی چاہیے۔ ہر ناکامی پر کوچ بدلنے سے تکنیک نہیں بدلتی۔
اب کیا سیکھا جائے؟
پہلا سبق یہ ہے کہ ٹیسٹ ٹیم میں کارکردگی الگ ایشو ہے، وائٹ بال کرکٹ سے اسے نہیں ناپا جا سکتا۔ فرسٹ کلاس کارکردگی کو وزن دیا جائے اور ایسے بلے بازوں کو ترجیح ملے جن کا بیٹ سیدھا، سر سٹل، اچھا فٹ ورک اور مزاج اندھا دھند 30 رنز بنانے کی بجائے وکٹ پر ٹھہر کر قیمتی سو رنز بنانے والا ہو۔

سرفراز احمد کا بطور ٹیسٹ کرکٹر ریکارڈ برا نہیں مگر اچھا کھلاڑی اور اعلیٰ ریڈ بال کوچ ہونا الگ صلاحیتیں ہیں (فوٹو: کرک بز)

دوسرا سبق یہ کہ بیرونِ ملک دورے سے ایک سال پہلے سے تیاری شروع ہو۔ خاص کر دورۂ انگلینڈ سے پہلے ممکنہ بلے بازوں کو ڈیوک گیند، نم پچوں اور کاؤنٹی کرکٹ کے مواقع ملیں۔ کاؤنٹی کا ایک سیزن ہمارے تین نمائشی کیمپوں سے زیادہ سکھا سکتا ہے۔ تیسرا سبق پیس پول میں رفتار، زاویے اور مہارت کا تنوع ہے۔
چوتھا سبق سلیکشن میں اکاونٹیبلٹی لانا ہے۔ کپتان، کوچ اور چیف سلیکٹر بتائیں کہ کس کھلاڑی کو کس کردار کے لیے چنا گیا؟ فارم کے بغیر سینئر کو رعایت اور دو ناکامیوں پر نوجوان کو باہر کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ پانچواں سبق یہ کہ شاہینز کے دورے صرف وائٹ بال میلے نہ ہوں، مشکل پچوں والے ممالک میں چار روزہ میچوں کا سلسلہ بنایا جائے۔ رضااللہ کی اگلی منزل بھی پی ایس ایل کی ہائپ نہیں بلکہ 15 سے 20 اچھے ٹف فرسٹ کلاس میچ ہوں۔
رضااللہ کے 81 رنز، شان مسعود کی شاندار مزاحمت، بابر کی فائٹنگ اننگ اور عباس کا آخری صبح والا اوور بتاتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ کی نبض ابھی چل رہی ہے۔
ہماری دیرینہ غلطی مگر یہی ہے کہ ہم نبض چلنے کو صحت سمجھ لیتے ہیں۔ ایک نوجوان نے شکست کی صورت بدلی، نتیجہ نہیں۔ اگر اس دورے سے صرف چند ویڈیو کلپس، جذباتی بیانات اور نئی فہرست برآمد ہوئی تو یہ شکست بھی ضائع ہو جائے گی۔ پاکستان کو نئی فہرست نہیں، نئی ٹیسٹ سوچ چاہیے۔ ایسی سوچ جس میں تکنیک شہرت سے، تیاری نعرے سے اور منصوبہ بندی گھبراہٹ سے زیادہ اہم ہو۔

مردان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ فاسٹ باؤلر رضااللہ نے ڈیبیو پر چار وکٹیں لیں (فوٹو: اے ایف پی)

ویسے ایک گزارش پاکستان کرکٹ بورڈ سے ہے۔ اگلی سیریز سے پہلے چند ایک اضافی کھلاڑیوں کے پاسپورٹ اور ویزے تیار رکھ لیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ رضااللہ جیسے کسی اور کھلاڑی کو ڈھونڈنے کے لیے اس کے مقامی کوچ کو موٹرسائیکل پر بھیجنا پڑے اور ایمرجنسی میں پاسپورٹ بنوانے یا ویزا لگوانے کے لیے منت ترلے کرنے پڑیں۔ نو بال نہ کرانے کی مشق تو خیر پھر کبھی کروا لیں گے۔

شیئر: