جرمن ایئرپورٹ پر میکسیکن مسافر کے سامان سے 92 سانپ اور چھپکلیاں برآمد
جمعرات 15 اکتوبر 2026 21:47
زندہ بچ جانے والے جانوروں کو اب وسطی جرمنی میں سانپوں کے ایک مرکز میں نگہداشت کے لیے رکھا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جرمنی کے محکمۂ کسٹمز کے حکام نے جمعرات کو بتایا کہ میکسیکو سے آنے والے ایک مسافر کے سامان میں پلاسٹک کے ڈبوں، جرابوں اور مختلف بوتلوں میں چھپائی گئی 90 سے زیادہ چھپکلیاں اور زہریلے سانپ برآمد ہوئے ہیں۔
مغربی جرمنی کے شہر کولون کے کسٹمز دفتر کے مطابق، 45 سالہ شخص کو گزشتہ ماہ کولون ایئرپورٹ پر اُس وقت روکا گیا جب وہ گھبرایا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ حکام نے اس کا منشیات کا ٹیسٹ کیا، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ اس نے کوکین استعمال کی ہوئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ مذکورہ شخص پیشے کے اعتبار سے فائر فائٹر ہے، تاہم اُس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ کسٹمز اہلکاروں نے جب اُس کے سوٹ کیس کی تلاشی لی تو اس میں سے منشیات کی بجائے پلاسٹک کے ڈبوں، شیمپو اور کریم کی بوتلوں اور جرابوں میں چھپائے گئے تقریباً 90 سانپ اور چھپکلیاں برآمد ہوئیں۔
کسٹمز دفتر کے ترجمان ینس آہلینڈ نے کہا کہ ’ایئرپورٹ پر میرے ساتھی سوٹ کیسوں میں طرح طرح کی چیزیں اور یادگاری تحائف دیکھنے کے عادی ہیں، لیکن اس سے پہلے ہمارے سامنے میکسیکو سے لائے گئے37 زہریلے سانپوں اور 55 چھپکلیوں کا ایسا معاملہ کبھی سامنے نہیں آیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ منافع کے لالچ میں جانوروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں۔‘
برآمد کیے گئے جانوروں میں وائپر اور ریٹل سنیک سمیت سانپوں کی مختلف اقسام کے علاوہ چھپکلیوں کی متعدد اقسام بھی شامل تھیں، جن میں ایگوانا بھی موجود تھے۔
کسٹمز حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زیادہ تر جانور زندہ تھے، تاہم سفر کے دوران اور اس کے بعد تقریباً 30 جانور ہلاک ہوگئے۔
زندہ بچ جانے والے جانوروں کو اب وسطی جرمنی میں سانپوں کے ایک مرکز میں نگہداشت کے لیے رکھا گیا ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق مذکورہ شخص میکسیکو سٹی سے استنبول کے راستے جرمنی پہنچا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ یہ جانور اپنے ایک برازیلی واقف کار کی مدد کے لیے جرمنی لایا تھا۔
جرمن حکام نے اسے ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور جرمنی پہنچنے کے اگلے روز ہی اسے واپس استنبول بھیج دیا گیا۔
