Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جب سانپ دشمن نہیں رہے،‘ امریکی نژاد رومولس وائٹیکر انڈیا کے سنیک مین کیوں کہلائے؟

رومولس نے سانپوں کے علاوہ دوسرے رینگنے والے جانوروں خاص طور پر مگرمچھوں کے تحفظ کے لیے بھی کام کیا (فوٹو: دی بیٹر انڈیا)
انڈیا کو ایک زمانے تک سانپوں، سپیروں، جوگیوں، سادھوئوں اور ٹھگوں کا ملک کہا گیا لیکن رفتہ رفتہ اس کی یہ ظاہری شبیہہ بدلی۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں اگر کسی کو ’سنیک مین‘ یعنی ’مردم مار‘ کے خطاب سے نوازا گیا تو وہ کوئی انڈین نہیں بلکہ ایک امریکی نژاد انڈین شہری تھے۔
امریکہ میں پیدا ہونے والے رومولس وائٹیکر نے اپنا ابتدائی زمانہ جنوبی انڈیا کے سیاحتی مقام کوڈئی کنال میں گزارا جہاں ان کی سانپوں اور دوسرے رینگنے والے جانوروں سے دوستی ہو گئی۔
ان کی یہ دوستی ایسی دوستی تھی جس نے رینگنے والی بہت سی اقسام کے جان داروں کو ناپید ہونے سے بچایا۔
چنانچہ اگر انڈیا میں کسی شخص کو ’سنیک مین‘ کہا جائے تو وہ رومولس کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ ان کی اپنی زندگی بھی کسی اساطیری داستان سے کم نہیں۔
ان کی کہانی صرف ان کی یا سانپوں کی نہیں، بلکہ خوف کو ایک مشن میں بدل دینے کے سفر کو بھی بیاں کرتی ہے۔
رومولس وائٹیکر کی دلچسپی بچپن ہی سے سانپوں میں تھی۔ دوسرے بچے جب سانپ دیکھ کر چیخ اُٹھتے، تو وہ اس مخلوق کو دلچسپی سے دیکھتے اور ان کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔

وہ اس وقت سکول میں زیرِتعلیم تھے جب انہوں نے  سانپوں سے دوستی کی اور سانپ پالنا شروع کیے (فوٹو: دی بیٹر انڈیا)

وہ جب اپنی طالب علمی کے زمانے میں کوڈئی کنال انٹرنیشنل سکول میں زیرِ تعلیم تھے تو انہوں نے اپنے درازوں میں سانپ پال رکھے تھے۔
ایک دن ان میں سے ایک سانپ دراز سے بھاگ نکلا۔ سکول میں ہلچل مچ گئی، طلبہ اور اساتذہ سب خوفزدہ ہو کر اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے کہ وائٹیکر نے نہایت سکون سے سانپ کو ڈھونڈ نکالا اور اسے یوں اٹھا کر بیگ میں ڈال لیا جیسے یہ ان کا گمشدہ قلم یا کاپی ہو۔
اس واقعے نے انہیں سکول میں ہیرو تو بنا دیا لیکن یہ واقعہ یہ غمازی بھی کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس سمت میں لے جانے والے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا یہ شوق ایک مشن میں بدل گیا۔ سنہ 1972 میں انہوں نے مدراس (اب چنئی) کروکوڈائل بینک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔
اس زمانے میں انڈیا میں مگرمچھوں کا بے دریغ شکار ہو رہا تھا، اور ان کی نسل ناپید ہونے کے خطرے سے دو چار تھی۔
وائٹیکر نے نہ صرف ان کی افزائش اور تحفظ پر کام کیا بلکہ لوگوں میں شعور بھی بیدار کیا کہ یہ جانور ماحولیاتی توازن کے لیے کتنے ضروری ہیں۔
اس سے قبل سنہ 1969 میں انہوں نے ’مدراس سنیک پارک‘ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اس رینگنے والے جانور کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
وائٹیکر امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک امریکی جوڑے کے ہاں 23 مئی 1943 کو  پیدا ہوائے۔ ان کی والدہ ڈورس نورڈن ایک فنکارہ تھیں جبکہ ان کے والد امریکی فوج میں تعینات تھے۔ والدین کی طلاق کے بعد وائٹیکر کی ماں (جن کے پاس اپنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری تھی) نے ہریندر ناتھ اور کملا دیوی چٹوپادھیائے کے بیٹے راما چٹوپادھیائے سے شادی کر لی۔

رومولس وائٹیکر کی خاص دلچسپی کنگ کوبرا میں تھی، جو دنیا کا سب سے لمبا زہریلا سانپ ہے (فوٹو: دی بیٹر انڈیا)

ان کی والدہ شادی کے بعد اپنے بیٹے روم یعنی روملس اور بڑی بیٹی گیل سمیت ابتدائی طور پر نیویارک شہر میں رہے۔ سنہ 1951 میں روم کی سوتیلی بہن نینا کی پیدائش کے بعد وہ سب بمبئی (اب ممبئی) چلے آئے۔
روم کے سوتیلے والد رام چٹوپادھیائے فلمی دنیا سے وابستہ تھے اور انہوں نے ممبئی کے علاقے ورلی میں انڈیا کی پہلی کلر موشن پکچر پروسیسنگ لیب بھی قائم کی تھی۔ روم کے سوتیلے بھائی نیلکنٹھ کی پیدائش 1953 میں بمبئی میں ہوئی تھی۔
روم نے نیویارک کے بعد انڈیا میں بمبئی سے دور تمل ناڈو کے کوڈئی کنال انٹرنیشنل سکول میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ انہوں نے امریکہ کی وائیومنگ یونیورسٹی میں بھی مختصر طور پر تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصہ کے لیے مرچنٹ نیوی میں  خدمات انجام دیں جبکہ سنہ 1963 سے 1965 تک میامی سرپینٹیریم میں بل ہاسٹ کے ساتھ کام کیا۔
وہ بل ہاسٹ کو سانپ کو سمجھنے کے معاملے میں اپنا گرو کہتے ہیں۔ ویتنام کی جنگ کے ابتدائی دور میں انہیں امریکی شہری کے طور پر امریکی فوج میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے اس دوران جاپان کے ایک فوجی اڈے کے ہسپتال میں بطور طبیب تربیت حاصل کی اور خدمات انجام دیں۔
وہ 1967 میں یونانی مال بردار جہاز ’ہیلینک لیڈر‘ پر سوار ہو کر انڈیا واپس آئے، اور اس وقت سے اب تک انڈیا میں ہی مقیم ہیں۔ وہ اب باضابطہ طور پر ایک انڈین شہری ہیں۔ چنانچہ سنہ 2018 میں انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں پدم شری کے گراں قدر شہری اعزاز سے نوازا گیا۔
ان کی زندگی کا ایک اور دلچسپ باب تمل ناڈو کے ایرولا قبیلے کے ساتھ جڑا ہے۔ انہوں نے ایرولا سنیک کیچرز انڈسٹریل کواپریٹو سوسائٹی کی بنا ڈالی جہاں سے روایتی طور پر سانپ پکڑنے والے افراد کو ایک نیا راستہ ملا۔
وہ اب سانپوں کو مارنے کے بجائے انہیں زندہ پکڑتے، ان کا زہر نکالتے اور پھر چھوڑ دیتے۔ یہی زہر بعد میں جان بچانے والی دوا ’اینٹی وینم‘ بنانے میں استعمال ہوتا۔
وائٹیکر اکثر بتایا کرتے تھے کہ ایرولا شکاری چند لمحوں میں جھاڑیوں میں چھپے سانپ کو ڈھونڈ لیتے تھے، جو کسی ماہر سائنس دان کے لیے بھی آسان کام نہیں۔

 وہ سانپوں کو زندہ پکڑتے، ان کا زہر نکالتے اور پھر چھوڑ دیتے۔ یہی زہر بعد میں جان بچانے والی دوا ’اینٹی وینم‘ بنانے میں استعمال ہوتا (فوٹو: دی بیٹر انڈیا)

وائٹیکر کی خاص دلچسپی کنگ کوبرا میں تھی، جو دنیا کا سب سے لمبا زہریلا سانپ ہے۔ اسی شوق نے انہیں انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے گھنے جنگلات تک پہنچایا، جہاں انہوں نے اگومبے رین فارسٹ ریسرچ سٹیشن قائم کیا۔
انہوں نے یہاں ایک حیرت انگیز منظر دیکھا کہ کنگ کوبرا اپنے انڈوں کے لیے گھونسلہ بنا رہا تھا اور ان کی حفاظت کر رہا تھا۔ یہ مشاہدہ اس عام خیال کے برعکس تھا کہ سانپ بے حس اور لاپروا ہوتے ہیں۔
ان کی زندگی میں خطرات بھی کم نہ تھے۔ وہ کئی بار زہریلے سانپوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے، جن میں رسل وائپر کا ایک خطرناک حملہ بھی شامل ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کا ماننا تھا کہ سانپ انسان پر بلاوجہ حملہ نہیں کرتے، بلکہ زیادہ تر حادثات انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
وائٹیکر نے فلموں اور دستاویزی پروگراموں کے ذریعے بھی عوام تک اپنی بات پہنچائی۔ فلم ’دی سنیک ہنٹر‘کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں نے ان کی زندگی اور کام کو قریب سے دیکھا۔ اس فلم نے سانپوں کے بارے میں پھیلے خوف کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج رومولس وائٹیکر صرف ایک ماہرِ حیاتیات نہیں، بلکہ ایک سوچ کا نام ہیں، ایک ایسی سوچ جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جن مخلوقات سے ہم ڈرتے ہیں، انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ فطرت کے ہر جاندار کا ایک مقام اور اہمیت ہے، اور اگر ہم اسے تسلیم کر لیں تو خوف کی جگہ احترام لے سکتا ہے۔

شیئر: