Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بالی وڈ میں قربت کے مناظر کی عکس بندی کے لیے ماہرین کی خدمات کا بڑھتا رجحان

آستھا کھنہ کے مطابق، قربت کے مناظر کے ماہرین کو عموماً فلم کی کاسٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی خدمات کے لیے مقرر کر لیا جاتا ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی فلمی صنعت میں ایسے مناظر کی عکس بندی، جن میں برہنگی یا جنسی قربت دکھائی جاتی ہے، طویل عرصے تک عموماً اداکاروں کے درمیان باہمی اعتماد اور موقع پر طے پانے والی غیر رسمی حکمت عملیوں پر منحصر رہی ہے۔
 اب اس صنعت میں بتدریج ایسے پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جو قربت کے مناظر کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور کوریوگرافی کرتے ہیں تاکہ اداکاروں کا تحفظ اور ان کی رضامندی یقینی بنائی جا سکے۔
خبررساں ادارےت اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق بالی وڈ میں کبھی ان پیشہ ور افراد کا تصور بھی عام نہیں تھا لیکن اب فلم بندی کے سیٹ پر ان کی موجودگی زیادہ معمول بنتی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کی ایک وجہ عالمی سطح پر تفریحی صنعت میں جنسی استحصال کو نمایاں کرنے والی ’می ٹو‘ تحریک بھی ہے، جس کے بعد فلم سازوں نے کام کے ماحول اور اداکاروں کے تحفظ کے لیے زیادہ سخت اصول اپنانا شروع کیے۔
اس تبدیلی کو سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے بھی تقویت دی ہے، جہاں کہانیوں میں انسانی تعلقات اور جنسی رویوں کو زیادہ باریک بینی سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں قربت کے مناظر کو حقیقت سے قریب تر انداز میں عکس بند کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
بالی وڈ میں قربت کے مناظر کی منصوبہ بندی کرنے والے ان چند ماہرین میں شامل آستھا کھنہ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح ایک سٹنٹ ڈائریکٹر لڑائی کے منظر کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اسی طرح ہم قربت کے مناظر کے لیے بھی پہلے سے طے کرتے ہیں کہ ہاتھ کہاں جائے گا اور بالوں کی حرکت کس طرح ہوگی تاکہ موقع پر غیر آرام دہ اور غیر طے شدہ انداز میں کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘
یہ ماہرین عموماً فلم بندی کے سیٹ پر ایسے مخصوص حفاظتی لوازمات بھی ساتھ لاتے ہیں جن کی مدد سے اداکار غیر ضروری جسمانی رابطے کو کم سے کم رکھتے ہوئے قربت کے مناظر کی عکس بندی کر سکتے ہیں۔
ان لوازمات میں جسم کے مخصوص حصوں کو ڈھانپنے والے حفاظتی گارڈز، نپل پیسٹس اور ڈونٹ نما گدیاں شامل ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد جنسی مناظر کی عکس بندی کے دوران اداکاروں کے درمیان محفوظ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
قربت کے مناظر کے لیے ان ماہرین کی خدمات کا بڑھتا استعمال انڈین فلمی صنعت میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں ایسے مناظر عموماً اداکاروں اور ہدایت کاروں کے باہمی اعتماد پر چھوڑ دیے جاتے تھے اور ان کے لیے باقاعدہ حفاظتی ضابطے اکثر موجود نہیں ہوتے تھے۔
آستھا کھنہ کے مطابق، قربت کے مناظر کے ماہرین کو عموماً فلم کی کاسٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی خدمات کے لیے مقرر کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس کا مقصد یہ ہے کہ اداکاروں کو پہلے ہی معلوم ہو کہ سکرپٹ میں قربت کے مناظر شامل ہیں۔ یوں وہ فلم میں کام کرنے کا معاہدہ کرنے سے پہلے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ ایسے مناظر کی عکس بندی میں خود کو آرام دہ محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔‘
اب یہ موضوع ممنوع نہیں رہا
دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والی صنعتوں میں شامل بالی وڈ نے کئی دہائیوں تک پردۂ سیمیں پر جسمانی قربت دکھانے سے بڑی حد تک گریز کیا۔ اس کی وجوہات میں حکومت کی سخت ہدایات اور سنسر اداروں کی کڑی نگرانی شامل تھیں۔
چنانچہ بوس و کنار اور جنسی تعلق کو براہ راست دکھانے کے بجائے علامتی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ پھولوں کا ایک دوسرے سے ٹکرانا، سمندر کی لہروں کا آپس میں ملنا یا دہکتی آگ کو ایسے مناظر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جن میں خواہش اور جسمانی ملاپ کا اظہار مقصود ہوتا تھا۔
فلم سازوں کی جانب سے ان حدود کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے باوجود قربت کے مناظر کی عکس بندی کا طریقۂ کار طویل عرصے تک غیر رسمی اور غیر منظم رہا۔
ہندی فلموں کی ابتدائی مرکزی دھارے کی پروڈکشنز میں سے ایک، جس میں قربت کے مناظر کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا طریقہ اپنایا گیا، ’گہرائیاں‘ تھی۔ فلم ساز کرن جوہر کی سرپرستی میں بننے والی یہ فلم 2022 میں ایمیزون پرائم ویڈیو پر ریلیز ہوئی۔
قربت کے مناظر کی ماہر آستھا کھنہ نے اس فلم میں اداکاروں کی ذاتی حدود متعین کرنے اور مناظر کی پیشگی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا جبکہ انٹیمیسی کوچ نیہا ویاسو نے جسمانی حرکات اور رضامندی سے متعلق ورکشاپس منعقد کیں۔
صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق، اس طریقۂ کار کو بتدریج سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے بننے والی دیگر فلموں اور ڈراموں میں بھی اپنایا جانے لگا ہے۔ ان کے بقول، اس تبدیلی کو آگے بڑھانے میں اسٹریمنگ سروسز کا اہم کردار ہے۔
نیہا ویاسو نے کہا کہ ’اب سنسرشپ نسبتاً کم ہے اور ایسے موضوعات پر مبنی کہانیوں کے لیے زیادہ گنجائش موجود ہے جنہیں پہلے ممنوع سمجھا جاتا تھا۔‘
جرائم پر مبنی ڈراما سیریز ’مرزا پور‘ اپنے واضح اور غیر مبہم مناظر کے لیے مشہور ہے۔ اس کے ابتدائی سیزنز میں قربت کے مناظر کی منصوبہ بندی کے لیے مخصوص ماہرین کی خدمات حاصل نہیں کی گئی تھیں۔
سیریز کی مرکزی اداکارہ راسیکا دُگل کا کہنا ہے کہ ایسے ماہرین اس شعبے میں موجود ایک اہم خلا پُر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ابتدائی سیزنز میں ہمیں اپنی ذاتی آسودگی اور حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے ان معاملات کو انفرادی طور پر سنبھالنا پڑتا تھا۔‘
ان کے بقول، ’قربت کے مناظر کے لیے ماہرین کی موجودگی بہت اہم ہے، تاکہ کسی کی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو اور ہر شخص کے خدشات اور تحفظات کا مناسب خیال رکھا جائے۔‘

انڈیا کی فلم اور ٹیلی وژن صنعت میں ان ماہرین کی خدمات ابھی عام نہیں ہوئیں۔ ان کی مجموعی تعداد ایک درجن سے کچھ زیادہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

جذباتی زخم
بالی وڈ کی چمکتی دمکتی دنیا کے پیچھے ایک عرصے تک فلمی سیٹوں کا ایسا بے ترتیب ماحول پوشیدہ رہا جہاں ذاتی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات پیش آتے تھے۔
آستھا کھنہ نے کہا کہ ’ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ کسی اداکار نے اپنی ساتھی اداکارہ کی رضامندی کے بغیر اسے بوسہ دے دیا۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ فلم بندی کے دوران ایسا کچھ نہ ہو۔‘
انڈیا کی فلم اور ٹیلی وژن صنعت میں ان ماہرین کی خدمات ابھی عام نہیں ہوئیں۔ ان کی مجموعی تعداد ایک درجن سے کچھ زیادہ ہے۔
بڑی تجارتی فلموں میں ان ماہرین کے لیے کام کے مواقع محدود رہتے ہیں، کیونکہ بڑے اداکار اکثر پردۂ سیمیں پر واضح جسمانی قربت یا حتیٰ کہ بوس و کنار کے مناظر سے بھی گریز کرتے ہیں۔
کچھ فلموں میں قربت کے مناظر کی عکس بندی کے لیے کسی مخصوص ماہر کی خدمات حاصل نہیں کی جاتیں جبکہ بعض تجربہ کار ہدایت کار اب بھی ایسے مناظر خود ہی سنبھالتے ہیں۔
اس شعبے کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ رہنما اصول موجود ہیں اور نہ ہی فلم سازوں کے لیے قربت کے مناظر کے ماہر کی خدمات حاصل کرنا لازمی ہے۔ ایسے میں صنعت سے وابستہ بعض افراد کو امید ہے کہ فلمی انجمنیں مستقبل میں اس حوالے سے پوری صنعت کے لیے یکساں معیار متعارف کرائیں گی۔
آستھا کھنہ کے مطابق، قربت کے مناظر کے ماہر کا کردار صرف جنسی قربت کی نقل کرتے ہوئے مناظر کی عکس بندی تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’قربت کا منظر لازماً کوئی سنسنی خیز یا رومانوی منظر نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک بہت وسیع دائرے کا احاطہ کرتا ہے۔‘ ان کے بقول، اس میں تشدد، غلبہ جمانے، ہراسانی اور برہنگی جیسے موضوعات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
آستھا کھنہ نے کہا کہ ’میرے کام کا مقصد ایسے حالات پیدا ہونے کے امکانات کم کرنا ہے جن کے نتیجے میں کسی شخص کو کئی برس تک تھراپی کی ضرورت پڑے اور اس کے ذہنی و جذباتی زخم پھر بھی مندمل نہ ہو سکیں۔‘

شیئر: