بالی وڈ کی مشہور شخصیات کو عموماً اُن کی اداکاری، جسمانی فٹنس اور پُرتعیش طرزِ زندگی کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔ تاہم، شہرت کی چکاچوند کے پیچھے کئی اداکار اور فلم ساز صحت کے سنگین مسائل سے بھی دوچار رہے ہیں۔ اِن بیماریوں میں سرطان، اعصابی عوارض اور طویل عرصے تک برقرار رہنے والی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ اِن میں سے بعض شخصیات نے علاج کے مشکل اور طویل مراحل سے گزرتے ہوئے صحت یابی کی کوشش کی، جب کہ کچھ اب بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ دیرینہ بیماریوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اِن شخصیات نے اپنے تجربات کُھل کر بیان کرکے ایسی بیماریوں کے بارے میں عوامی شعور اُجاگر کرنے میں بھی مدد دی ہے جنہیں اکثر غلط سمجھا جاتا ہے یا جن کے ساتھ معاشرتی بدنامی اور منفی رویے وابستہ ہوتے ہیں۔
منیشا کوئرالا کی بیضہ دانی کے سرطان سے جنگ سے لے کر سمانتھا روتھ پربھو کے مایوسائٹس کے تجربے تک، آئیے 10 ایسی مشہور شخصیات کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے اپنی بیماریوں اور اِن کے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں کھل کر بات کی۔
مزید پڑھیں
1. منیشا کوئرالا: بیضہ دانی کا چوتھے درجے کا سرطان
اداکارہ منیشا کوئرالا کو سال 2012 میں بیضہ دانی کے چوتھے درجے کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔ یہ خبر اُن کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔ وہ علاج کے لیے امریکہ گئیں، جہاں نیویارک کے میموریل سلون کیٹرنگ کینسر سینٹر میں اُن کا علاج کیا گیا۔ اُن کے علاج میں میجر سرجری اور کیموتھراپی شامل تھی۔

اگلے چند برسوں میں اداکارہ نے دوبارہ اداکاری کا آغاز کیا اور سرطان کے بارے میں عوامی شعور اُجاگر کرنے کے لیے بھی کام کیا۔ اُنہوں نے اپنے انٹرویوز اور اپنی خودنوشت کے ذریعے بیماری سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے۔
2. سونالی باندرے: جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جانے والا سرطان
اداکارہ سونالی باندرے نے سال 2018 میں انکشاف کیا کہ انہیں ایسا سرطان لاحق ہوا ہے جو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہے۔ وہ علاج کے لیے نیویارک گئیں اور وہاں سے اپنے تجربات کے بارے میں مسلسل آگاہ کرتی رہیں۔ اُنہوں نے سرطان کے علاج کے دوران پیش آنے والی جسمانی اور جذباتی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
اُن کے کُھل کر بات کرنے سے سرطان، اِس کے علاج اور مریضوں کو درکار مدد جیسے موضوعات پر عوامی سطح پر گفتگو کو فروغ ملا۔ اُنہوں نے مشکل حالات میں اہلِ خانہ کی مدد اور امید برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی بات کی۔
3. طاہرہ کشیپ: چھاتی کا سرطان
مصنفہ اور فلم ساز طاہرہ کشیپ نے سال 2018 میں اپنے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی۔ اُن کو چھاتی کے سرطان کی ابتدائی قسم لاحق تھی جس میں غیر معمولی خلیے چھاتی کی نالیوں تک محدود رہتے ہیں اور اِن سے باہر نہیں پھیلتے۔
طاہرہ کشیپ نے تشخیص اور صحت یابی کے دوران پیش آنے والی جذباتی مشکلات کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ اُنہوں نے اپنے عوامی اثر و رسوخ کو چھاتی کی صحت اور سرطان کی بروقت تشخیص کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔
4. لیزا رے: ہڈیوں کے گودے کا سرطان
اداکارہ لیزا رے نے سال 2009 میں انکشاف کیا کہ انہیں ملٹی پل مائیلوما لاحق ہے۔ یہ سرطان کی ایک قسم ہے جو ہڈیوں کے گودے میں موجود پلازما خلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ لیزا رے کے علاج میں سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں اداکارہ نے اپنی بیماری کی تشخیص، علاج اور اِس غیر یقینی کیفیت کے بارے میں بات کی جس کا سامنا ایسے سرطان کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔
5. عرفان خان: نیورواینڈوکرائن ٹیومر
سال 2018 میں عرفان خان کو نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایک نایاب قسم کا سرطان ہے۔ اُنہوں نے کئی برس تک اس بیماری کا نہایت حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا، تاہم سال 2020 میں اِن کا انتقال ہو گیا۔
عرفان خان اپنے پیچھے عالمی سنیما میں ایک ایسی منفرد اور بے مثال میراث چھوڑ گئے جو ان کی غیر معمولی اداکاری اور فن کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
6. فاطمہ ثنا شیخ: مرگی
اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ نے انکشاف کیا کہ فلم ’دنگل‘ کی تیاری کے دوران انہیں مرگی کی تشخیص ہوئی تھی۔ انہوں نے مختلف انٹرویوز میں اُس ذہنی اضطراب کے بارے میں گفتگو کی جس کا سامنا انہیں ابتدا میں عوامی مقامات پر مرگی کا دورہ پڑنے کے خدشے کے باعث کرنا پڑتا تھا۔ اُنہوں نے اِس اعصابی بیماری سے وابستہ معاشرتی بدنامی اور منفی رویوں کا بھی ذکر کیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ ابتدا میں اِنہیں اپنی بیماری کی تشخیص قبول کرنے میں دشواری پیش آئی اور وہ علاج کے ابتدائی دور میں ادویات کے استعمال میں بھی باقاعدگی برقرار نہ رکھ سکیں۔ وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنی بیماری کے بارے میں زیادہ کُھل کر بات کرنے لگیں۔ انہوں نے فلم سازوں اور اپنے ساتھیوں کو بھی بتانا شروع کیا کہ شوٹنگ کے دوران اگر انہیں مرگی کا دورہ پڑ جائے تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔
7. ارجن کپور: ہاشیموٹو کی بیماری اور ڈپریشن
اداکار ارجن کپور نے ہاشیموٹو (تھائیرائیڈ غدود کا ایک عارضہ) کی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے کے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ یہ ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام تھائیرائڈ گلینڈ پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسے متاثر کرتا ہے۔
ارجن کپور نے فلمی صنعت میں کام کرتے ہوئے اپنے وزن اور جسمانی صحت کو قابو میں رکھنے کی مشکلات کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ اُنہوں نے ڈپریشن کا سامنا کرنے اور اِس کے علاج کے لیے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے کا تجربہ بھی بیان کیا ہے۔
8. ہریتک روشن: دماغ کی سرجری
اداکار ہریتک روشن کو مسلسل سر درد کی شکایت کے بعد سال 2013 میں دماغ کی سرجری کروانی پڑی۔ طبی معائنوں سے انکشاف ہوا کہ اُن کے دماغ اور اِس کی بیرونی جھلی کے درمیان خون جمع ہو گیا تھا۔ اِس کیفیت کو طبی اصطلاح میں سب ڈورل ہیمیٹوما کہا جاتا ہے۔ اُس وقت شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، اِس مسئلے کے علاج کے لیے اُن کی سرجری کی گئی۔

بعد ازاں ہریتک روشن نے دوبارہ کام شروع کر دیا اور ایسی فلموں میں اداکاری کا سلسلہ جاری رکھا جن میں جسمانی طور پر سخت محنت اور مشقت درکار ہوتی ہے۔
9. انوراگ باسو: خون کا سرطان
فلم ساز انوراگ باسو کو سال 2004 میں ایکیوٹ پرومائیلوسائٹک لیوکیمیا کی تشخیص ہوئی۔ یہ خون کے سرطان کی ایک قسم ہے۔ اُس وقت وہ ٹیلی وژن کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔ بیماری کے دوران انہیں علاج کے مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، کیوں کہ یہ مرض اُن کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا تھا۔
بعد ازاں انوراگ باسو صحت یاب ہو کر فلم سازی کی طرف آئے اور اُنہوں نے ’برفی‘ اور ’جگا جاسوس‘ سمیت کئی کامیاب فلموں کی ہدایت کاری کی۔ اُن کی صحت یابی کو اکثر ایسی جان لیوا بیماری کے دوران ہمت اور ثابت قدمی کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
10. سلمان خان: ٹرائی جیمینل نیورالجیا اور صحت کے دیگر مسائل
اداکار سلمان خان نے عوامی سطح پر بتایا ہے کہ وہ ٹرائی جیمینل نیورالجیا نامی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اِس بیماری میں چہرے پر اچانک اور انتہائی شدید درد اُٹھ سکتا ہے۔ اداکار نے مختلف برسوں کے دوران اپنے انٹرویوز میں اپنی صحت سے متعلق مشکلات پر گفتگو کی ہے۔













