قیام

* ** * *جاوید اقبال* * * * *
واقعات کا ایک دوسرے پر انطباق کیسی کیسی دلچسپ اور بعض اوقات افسوسناک صورتحال کو جنم دیتا ہے ۔ ایک قابل مشاہدہ عنصر ہے ۔ کوئی نصف صدی قبل جب 1968ء میں ایوب خان کے پرسکوت دورِ حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو کا بگولا اٹھ کر آسمان ِ سیاست پر طوفان بن کر چھا گیا تو جامعات کی طلباء تنظیمیں ہڑ بڑا کر بیدار ہو گئیں ۔ برسوں کی بے صدائی گویائی میں ڈھلی ۔ ان تنظیموں کے انتخابات نئے جوش سے آشنا ہو گئے ۔ لاہور میں انارکلی کے اطراف کا علاقہ نعروں اور تصادم کا گڑھ بن گیا ۔
گورنمنٹ کالج ، اسلامیہ کالج ، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس ، اورنٹیل کالج ، لاء کالج ، طلباء کے ہوسٹل ، ضلع کچہری ، ناصر باغ ، پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر میں اتنے مختصر حدود اربع کے اندر اتنے آمادہ بر پیکار جوان بدن نہیں تھے ۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں کے لئے لوئر مال کا یہ علاقہ مرکزتوجہ بن گیا ۔ جامعات اور متعدد کالجوں میں اسلامی جمعیت طلباء کا سکہ چلتا رہا تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے عروج آشنا ہوتے ہی کمیونزم نواز عناصر بھی قدم جما بیٹھے ۔ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تشکیل کا سوچا جانے لگا ۔ اسی دوران میں اسلامیہ کالج کے کریسنٹ ہاسٹل کے اپنے انتخابات کا وقت آگیا ۔ دونوں گروہوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ۔ لٹریری سوسائٹی ، اسپورٹس کمیٹی اور میس کمیٹی کی تقریباً 15نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے جانے تھے ۔ انہی دنوں جماعت اسلامی کے اصرار پر اسلامیہ کالج کے شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر ایرک سپرین اور پروفیسر امین مغل ، شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر منظور احمد اور شعبۂ اقتصادیات کے سربراہ پروفیسر منظور احمد اور شعبۂ اقتصادیات کے پروفیسر منہاج الدین کو اشتراکیت کے ہمنوا ہونے کی بنا پر نوکری سے برخواست کیا جا چکا تھا ۔ چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو کے متفقین نے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا فیصلہ کیا ۔ باقی سب نشستوں کیلئے امیدوار ڈھونڈھ لئے گئے صرف میس ڈائریکٹر کیلئے مناسب لڑکا نہ مل سکا ۔
کہاوت ہے کہ مرد کے ذہن تک رسائی حاصل کرنے کیلئے اس کے پیٹ میں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ہاسٹل میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے میس ڈائریکٹر کی نشست کو قابو کرنا اشد ضروری تھا لیکن امیدوار ؟ بسیار رَدوکدح کے بعد ایم اے اکنامکس کے ایک طالبعلم محمد افضل ساہی کو اس انتخاب میں حصہ لینے پر رضا مند کیا گیا لیکن ایک مسئلہ تھا افضل ساہی تقریر تو درکنار نصف درجن لوگوں کے سامنے بات چیت کرنے سے بھی قاصر تھا ۔ پھر زمانہ طالبعلمی میں خیر سے اردوگریز بھی رہا تھا ۔ بات کس سے اور کیسے کرتا ؟ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ طلباء سے ووٹ مانگنے کیلئے امیدوار ہم 3,-2 ساتھیوں کی خدمات مستعار لے لے ۔ اب صورتحال یہ ہوئی کہ ہم نصف درجن طلباء کا گروہ رات کے کھانے کے بعد ہاسٹل کے دورے پر نکل پڑتا ۔ ہر کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ۔ صاحبِ کمرہ سے ملاقات ہوتی ۔ ہم مدعا بیان کرتے ، افضل ساہی اپنے دائیں گال پر رومال رکھے ہمارے ساتھ ہی ہوتا۔ کچھ وضاحت حاصل کرنے کے لئے صاحبِ کمرہ افضل ساہی سے سوال کرتا تو ہم فوراً مداخلت کرتے اور کہتے کہ امیدوار کی داڑھ میں شدید درد ہے ۔ اس لئے بات نہیں کر سکتا ۔ یوں ہم دروازوں پرر دستک دیتے عرضِ مدعا کرتے ۔ دکھتی داڑھ والے امیدوار کی بجائے سوالوں کے جواب دیتے جاتے ۔
وعدے کرتے جاتے ، خوردونوش کی مقدار بڑھانے ، خدمات میں بہتری لانے اور میس میں عملے کی تعداد بڑھانے کے ! پھر انہی دنوں ایک آگ لگانے والا واقعہ ہو گیا ۔ مال روڈ پر واقع ٹولنٹن مارکیٹ میں شورش کاشمیری اور مولانا کوثر نیازی میں دھینگا مشتی ہو گئی ۔ شور ش ہفت روزہ ’’ چٹان ‘‘ نکالا کرتے تھے جبکہ کوثر نیازی کا ہفت روزہ ’’ شہاب ‘‘ تھا ۔ چٹان جماعت اسلامی کا ترجمان تھا ، کوثر نیازی بھٹو کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے ۔ دونوں ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا ۔ دوسرے گاہکوں نے بیچ بچائو کرا دیا ۔ 3گھنٹے بعد اسی ٹولنٹن مارکیٹ کے مال روڈ کی طرف کے برآمدے میں چٹان اور شہاب دونوں کے ضمیمے دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے تھے ۔ چٹان کے سرورق پر گریبان دریدہ شورش کاشمیری کی بڑی معصوم سی تصویر تھی ۔
جلی حروف میں عنوان تھا ، شورش کاشمیری پرکوثر نیازی اور اس کے غنڈوں کا حملہ جبکہ شہاب کے سرِ ورق پر کوثر نیازی اپنی پھٹی قمیض دکھا رہے تھے ۔ تحریر تھی ’’ کوثر نیازی شورش کاشمیری اور اس کے غنڈوں کے ہاتھوں مجروح‘‘ گال پر ایک چھوٹی سی پٹی بھی چپکا رکھی تھی ۔ اسی واقعے نے ہمارے ہاسٹل کے انتخابات میں آگ بھر دی ۔ افضل ساہی کے داڑھ درد میں مزید شدت پیدا ہو گئی اور ووٹ کیلئے ہماری طلب میں اور بھی لجاجت آگئی ۔ کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا دن آگیا ۔ ہاسٹل کے مرکزی دفتر کے سامنے طلباء کا ہجوم لگ گیا ۔ مخالفین کا امیدوار بڑے کروفر سے اپنے حمایتیوں کے ہمراہ درخواست جمع کرانے آیا ۔ ہمیں افضل ساہی کا انتظار تھا ۔ اسلامی جمعیت طلباء کے امیدوار کے کاغذات قبول ہو گئے ۔ ہم اپنے امیدوار کے انتظار میں تھے کہ ایک پیغام اس کی طرف سے ملا ۔اسے گزشتہ رات گھر سے ایک ٹیلیفون آیا تھا ۔ اس کا کوئی رشتہ دار شدید بیمار ہو گیا تھا چنانچہ فون ملتے ہی وہ گھر چلا گیا تھا۔ مایوسی کی لہر نے دلوں پر شکستگی کی کہر چڑھا دی ۔ بحالت مجبوری ہم نے اپنے ساتھیوں میں سے ہی ایک کی منت سماجت کر کے اس کی درخواست جمع کرا دی ۔ افضل ساہی اگلے دن کلاس میں تھا ۔ عزیز کی بیماری شدید نہیں تھی ۔
جس کیلئے ڈیڑھ ، دو ماہ شب بیداری کی تھی ۔ دروازوں پر دستِ طلب دراز کیا تھا ، جس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے آخری وقت پر منظر نامے سے غائب ہو گیا تھا ۔ بعد کے کئی برسوں بعد وہی محمد افضل ساہی مسلم لیگ ( ن ) کا رکن ہوا اور پنجاب اسمبلی کا اسپیکر رہا ۔ میاں محمد نوازشریف زندگی کے انتہائی کٹھن دور سے گزر رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتے انہوں نے اپنی کابینہ کا انتہائی اہم اجلاس بلایا ۔ انتہائی قریبی اور قابل اعتبار سمجھے جانیوالے چوہدری نثار علی خان کی کمر اچانک درد کرنے لگی اور وہ تا حصولِ صحت بسترپر پڑ گئے ۔ تب سے وہ منظر سے غائب ہیں اور مجھے افضل ساہی اور ہاسٹل کے وہ انتخابات یاد آرہے ہیں ۔ ** وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا **

شیئر:

متعلقہ خبریں