Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میں نے قا نون پڑ ھا، شو ہر کی بیر سٹر ی نے نکھارا،نادیہ امجد

 
 خوا تین کو ان کا جائز مقام دلا نے کو ہی مشن بنا ﺅں گی، ہوا کے دوش پرگفتگو
 
تسنیم امجد۔ریا ض
کل شعور کی عدالت سجی تھی، ماں اور وطن میں مماثلت کامقدمہ تھا،عقل کرسی¿ عدل پر براجمان تھی، فراست وکیلِ استغاثہ تھی،ضمیر وکیلِ ہستی تھا جو دلیل دے رہا تھا کہ:
” بظاہر ماں اور وطن ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، وطن زمین ہے، ماں آسمان، ماں مکین ہے ، وطن مکان،وطن زندگی کا بیان ہے تو ماں زندگی کی زبان،ماں ایک گھنا سایہ ہے تو وطن اک سائبان،ماں ایک انسان ہے اور وطن بے جان،اس کے باوجود ماں اور وطن میں بعض اوصاف ایسے ہیں کہ اگر وہ پیشِ نظر ہوں تو دونوں میں فرق بیان کرنا ممکن نہ رہے مثلاً ماں اور وطن ، دونوں میں ”پناہ“ مشترک ہے، دونوں میں” چاہ“مشترک ہے، دونوں میں ”نباہ“ مشترک ہے، دونوں میں طرب مشترک ہے، آہ مشترک ہے،دونوںکی اہمیت مشترک ہے ، حشم وجاہ مشترک ہے،دونوں کی منزلِ عشق مشترک ہے ، راہ مشترک ہے۔ ان دونوں سے محبت میرا ایقان ہے،ان دونوں کا وجود میرا مان ہے اور میرے وجود پر ان دونوں کا احسان ہے، ماں اک ہستی¿ پاک دامان ہے اور میر ِ بے مثال وطن پاکستان ہے۔“
وکیلِ ہستی کے دلائل سننے کے بعد کرسی¿ عدل سے صدابلند ہوئی جس نے باور کرایا کہ اولاد خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو، ماں اس کو ٹوٹ کر چاہتی ہے، اسے اپنی بانہوں میں لئے رکھتی ہے۔ وہ پرائی اولاد کو اپنی اولاد پر کبھی ترجیح نہیں دے سکتی ۔یہی حال وطن کا ہے، اس کا باسی کیسا ہی کیوں نہ ہو، وطن اسے اپنی پناہوں میں لئے رکھتا ہے۔ کسی پرائے شہری کو اپنے شہری پر ترجیح نہیں دے سکتا۔
وطن وہ خطہ ارض ہے جہا ں انسان آنکھ کھو لتا ہے،جو روز اول سے ہی احساس تحفظ دیتا ہے اور یہی پائدار احساس زندگی بھر اس کا ساتھ نبھا تا ہے۔ یہ مہدِ مادر کی طرح حدتِ حیات عطا کرتا ہے جو اسے سرگرمی پر اُکساتی ہے اوریہ سر گرمی،یہ تحریک ہی در اصل زندگی ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ” شرر کے بعد ستارہ ملے، ستارے کے بعد آفتاب ، یہی آرزو توحُسنِ حیات ہے۔ اس کے لئے سعی و کو شش اور جہدمسلسل ضروری ہے۔ہا تھ پہ ہا تھ دھرے بیٹھے رہنے سے خوا ہشیں خود بخوددامن میں نہیں آ گرتیں۔ہر لحظہ مو جو ں سے ٹکرانا ہی زندگی ہے۔ساحل پر بیٹھ کر لہرو ں کے اُگلے ہوئے مو تی چنناعظمتِ انسانی کے شایانِ شان نہیںبلکہ سمندر میں غوطہ زن ہو کر اس کے فرش تک پہنچ کر سیپ سے موتی چُرانا ہی اصل کارنامہ ہے ۔ اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا اور پرکھا جائے توپردیس میں بسنے والے تارکین وطن در اصل وہ غساق ہیں جوپرائے سمندر کی تہوں سے اپنوں کے لئے موتی چنتے ہیں۔ ان کے دل سے بار ہا یہ آواز آتی ہے کہ :
مجھے پر دیس میں رہ کر برا بر یاد آتا ہے
وہ ٹو ٹا ہی سہی لیکن بہت،گھر یاد آتا ہے
اردو نیوز نے ہوا کے دوش پرپردیس اور دیس میں مقیم اہلیانِ ریختہ کو ایک دوسرے کے حال ، احوال جاننے، جذبات و احساسات پہچاننے اور حقائق کو دل سے ماننے کا جو موقع فراہم کر رکھا ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔آج ہوا کے دوش پر ہماری مہمان محترمہ نا د یہ امجد ملک تھیں جنہوں نے سرد ملک کی اُجلی فضاوں میں آنکھ کھولی ، پھر بچپن اور لڑکپن سے ہوتے ہوئے شعورِبانکپن کی منزل تک کا سفر بھی اُسی سرزمین پر طے کیا مگر والدین سے ورثے میںملنے والی پاکستان کی محبت نے انہیں اپنا اسیرکئے رکھا۔ پاکستانیت ان کے وجود میںکوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس محبت نے انہیں خاک ِ وطن سے وفا کا سلیقہ عطا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری جائے پیدائش اگر میری پہچان ہے توسر زمینِ پاک میرا مان ہے ، میری آن ہے جس کی خوشبو سب سے زیا دہ قوی ہے۔نادیہ امجد جیسی باغ و بہار شخصیت سے مل کرہمارا یہ خیال یقین میں بدل گیا کہ:
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درو ں
اس حقیقت سے مفرممکن نہیں کہ عورت ابد سے ہی اپنے ہر روپ میںاہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ اسی کی بدولت اس کے ایک
روپ”ماں“ کو وہ بلند درجہ عطا ہوا کہ جنت بھی اس کے قدموں تلے رکھ دی گئی ۔
نا د یہ امجد ملک سے جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو وہ سرد ملک میں گرما گرم کافی کا کپ تھا مے موسم کی ٹھنڈک سے محظوظ ہو رہی تھیں۔ ایسے میں ہم کیوں پیچھے رہتے،فوری یہ کہہ کر ”مختصر وقفہ“ لیاکہ ”نادیہ جی! ملتے ہیں ا یک بریک کے بعد۔“ اس دوران ہم نے کافی تیار کی اور کیمرے کے سامنے آ بیٹھے ۔ محترمہ نادیہ امجد نے بتایا کہ :
میرے والدعبدا لغفور ملک اور والدہ نے خالص مشر قی انداز میں اپنے بچو ں کی پر ورش کرنے کی ہر ممکن کو شش کی ہے۔انہوں نے انگریزی کے ساتھ ساتھ مادری زبان میں گفتگو کو تر جیح دی۔میں 3بھا ئیو ں کی اکلو تی بہن ہو ں۔والدین نے اسلامی تعلیما ت مبارکہ کو بھی اہمیت دی۔برطانیہ میں دنیاوی تعلیم کے مواقع وافر ہیں چنانچہ ان سے بھی خوب مستفید ہوئے ۔ہما رے گھر اور باہر کے ما حول میں بہت فرق تھا ۔روایتی زندگی کو تر جیح دی جا تی تھی۔ہمیں یہ احساس دلا یا گیا کہ خا ندان ہی تمدن کا سب سے پہلا اور بنیا دی ادارہ ہے۔والدہ نے لا ڈ،پیار کے ساتھ ساتھ گھر داری بھی سکھا ئی۔کام کے دوران کہا نی کی طرح اپنے تجربات اور عورت ہونے کے ناتے ذمہ داریا ں از بر کرا دیں۔وہ ہر میدان میں مسلم خواتین کے کا رنا مے بتا کر مجھے اپنی حیثیت کا احساس دلا نا چا ہتی تھیں ۔اس مشن میں وہ کا میاب رہیںکیو نکہ میں بھی کچھ نہ کچھ کر دکھا نے کی جستجو لئے آگے بڑ ھنے لگی۔
نادیہ نے کہا کہ میراتعلیمی کریئر بھی خوب رہا۔میں آ ل را ﺅ نڈر بننا اپنا حق جا نتی تھی۔انگریزی ما حول میں ہمارے گھر اردو کی کتا بیں منگوا ئی جا تی تھیں۔میری سہیلیا ں انگریزی میو زک کی دلدادہ تھیں لیکن میں نصرت فتح علی خان کو سنتی تھی۔والدین نے میرے کریئر کے حوالے سے اپنی مرضی مجھ پر نہیں تھوپی بلکہ میرے ذہنی میلان کو مد نظر رکھا۔ ابتدائی تعلیم روکڈ ل کے مقامی کالج سے مکمل کر کے میں نے قانون میں ڈپلو مہ حا صل کیا۔ خواتین کے حقوق پر زیادہ تو جہ دی کیونکہ میں نے اپنے اردگرد موجودخواتین کا استحصال ہوتے دیکھا۔ان حقائق کا تجز یہ کیا جو ان میں اعتماد کی کمی کا باعث تھے۔اپنے معاشرے کے ان مر دوں پر افسوس ہوا جو انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں۔یہاں تک کہ آج بھی اکثر لوگ عورت کو پا ﺅ ں کی جو تی کہتے ہیںحا لا نکہ دین اسلام نے انہیں حقوق میں مردو ں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ فرق صرف فرا ئض کی ادائیگی میں رکھا ۔یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقو ں میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں عام ہیں۔میںنے خواتین کے ایسے حالات دیکھ کر تہیہ کیا کہ خواتین کو ان کا جائز مقام دلانے کو ہی اپنا مشن بنا لو ںگی۔
با تو ں کا سلسلہ کچھ ایسا چلا کہ ہم دو نو ں کو اپنی کا فی کے ٹھنڈے ہو نے کا احساس ہی نہ ہوسکا۔وہ ہنستے ہو ئے کہنے لگیں کہ پہلے میں اپنی زندگی کے حسین موڑ کے با رے میں بتا تی چلوں۔یہ کہہ کر ان کے چہرے پر حیا کی سر خی نمودار ہو گئی ۔انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے میری زندگی کے سا تھی کا انتخاب ایک پا کستا نی کی صورت میں کیا۔امجد ملک میری زندگی میں بہار بن کر آئے۔وہ 1994ءمیںقا نو ن کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بر طا نیہ آئے ہو ئے تھے۔ہماری شادی مکمل طور پر ا رینجڈ ہے۔میں خوش قسمت ہو ں کہ ہماری شادی پاکستان میں ہو ئی ۔سسرال نہا یت محبت کرنے والا ملا۔ یوں سمجھیں کہ وارے نیارے ہو گئے۔محبتیں دگنی ہو گئیں۔ساس امی حمیدہ اور سسر ابو کا آنا جانا رہا۔شوہر کے خاندان میں بھی 3 بھا ئیوں اور ایک بہن کا تنا سب ملا ۔میرے جیٹھ بریگیڈئیر ہیں، نند پو لیٹیکل سائنس میں ماسٹرز اور کالج میں لیکچررہیں۔مجھے نند ملی اور نند کو بھابی، یوں ہم دونوں کے لئے بہن کی کمی پو ری ہو گئی۔ میرے ا یک دیور یوکے میں ہی ہےں۔
شوہر کی شکل میںاک مونس وہمدم میرے ہم قدم ہوئے ۔امی جان سے سنا تھا کہ رشتے آ سما نو ں پر بنتے ہیں۔ یہ رب ا لعز ت کی جانب سے رحمت ہوتی ہے ۔مجھے اس پرکامل یقین ہے ۔شادی کے بعد جو نعمتیں میرا مقدر بنیں میں ان پر جتنا بھی شکر ادا کروں، وہ کم ہے۔ مجھے آج تک میکے اور سسرال میں فرق محسوس نہیں ہو سکا ۔
2سال قبل سسر کا سایہ¿ شفقت سر سے اٹھ گیا ۔ ان کی وفات سے ایسا خلا پیدا ہوا جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔میری ساس امی کی دعائیں ہر دم میرے ساتھ ہیں۔وہ زیادہ تر پا کستان میں ہی رہتی ہیں۔ہم سال بھر میں کبھی 9اور کبھی 10مرتبہ وطن جاتے ہیں۔اس طرح یو ں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں مقیم اہل خاندان بھی ہمارے ساتھ ہی ہیں۔
ہماری گفتگو کا سلسلہ جا ری تھا کہ امجد ملک بھی وہیں آگئے ۔نہایت پر تپاک انداز میں ہما رے سلام کا جواب دیا۔بیگم صاحبہ نے ہمارا تعارف کرایا تو جواباً انہوں نے اردو نیوز کو دیار غیر میں اردو کمیو نٹی کی خدمت کرنے پر الفاظ کے خو بصورت گلدستے کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا ۔صورت حال کو بھا نپتے ہو ئے کہنے لگے کہ شاید خواتین اپنی با تو ں میں کافی پینا بھول گئیں ۔لا ئیے بیگم میں کافی بنا لاﺅں۔
گفتگو کا دوسرا دور شروع ہوا تو امجد ملک نے کہا کہ اس ملک میںرہ کرسب کام خود ہی کرنے پڑتے ہیں۔ہم دونوں میاں بیوی مصروف رہتے ہیں، مل جل کر گھر کا نظام سنبھا لتے ہیں۔میری اہلیہ نادیہ کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ وہ ایک مکمل شخصیت ہیں۔الحمد للہ، سب کام آفس سے آکر سمیٹ لیتی ہیں۔میری کو شش ہو تی ہے کہ ان کا ہاتھ بٹا ﺅ ں۔فیملی لا ئف ایک آرٹ سے کم نہیں۔مل جل کر ہی یہ زندگی خوبصورت رنگو ں سے سجتی ہے۔اللہ تعا لیٰ نے ہمیں ایک بیٹا حمزہ امجد ملک عطا فرمایا جس پر ہم اپنے رب کریم کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نا دیہ نے اپنی قابلیت کے تمام جو ہراس کی تر بیت کے نام کر دیئے۔میں اپنی مصرو فیات کے حجم سے بمشکل ہی با ہر نکل پاتاہو ں،لیکن پھر بھی انصاف کرنے کی بھر پور کو شش کر تا ہو ں۔اپنی مصروفیات کو گھر نہیں لاتا۔میں جانتا ہو ں کہ والدین کی دا نشمندی اور کا میاب زندگی کے سائے تلے پر وا ن چڑ ھنے والی اولادکی شخصیت بے مثال ہو تی ہے۔میں اپنے بچپن کو یاد کرتا ہو ں تو سو چتا ہو ں کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں ،وہ والدین کی بھر پور توجہ کی وجہ سے ہو ں۔مجھے وہ دن یاد ہے جب میرے وا لد بشیر خالد صاحب نے مجھے اخبار کی کٹنگز لا کر پڑ ھنے کو دیں۔وہ قا ئد اعظم اور علا مہ اقبال کے بارے میں تھےں۔وہ اکثر مجھ سے ان کے بارے میں بات کرتے تھے۔ان کی زندگی کے سنہری اصول اور کا میابی کی وجوہ بتاتے ہو ئے ان کی آنکھو ں میں در آنے والی چمک میں محسوس کرسکتا تھا۔میں نے اسی وقت تہیہ کر لیاتھا کہ وا لدکے خوابو ں کو تعبیر دونگا۔قائد اعظم کی زندگی کو رول ماڈل بناتے ہوئے میں نے قا نو ن کی تعلیم کو اپنے لئے منتخب کیا۔ والد صا حب مجھے بلندی پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن انہو ں نے میرے کریئرکے حوالے سے اپنا کو ئی فیصلہ نہیں سنایا ۔مستقبل کاانتخاب مجھ پر چھوڑ دیا۔الحمد للہ، میں قا ئد کی تقلید کے قابل ہو گیا ۔امجد ملک اپنی گفتگو جا ری رکھے ہو ئے تھے کہ نا دیہ نے مدا خلت کرتے ہو ئے کہا کہ:
مجھے اپنے شوہر پر فخر ہے ۔باقی کامیابیوں اور کارکردگیوں کی تفصیل مجھ سے سن لیجئے ۔ ان میں سے بہت سی تو میری ٹپس پر ہیں۔ اس لئے میں اپنے بیٹے حمزہ کو بھی اس کے با با کی کا میابیوں اورپیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں اکثر بتا تی رہتی ہو ں تاکہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلے۔ نادیہ امجد نے کہا کہ سب سے پہلے بطورو النٹیئر،ریسیئل ایکویلٹی کونسل میںکام کیا پھر 1999ءمیں باقاعدہ مستقل ملاز مت کا سلسلہ شروع ہوا،سالیسِٹر امیگر یشن لائر ان سٹیزن ایڈوائیز ی بیو رو میں کا میابی کے جھنڈے گا ڑے۔آخر 2003ءمیں” امجد ملک سالیسٹرز“ کے نام سے اپنی لا فرم بنانے میں کامیاب ہو گئے۔اس چھت تلے انہو ں نے بے شمار مقدمات حکومت کو پیش کئے ۔ان کے حل کے لئے بیشتر اوقات حکو مت کو اپنے قوانین میں ردو بدل بھی کرنا پڑا۔یہ ان کی شا ندار کا میابی تھی۔ان کے کلائنٹس برٹش پا کستا نی ہیں۔ان کے علاوہ معلو مات کے لئے بذ ریعہ انٹر نیٹ ان کی خد مات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اسی دوران حمزہ امجد ملک بھی آ گئے۔22سالہ حمزہ ،ما شاءاللہ، نہایت سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں۔ان مودب اندازوالدین کی کا وشو ں کا غماز تھا۔کہنے لگے کہ میری گریجویشن امسال ما نچسٹر یو نیور سٹی سے مکمل ہو جائے گی، ان شاءاللہ۔ہا ورڈ یو نیورسٹی سے میں نے پو سٹ گریجویشن کا کورس مکمل کر لیا ہے۔آ ئندہ لا کرنے کا ہی ارادہ ہے۔میرے با با میرے رول ماڈل ہیں، انہی کی لا ئن اختیار کروں گا۔والدین کا مشکور ہو ں کہ انہو ںنے مجھے دین اسلام اور اپنی تہذ یب کی مکمل آ گاہی سے نوازا۔اپنی زبان بھی روانی سے بول سکتا ہوں۔مجھے ما ما اور با با ، دو نوں پر فخر ہے۔انہو ں نے اپنی مصرو فیات کے باوجودمیری تربیت کو او لیت دی ۔
  امجد ملک نے کہا کہ گھر سے با ہر کی دنیا میں کا میابی تبھی ممکن ہے جب گھر کے اندر کا ملیت ہو۔میری کا میابیو ں کا سہرا نا دیہ کے سر بھی ہے۔ان کے بھر پور تعا ون کا میں مشکور ہو ں۔الحمد للہ، میری پہچان ہیو مین را ئٹس کے لائیر کی حیثیت سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف انگلینڈاور ویلز میں بھی اپنے راکڈل آفس سے کا رر وا ئیا ں سنبھا لتا ہو ں۔مجھے فخر ہے کہ راکڈل لاءایسوسی ایشن ”آر ایل اے“ کی 100 سالہ تا ریخ میںپہلے ایشین کی حیثیت سے مجھے صدارت کے لئے منتخب کیا گیا ۔
سپر یم کو رٹ آف پا کستان کی بار ایسو سی ایشن کا لا ئف ٹائم ممبر ہو نے کے ساتھ ساتھ میں بنیا دی حقوق ،آئینی قوانین اور امیگریشن کے شعبو ں کا بھی رکن ہو ں۔ اس طرح مجھے اطمینان ہے کہ وطن کی خدمت بھی میرے حصے میں آئی۔اوپیک ” اوور سیز پا کستانیز ایگز یکٹیو کونسل“کی چیئر مین شپ نے میرے لئے ہم وطنو ں کی خد مت کی مزید راہیں کھول دی ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اللہ کریم کی رحمت سے ہم اپنے اہداف حا صل کر لیں گے۔اس عہدے سے قبل بھی میرا منشو ر خد مت خلق ہی تھا ۔
نادیہ امجد ملک نے کہا کہ انہو ں نے اپنی مصرو فیات کے باوجود دو کتا بیں ”روڈ ٹو جسٹس 2007ء“ اور” روڈ ٹو ڈیمو کریسی2008ئ“ کے نام سے لکھیں۔ذمہ داریو ں کی تفصیل کی طوالت تو یہا ں دریا کو کو زے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ویب سائٹ پر تفصیل مو جو د ہے۔میں شعبہ¿ تعلیم سے وابستہ ہو ں۔اکا لو جی سپو ر ٹ آفیسر کی حیثیت سے ٹیچرز ٹریننگ ،اہم ذمہ داری ہے۔نئے آنے والوں کو بنیادی انگریزی تعلیم سے آ گا ہی دینا بہت ضروری ہو تا ہے تا کہ وہ اگلے قا نو نی مدارج کو بخو بی سمجھ سکیں۔پر دیس میں زبان کا آنا بہت ضروری ہے۔خود تو قا نون پڑ ھا ہی ہے لیکن شو ہر کی بیر سٹر ی نے مزیدنکھار دیا ۔
ہمارے سوال کے جواب میں نادیہ کہنے لگیں کہ کام ،کام اور کام کے علاوہ ہم دو نوں تفریحی سر گر میو ں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ مقامی ادبی پرو گراموں میں ضرور جاتے ہیں۔مجھے لا نگ ڈرا ئیو بھا تی ہے اس لئے ،کنو رٹیبل گا ڑی رکھی ہو ئی ہے۔اسپو ر ٹس کی بھی دلدادہ ہو ں۔بیڈ منٹن کی زیادہ شو قین ہو ں۔شوہر کی ر فاقت میں جم جانا ،سینما اور چھٹی کے دن مختلف مما لک کے کھا نے کھا نا میرے اہم مشا غل کا حصہ ہے۔
امجد صا حب کتا بو ں کے شو قین ہیں،اکثر ان کے دوست انہیں کتا بو ں کا تحفہ دیتے ہیں ۔یہ نا می گرامی لو گو ں کی سوا نحِ عمری شوق سے پڑ ھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ میں ان کی کا میابی کے راز جا ننا چا ہتا ہو ںاور اسی نتیجے پر پہنچتا ہو ں کہ:
 نامی کو ئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا ، تب نگیں ہوا
ان کا کہنا ہے کہ حساس انسان اپنے ما حول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔خود شا عر نہ بھی ہو تو شا عرو ں کی شا عری محظوظ کر تی ہے۔فیض احمد فیض ،امجد اسلام امجدکی شاعری شوق سے پڑ ھتے اور سنتے ہیں۔کچھ آپ کی نذر ہے:
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشواراہے
 تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
 ہر اک صدا جو ہمیں باز گشت لگتی ہے
 نہ جانے ہم ہیں دوبارا کہ یہ دوبارا ہے
عجب اصول ہیں اس کا رو با رِ دنیا  کے
کسی کا قرض کسی ا ور نے اتارا ہے
نجانے کب تھا ! کہا ں تھا مگر یہ لگتا ہے
 یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
 یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم
 مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنا را ہے
نادیہ ملک نے کہا کہ اشعار کا ذکر چلا ہے تو کچھ ہماری پسند بھی شا مل کر لیں:
 بر تر از اندیشہ¿ سود و زیا ں ہے زندگی
ہے کبھی جا ں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانہ¿ امروز و فردا سے نہ ناپ
جا ودا ں ، پیہم رواں ، ہر دم جواں ہے زندگی
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
قلز م ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
نادیہ امجد ملک نے آخر میں خواتین کے نام پیغام دیا اور اجازت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ:
” اپنے ا ندر خود اعتمادی پیدا کیجئے۔سو چو ں کے دائرے وسیع کرنے سے کا میا بی خود بخود قریب آ جائے گی ۔یکجہتی کو مقدم جا نئے تاکہ مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔نکتہ چینی ایک چنگاری ہے اس سے پر ہیز ضروری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

شیئر: