Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’روایت شکن اقدام‘، ایم پی اے کی اپنے بچوں کے نکاح میں 10 غریب جوڑوں کی بھی اجتماعی شادی

تقریب کسی مہنگے ہوٹل یا شادی ہال کے بجائے کھلے میدان میں منعقد کی گئی (فوٹو: عنایت اللہ)
پچھلے دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے کی شاہانہ شادی خبروں میں رہی  تاہم اب بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن کی جانب سے اپنے بچوں کی شادی کا ایک بالکل مختلف اور غیر روایتی انداز سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس تقریب کی وجہ شہرت مہنگے انتظامات نہیں بلکہ سادگی، عوامی شرکت اور غریب خاندانوں کو ساتھ شامل کرنا ہے۔
بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت میں شامل پارلیمانی سیکرٹری انجینیئر عبدالمجید بادینی نے اپنے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی شادی کی تقریب کسی مہنگے ہوٹل یا شادی ہال کے بجائے کھلے میدان میں اجتماعی طور پر منعقد کی۔
اس تقریب میں انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کے دس نوجوانوں کی شادیاں بھی کروائیں۔ اس اقدام کو منفرد اور روایت شکن  قرار دیا جارہا ہے۔
عبدالمجید بادینی نے نہ صرف اپنے حلقے کے عوام کو اس شادی میں شرکت کی دعوت دی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے  اعلان کیا تھا کہ  ملک بھر سے جو چاہیں بلا تفریق اس  تقریب میں شرکت کرسکتا ہے۔
انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ضلع کے غریب خاندانوں کے نوجوان اگر چاہیں تو اپنی شادی اسی اجتماعی تقریب میں کر سکتے ہیں جنہیں وہ مالی معاونت بھی فراہم کریں گے۔
عبدالمجید بادینی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اعلان کے بعد ابتدا میں نو غریب جوڑوں نے ان سے رابطہ کیا جبکہ تقریب کے اختتام پر ایک اور جوڑا شامل ہوا  یوں مجموعی طور پر 10 جوڑوں کی شادی ممکن ہو سکی۔‘
یہ اجتماعی شادی کی تقریب جعفرآباد کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ڈیرہ اللہ یار کے اے ون سٹی گراؤنڈ میں منعقد ہوئی جہاں تمام جوڑوں کے لیے فی کس 50 ہزار روپے حقِ مہر  رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ادا کیا گیا جبکہ دلہا دلہن کو کپڑوں کے جوڑے بھی تحفے میں دیے گئے۔

عبدالمجید بادینی کا دعویٰ ہے کہ تقریب میں شریک افراد کی تعداد 10 سے 15 ہزار کے درمیان تھی جنہیں  سادہ کھانا فراہم کیا گیا (فوٹو: عنایت اللہ)

عبدالمجید بادینی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں بھی کسی بڑے یا امیر گھرانے میں نہیں بلکہ سادہ اور غریب خاندانوں میں کی ہیں جن میں ایک داماد پولیس میں سپاہی ہے جبکہ دوسرا بے روزگار ہے۔
اس تقریب میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق مہمانِ خصوصی تھے جنہوں نے تمام جوڑوں کا نکاح پڑھایا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما، مقامی انتظامیہ کے افسران اور بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔
عبدالمجید بادینی کا دعویٰ ہے کہ تقریب میں شریک افراد کی تعداد 10 سے 15 ہزار کے درمیان تھی جنہیں  سادہ کھانا فراہم کیا گیا۔
عبدالمجید بادینی نے بتایا کہ انہوں نے دانستہ طور پر امیر اور بااثر طبقے کو مدعو نہیں کیا بلکہ بغیر کسی تفریق کے عام شہریوں کو شرکت کی دعوت دی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سراج الحق  صاحب کو اس لیے مدعو کیا کہ وہ ان سے بھی غریب ہیں۔
 ان کے مطابق ’شادیوں میں غیر ضروری نمود و نمائش، مہنگے ہوٹلوں اور پروٹوکول کلچر نے غریب طبقے کو خوشیوں سے دور کر دیا ہے  اسی سوچ کو بدلنے کے لیے انہوں نے یہ اقدام کیا۔‘
رکن بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے شادیوں میں اس روایت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جس کے تحت ولیمے میں آنے والوں سے رقم لی جاتی ہے یا مہنگے تحائف کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ولیمہ صدقہ اور خیرات ہے اور اسی نیت سے انہوں نے غریب عوام کو ترجیح دی۔

جوڑوں کے لیے فی کس 50 ہزار حقِ مہر رکن اسمبلی کی جانب سے ادا کیا گیا جبکہ دلہا دلہن کو کپڑوں کے تحفے بھی تحفے میں دیے گئے (فوٹو: عنایت اللہ)

تقریب میں شریک مقامی صحافی عنایت اللہ نے بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی اور مکمل طور پر عوامی نوعیت کی تقریب تھی تمام مہمانوں کو   بریانی  اور پانی  کی بوتل   دی گئی۔
ان کے مطابق رش کے باعث کھانے کی تقسیم کے دوران کچھ بدانتظامی ضرور دیکھی گئی تاہم مجموعی طور پر سینکڑوں رضاکار انتظامات سنبھالے ہوئے تھے۔
جہاں کئی افراد نے رکن اسمبلی کے سادہ اور عوامی طرزِ عمل کو سراہا وہیں بعض لوگوں نے اس پر تنقید بھی کی اور اسے عبدالمجید بادینی کی جانب سے شادی کی تقریب کو سیاسی جلسے کی شکل دینے کی کوشش قرار دیا۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق تقریب کے مہمان خصوصی تھے (فوٹو: عنایت اللہ)

خیال رہے کہ عبدالمجید بادینی کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں جعفرآباد سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 16 پر سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے بیٹے سمیت طاقتور جمالی خاندان کے امیدواروں کو شکست  کر   سیاسی حلقوں کو حیران کردیا تھا۔
جمالی خاندان گزشتہ سات دہائیوں سے اس حلقے کی سیاست پر حاوی رہا ہے۔ مقامی مبصرین کے مطابق عبدالمجید بادینی کی کامیابی کے پیچھے عوامی سیاست، سادہ طرزِ زندگی اور عام لوگوں سے قریبی تعلق اہم عوامل رہے ہیں۔اس سے قبل عبدالمجید بادینی کی گرین بس میں عام مسافر کی طرح سفر کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ 

شیئر: