Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی سی بی کے ہند پر ہرجانے کے ڈیڑھ ارب روپے ڈوبنے کاخدشہ ہے، احسان مانی

کراچی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے 2003 ءسے 2006ءتک صدرکے عہدے پر فائز رہنے والے احسان مانی نے کہا ہے کہ ہندسے قانونی جنگ میں پاکستان کے ڈیڑھ ارب روپے ڈوبنے کا خدشہ ظاہرکیا جانے لگا۔سابق صدر آئی سی سی نے کہا کہ مجھے آئی سی سی سے پتا چلا ہے کہ ہند کے خلاف ہرجانے کا پاکستانی کیس مضبوط نہیں، زرتلافی ملنے کا کوئی امکان نہیں لگتا، ویسے بھی اس لڑائی سے مسئلے کا حل نہیں نکلنے والا،کوئی درمیانی راہ تلاش کرنی چاہیے۔ بی سی سی آئی کا عالمی کرکٹ پر خاصا اثر ورسوخ ہے وہ دیگر بورڈز کو بھی ساتھ ملا لے گا اور ہم اکیلے رہ جائیں گے۔احسان مانی نے کہا کہ نجم سیٹھی نے بطور چیئرمین انڈین بورڈ سے معاہدہ کر کے بڑی غلطی کی تھی، انھیں اسے عوام کے سامنے لانا چاہیے، پتا تو چلے کہ اس میں زرتلافی کی شق شامل ہے بھی یہ نہیں، انڈین بورڈ پہلے بھی حکومتی انکار کا کہتا رہتا تھا مگر کرکٹ کبھی نہیں رکی، اب بھی درست حکمت عملی اپنائیں تو مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں عالمی تنہائی کا شکار ہے، ماضی میں ایسا نہیں تھا، آئی سی سی میں ہمارا بہت زیادہ اثرورسوخ ہوا کرتا تھا، کوئی کمیٹی ایسی نہ ہوتی جس میں پاکستانی نمائندگی نہ ہو، بدقسمتی سے اب کونسل میں پی سی بی کی کوئی آواز نہیں، ہمارا کوئی ریفری پینل میں شامل نہیں جبکہ امپائرز میں صرف علیم ڈار ہی الیٹ پینل کا حصہ ہیں، دیگر کیلئے بات کرنے والا کوئی موجود نہیں کیونکہ حکام کو کھیل کے معاملات کاکچھ پتا ہی نہیں۔احسان مانی نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے کرکٹ بورڈکے سربراہ کا تقرر قابل افسوس ہے، پہلے وہ ازخود اعلان کر دیتے تھے۔ اب 2 افراد کو گورننگ بورڈ میں نامزد کرتے ہیں اور ان میں سے ایک چیئرمین بن جاتا ہے، یہ طریقہ کار درست نہیں،اسی سے معاملات بگڑتے ہیں، پی سی بی کے انتظامات ایسے لوگوں کو سنبھالنے چاہئیں جنھیں کرکٹ کا کچھ علم ہو، سابق کرکٹرز کو ترجیح دینی چاہیے۔سابق صدر نے کہا کہ بورڈ کا آئین فراڈ ہے، اسے ختم کرنا پڑے گا، آئی سی سی بورڈز میں جمہوریت لانے کا کہتی مگر یہاں حکومتی مداخلت جاری ہے ۔چیئرمین کا انتخاب حقیقی جمہوری انداز میں ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں 20،25 افراد پی سی بی کے معاملات چلاتے تھے اب کئی سو ملازم ہیں۔حکام کے اخراجات بھی بے تحاشا ہیں، انھیں اکاونٹس کی تفصیلات ویب سائٹ پر دینی چاہئیں، کس آفیشل نے کتنی رقم خرچ کی سب کچھ عوام کے سامنے لائیں۔احسان مانی نے کہا کہ ذکاءاشرف اور نجم سیٹھی میں قانونی جنگ کے بعد شہریارخان پی سی بی میں استحکام لائے ورنہ آئی سی سی میں بھی ہمارا مذاق ہی بن رہا تھا۔ ایک میٹنگ میں ذکاءاور دوسری میں سیٹھی جاتے تھے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ شہریارخان اور نجم سیٹھی دونوں ہی ماضی میں مجھے بورڈ میں شامل ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں جو میں نے قبول نہیں کی،جب تک مکمل اختیار نہ ملے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
 

شیئر: