Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طواف کے دوران کی جانے والی 18غلطیاں

بعض لوگ حجر اسود تک پہنچنے سے پہلے طواف ختم کردیتے ہیں، طواف کی تکمیل کایقین کرلیا جائے کیونکہ ایک چکر کے کچھ حصے کو ترک کردینے سے پورا چکر باطل ہوجاتاہے
* * * محمد منیر قمر۔ الخبر* * *
بہت سارے عازمینِ حج طواف کے دوران مختلف غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ عام طور پر18غلطیاںکثرت سے دیکھنے میں آتی ہیں، جو غلطیاں کی جاتی ہیں انکی تفصیل کچھ اسطرح ہے:
1۔ طواف شروع کرتے وقت زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا،یہ غلط ہے۔ درست یہ ہے کہ دل سے نیت کرلی جائے اور زبان سے اسکا اظہار نہ کیا جائے۔
2۔ خانہ کعبہ کا طواف ’’حطیم‘‘ کے اندر سے کرنا بڑی غلطی ہے۔ طواف پورے خانہ کعبہ کا ہوتا ہے جو شخص طواف کرتے وقت ’’حطیم‘‘ کوترک کردے اسکا طواف نہیں ہوگا
۔3۔ یہ خیال کہ خانہ کعبہ کا طواف حجر اسود کا بوسہ لئے بغیر صحیح نہیں ہوتا غلط ہے۔ درست یہ ہے کہ حجر اسود کا بوسہ سنت ہے ۔ طواف کی صحت کی شرط نہیں۔اگر طواف کرنے والا حجر اسود تک آسانی سے نہ پہنچ سکتا ہو یا حجر اسود تک پہنچنے کیلئے اسے شدید مزاحمت اور طواف کرنے والوںکو اذیت میں مبتلا کرنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں حجر اسود کو بوسہ نہ دینا فرض ہے اور اشارے پر اکتفا کرلینا ہی بہترہے۔
4۔ بعض حضرات خانہ کعبہ کے چاروں گوشوں کا استلام ضروری سمجھتے ہیں۔ سنت سے صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام ثابت ہے۔ ان کے علاوہ خانہ کعبہ کے کسی بھی گوشے کا استلام سنت مبارکہ سے ثابت نہیں۔
5۔ رکن یمانی کو بوسہ دینا یا دُور سے اسکی طرف اشارہ کرنا غلط ہے۔ سنت یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو ہاتھ سے رکن یمانی کو چھو لیا جائے ورنہ بوسہ دیئے یا اشارہ کئے بغیر اسکے سامنے سے گزر جائیں۔
6۔ طواف کے ساتوں چکروں میں رمل کرنا درست نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ طوافِ قدوم اور طواف عمرہ کے ابتدائی 3 چکروں میں رمل یعنی قدرے اچھل کر چلنا مقرر ہے۔
7۔ طواف میں مردوں کا خواتین کو دھکے دینا یا خواتین کا مردوں کو دھکے دینا غلط ہے۔ مرد ہوں یا خواتین ہر ایک کا فرض ہے کہ
وہ ایک دوسرے کو دھکا دیئے بغیر طواف کریں۔
8۔ بعض خواتین کا طواف کرتے وقت اپنی گردن یا اپنے بازو یا سینہ کھولنا غلط ہے۔
ایسا کرنے سے ایسی جگہ فتنہ پھیلتا ہے جہاں فتنہ انگیزی زیادہ بری بات ہے، عبادت گزار اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری و حضوری کا اعزاز حاصل کرنے والی خواتین کیلئے ایسا کرنا کسی بھی شکل میں درست نہیں۔
9۔ طواف کے ہر چکر کیلئے دعائیں مختص کرنا بھی غلط ہے۔ نبی کریم سے ایسی کوئی دعا منقول نہیں جو طواف کے چکروں کیلئے مقررہو۔ پیغمبر اسلام سے صرف ایک دعا منقول ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ : رَبَّنَآاٰ تِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار(البقرہ201)۔
اسکا مفہوم یہ ہے کہ’’ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر اور آخرت میں بھی اچھائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچانا۔‘‘یہ دعا رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ جو دعا بھی دل میں آئے اور جسکا تعلق دنیا و آخرت کی پسندیدہ اچھائیوں کی طلب سے ہو وہ طواف کرتے ہوئے کی جاسکتی ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ طواف میں نبی کریم سے کوئی مخصوص دعا منقول نہیں، نہ تو آپ نے کسی دعا کا حکم دیا ہے اور نہ ہی کسی دعا کی تلقین کی ہے اور نہ آپ سے کوئی دعا سنی گئی ہے۔ طواف کے دوران تمام جائز دعائیں کی جائیں۔ عام طور پرمیزاب ِرحمت وغیرہ کے نیچے جو دعائیں کی جاتی ہیں انکی کوئی اساس نہیں ملتی۔10۔
دعا کرتے وقت اونچی آواز میں چیخ و پکار کرنا غلط ہے۔ ایسا کرنے سے خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے اور طواف کرنے والوں کو الجھن ہوتی ہے۔
11۔ طواف کے دوران قافلے کے کسی فرد کی جانب سے دعاؤں کی تلقین کرنا اور جواب میں پورے گروپ کی جانب سے اس دعا کو
دہرانا خلاف سنت ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسا کرنے سے دیگر طواف کرنے والوں کا دھیان بٹتا ہے اورانہیں اذیت بھی ہوتی ہے۔
12۔ حجر اسود کے سامنے دیر تک کھڑے ہونا غلط ہے، ایسا کرنے سے طواف کرنے والے دیگر بھائیوں کو تنگی محسوس ہوتی ہے۔ سنت یہ ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیا جائے یا اسکی طرف اشارہ کرکے کسی توقف کے بغیر آگے بڑھ جائے۔ 13۔ بعض حضرات خانہ کعبہ اور اسکے غلاف کو تبرک کی خاطر چھوتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔ خانہ کعبہ سے جائز تبرک طواف کی صورت میں مقرر ہے۔خانہ کعبہ کے غلاف کو چھونا رسول اللہسے ثابت نہیں۔
14۔ بعض حضرات خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اوپر والی چادر اتار لیتے ہیں اور صرف تہہ بند پر اکتفا کرتے ہیں۔ بعض حضرات تہہ بند ناف سے نیچے باندھ لیتے ہیں یا ان کا تہہ بند ناف سے نیچے پھسل جاتا ہے، ایسی صور ت میں انکی شرم گاہ کا کچھ حصہ نظرآ نے لگتا ہے۔ یہ شرعاً جائز نہیں۔
15۔ مقام ابراہیم کو چھونا اور اسے تبرک کی نیت سے بوسہ دینا غلط ہے ۔ درست یہ ہے کہ مقام ابراہیم کو نہ تو بوسہ دیا جائے اور نہ ہی چھو کر تبرک حاصل کرنے کا چکر چلایا جائے۔ رسول اللہ سے مقام ابراہیم کو چھونا اور بوسہ دینا ثابت نہیں۔
16۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ رکن یمانی کو بوسہ دینا یا حجر اسود کو بوسہ دینا عبادت نہیں بلکہ تبرک کی وجہ سے ہے، یہ سوچ غلط ہے۔ اس غلط سوچ کے نتیجے میں بعض حضرات حجر اسود کو چھوتے ہیں یا رومال رکن یمانی پر ڈال کر تبرک حاصل کرنے لگتے ہیں یہ سب غلط ہے۔ اسی طرح سے بعض والدین اپنے بچوں کو تبرک کی خاطر حجر اسود سے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیںیہ سب غلط ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ حجر اسود کا بوسہ اور رکن یمانی کا استلام نبی کریم کی پیروی میں کیا جاتا ہے۔
17۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو طواف کرائے اور اپنے بیٹے اور اپنے لئے طواف کی نیت کرلے تو یہ طواف صرف بیٹے کی طرف سے ہوگا اسکی جانب سے نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ طواف دونوں کی طرف سے کافی ہوگا کیونکہ طواف کی نیت یا تو دونوں نے کی ہے یا دونوں کی طرف سے نیت کرلی گئی ہے اور دونوں نے صحیح طواف کیا ہے لہذا طواف دونوں کا صحیح اور معتبر ہوگا۔
18۔ بعض لوگ حجر اسود تک پہنچنے سے چند قدم پہلے ہی طواف ختم کردیتے ہیں ۔فرض یہی ہے کہ طواف کی تکمیل کا پورا یقین کرلیا جائے کیونکہ ایک چکر کے کچھ حصے کو ترک کردینے سے پورے چکر کا عمل باطل ہوجاتاہے۔

شیئر: