عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف درخواست دائر، ’علاج کی سہولیات دستیاب رہیں گی‘
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف درخواست دائر، ’علاج کی سہولیات دستیاب رہیں گی‘
بدھ 19 اگست 2026 13:10
سابق وزیراعظم عمران خان تین سال سے جیل میں ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی حکومت کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
بدھ کو چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اختیار سماعت سے تجاوز کرتا ہے، اس لیے اس پر نظرثانی کی جائے۔
درخواست میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات اور ان میں ان کو سزا سنائے جانے کے حوالے سے تفصیل بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے وزیر مملکت طلال چوہدری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں بھی بانی کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ علاج ہر قیدی کا حق ہے مگر پرائیویٹ ہسپتال سے علاج ایک الگ معاملہ ہے۔
ان کے مطابق ’بانی کو پہلے کی طرح علاج کی سہولتیں دستیاب رہیں گی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ طعنے دیتے تھے کہ جب جیل جاتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں، مگر ہم ایسا نہیں کرتے۔
اس موقع پر وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی اسی موقف کو دوہرایا کہ علاج ہر قیدی کا حق ہے اور حکومت کا کام ہی یہی ہے کہ قیدی کو جیل مینوئل کے مطابق سہولت فراہم کرے۔
عطااللہ تارڑ اور طلال چوہدری سے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہر قیدی کو قانون کے مطابق علاج کا حق حاصل ہے (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)
ان کے بقول عدالت نے بھی کہا کہ ہے اس پر سیاست نہ کی جائے جبکہ ہم تو پہلے سے ہی صحت پر سیاست کے خلاف ہیں۔
خیال رہے منگل کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے 48 گھنٹے میں شفا ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ اس کے چند گھنٹے بعد وفاقی قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کے خلاف عدالت میں درخواست کرنے کا اعلان کیا تھا۔