ریاض مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں کے فن پاروں کی اوپن ایئر گیلری میں تبدیل
ریاض مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں کے فن پاروں کی اوپن ایئر گیلری میں تبدیل
بدھ 19 اگست 2026 12:38
پروگرام کا مستقل آرٹ کلیکشن 75 فن پاروں پر مشتمل ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ریاض میں آرٹ اب صرف آرٹ گیلریوں اور عجائب گھروں تک محدود نہیں رہا بلکہ فن پارے دارالحکومت کے روزمرہ کے منظر نامے کا حصہ بن چکے ہیں جن کا سامنا ریلوے سٹیشنوں، عوامی چوکوں اور کام کی جگہوں سے گزرنے والے افراد سے ہوتا رہتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق قصر الحکم میٹرو سٹیشن پر سعودی فنکار زمان جاسم کا فن پارہ ’وین دی مون از فُل‘ توجہ کا مرکز بنتا ہے جبکہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ کے جدید طرزِ تعمیر کے درمیان الیگزینڈر کالڈر کا مجسمہ بھی نمایاں ہے۔ قریب ہی رابرٹ انڈیانا کا معروف فن پارہ ’لوو‘ موجود ہے جبکہ کنگ عبدالعزیز روڈ پر واقع پیدل چلنے والا پل رات کے وقت اطالوی فنکار اینجیلو بونیلو کی تخلیق کردہ ایک روشن تنصیب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ فن پارے مختلف نسلوں، فنی مکاتب فکر اور تخلیقی طریقوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں روشنی، سٹیل، آواز، الفاظ اور روزمرہ کی اشیا سمیت متعدد مواد اور ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔
اس کے باوجود وہ دارالحکومت میں پھیلی ایک ہی فنی جگہ پر یکجا ہو کر آرٹ کو گلیوں، چوکوں، ٹرین سٹیشنوں، کام کی جگہوں اور روزمرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں لے آتے ہیں۔
یہ اقدام ریاض آرٹ پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز مارچ 2019 میں دارالحکومت ریاض کو اوپن ایئر آرٹ گیلری میں تبدیل کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت سعودی اور بین الاقوامی فنکاروں کے فن پارے اور فنی یادگاریں تخلیق کرکے شہر کے مختلف عوامی مقامات پر آویزاں کی جاتی ہیں جن میں رہائشی علاقے، باغات، پارکس، چوک، ٹرانسپورٹ سٹیشنز، پُل، شہر کے داخلی راستے اور دیگر عوامی مقامات شامل ہیں۔
پروگرام کا مستقل آرٹ کلیکشن 75 فن پاروں پر مشتمل ہے جو مختلف شہری مقامات پر نصب کیے گئے ہیں جن میں مختلف نسلوں اور تحریکوں سے تعلق رکھنے والے سعودی اور بین الاقوامی فنکاروں کا کام شامل ہے۔
یہ مجموعہ ہر فن پارے کو اس جگہ سے جوڑتا ہے جہاں وہ موجود ہے جس سے اس کو روایتی نمائش کی حدوں سے باہر ایک مستقل شناخت ملتی ہے۔
یہ تنوع ریاض کے عوامی فن کی ایک اہم خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں فن پاروں کی اہمیت صرف ان کی خوبصورتی یا فنکاروں کی شہرت میں نہیں بلکہ ان مقامات سے ان کے تعلق اور روزمرہ زندگی میں لوگوں کے ساتھ ان کے میل جول میں بھی ہے۔
ریاض آرٹ کے مستقل مجموعے میں سعودی آرٹ کے نمایاں فنکاروں کے ساتھ معروف بین الاقوامی فنکاروں کے فن پارے بھی شامل ہیں۔ یہ عوامی فن کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو شہر کی سڑکوں، چوکوں، ٹرانسپورٹ مراکز اور ثقافتی و معاشی علاقوں کو نئے بصری اور ثقافتی رنگ دیتا ہے۔
یہ مجموعہ ہر فن پارے کو اس جگہ سے جوڑتا ہے جہاں وہ موجود ہے (فوٹو: عرب نیوز)
یہ اقدام ریاض آرٹ کے دیگر پروگراموں کی بھی تکمیل کرتا ہے جن میں ’نور ریاض‘ اور ’طویق سکلپچر‘ سمپوزیم شامل ہیں جو مجسمہ سازی کے کام تخلیق کرنے کے لیے دنیا بھر سے فنکاروں کو اکٹھا کرتے ہیں اور سعودی عرب سے نکلنے والے پتھروں کو مستقل پبلک آرٹ میں بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔
دارالحکومت میں پبلک آرٹ کا فروغ ریاض میں سعودی وژن 2030 کے تحت جاری وسیع تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وژن میں معیارِ زندگی بہتر بنانے، ثقافتی اور تخلیقی شعبوں کو فروغ دینے اور ریاض کو فنون و ثقافت کے عالمی مرکز کے طور پر مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔