خیبر پختونخوا میں آج بھی قدیم دور میں استعمال ہونے والے برتن بنانے والے کاریگر موجود ہیں۔ یہ گل محمد خان کا آبائی کام ہے، ان کے مطابق شہتوت، اخروٹ اور دیگر لکڑیوں سے برتن بنائے جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں شیشے اور پلاسٹک کے برتن بھی اچھے ہیں مگر لکڑی والے پہلے نمبر پر ہیں۔
اردو نیوز کے نامہ نگار ادیب یوسفزئی کی رپورٹ