خلیجی ممالک امریکی فوج کو مدد فراہم کرنے سے باز رہیں: ایرانی مسلح افواج کی دھمکی
ایران کی مسلح افواج نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی فوج کی مدد کی تو اسے امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں شریک ہونا سمجھا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ دھمکی ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف علی عبداللہی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز سے گفتگو میں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی جارح فوج کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہولت فراہم کرنا، امریکی فوجی کارروائی میں شرکت کے مترادف ہوگا۔‘
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ 28 فروری کو اُس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ایران نے جواب میں میزائل اور ڈرون داغے اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
عبداللہی کے مطابق ’یہ بات ناممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جنگی طیارے، خصوصاً ایندھن بھرنے والے طیارے، میزبان ممالک کی اطلاع کے بغیر خطے کے فوجی اڈوں پر موجود ہوں۔‘
’خلیجِ عرب کے وہ ممالک جنہوں نے مختلف بیانات میں کہا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم صورتِ حال کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔‘
ایران کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ تعینات کیا جا رہا ہے۔
اسے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے، جس کا عملہ طویل عرصے سے سمندر میں موجود ہے اور اسے کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
