قدرتی وسائل سے مالا مال روس اور سعودی عرب اقتصادی پروگرام پر متفق
جمعرات 5 اکتوبر 2017 3:00
ماسکو(واس) وزیر تجارت و سرمایہ کاری ڈاکٹر ماجد القصبی نے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال روس اور سعودی عرب اقتصادی پروگرام پر متفق ہیں۔ اقتصادی وسائل میں تنوع پیدا کرنے کے اصول میں دونوں یقین رکھتے ہیں۔ اس کی بدولت دونوں ملک بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے تعاون کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ روسی ٹرانسپورٹ، پٹرول اور گیس کے شعبوں میں کام کرنے والی روسی کمپنیاں نیز کھارے پانی کو استعمال کے قابل بنانے والی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ القصبی نے جمعرات کو سعودی روسی انویسٹمنٹ فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ روس اور سعودی عرب بہت سارے عالمی امور میں ایک جیسا موقف رکھتے ہیں۔ دونوں کے مفادات کئی شعبوں میں مشترک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کے دورہ روس کی بدولت دونوں ملکوں کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 3ہفتے بعد سعودی روسی مشترکہ کمیشن کا اجلاس ریاض میں ہو گا۔اس میں سعودی عرب کے 85سرمایہ کار شریک ہوں گے۔ روسی انویسٹمنٹ فنڈ کی بھی نمائندگی ہو گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ روس کے ساتھ بھاری سرمایہ کاری کا آغاز پٹرول ، اس کی مصنوعات، پٹروکمیکل کے شعبے سے ہوگا۔ روس اور سعودی عرب اسلحہ سازی میں تعاون کریں گے۔ معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ بہت سارے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں تاہم توانائی اور پٹرول کے شعبے سب پر بھاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس سعودی ویژن2030میں غیر معمولی دلچسپی لے رہا ہے۔ اسی وجہ سے فریقین نے سعودی سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کیلئے خصوصی ٹیم کی تشکیل اور مشترکہ روسی سعودی کمیٹی قائم کی ہے۔ وزیر تجارت نے بتایا کہ سعودی عرب ٹیکنالوجی، بجلی اور پٹرول کے شعبوں میں ریسرچ کیلئے 200سعودی طلباء روس بھیجے گا۔